🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

13. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي النَّصِيحَةِ لِلْمُسْلِمِينَ بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي إِعَانَةِ الْمُسْلِمِ وَتَفْرِيحِ كَرْبِهِ وَقَضَاءِ حَاجَيْهِ وَمِثْرٍ عَوْرَتِهِ
مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9103
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الدِّينُ النَّصِيحَةُ قَالُوا لِمَنْ قَالَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دین خیرخواہی ہے۔ صحابہ نے کہا: کس کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی، اس کے رسول اور مسلمانوں کے حکمرانوں کے لیے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9103]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني: 11198، والبزار: 61، ابويعلي: 2372، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3281 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3281»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9104
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الدِّينُ النَّصِيحَةُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَنْ قَالَ لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دین خیرخواہی ہے۔ تین بار فرمایا، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کس کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی، اس کی کتاب اور مسلمانوں کے لیڈروں کے لیے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9104]
تخریج الحدیث: «متن الحديث صحيح، وقد تكلم بعض اھل العلم علي الاختلاف الذي وقع في الاسناد، أخرجه النسائي: 7/ 157، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7954 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7941»

الحكم على الحديث:
متن الحديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9105
عَنْ تَمِيمِ الدَّارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الدِّينُ النَّصِيحَةُ الدِّينُ النَّصِيحَةُ ثَلَاثًا وَفِي رِوَايَةٍ إِنَّمَا الدِّينُ النَّصِيحَةُ قَالُوا لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ
۔ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دین خیرخواہی ہے، دین خیرخواہی ہے۔ تین دفعہ فرمایا، ایک روایت میں ہے: صرف اور صرف دین خیرخواہی کا نام ہے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کس کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی، اس کی کتاب، اس کے رسول، مسلمانوں کے حکمرانوں اور عام مسلمانوں کے لیے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9105]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 55، وعلقه البخاري في صحيحه في باب قول النبي صلي الله عليه وآله وسلم: الدين النصيحة لله ولرسوله ولائمة المسلمين وعامتھم۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16940 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17064»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کے لیے خیر خواہییہ ہے کہ اس کی وحدانیت کے بارے میں صحیح اعتقاد رکھا جائے اور خلوص نیت کے ساتھ اس کی عبادت کی جائے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب کی خیرخواہییہ ہے کہ اس کی تصدیق کی جائے اور اس کے احکام پر عمل کیا جائے، رسول کے لیے خیر خواہییہ ہے کہ اس کی نبوت ورسالت کی تصدیق کی جائے اور اس کے اوامر و نواہی کے تقاضے پورے کیے جائیں،ائمہ مسلمین کے لیے خیرخواہییہ ہے کہ امورِ حق میں ان کی اطاعت کی جائے اور ان کی بغاوت نہ کی جائے اور عام مسلمانوں کے لیے خیر خواہییہ ہے کہ ان کی مصلحتوں کی طرف ان کی رہنمائی کی جائے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 55
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9106
عَنْ حَكِيمِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ عَمَّنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ دَعُوا النَّاسَ فَلْيُصِبْ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ فَإِذَا اسْتَنْصَحَ رَجُلٌ أَخَاهُ فَلْيَنْصَحْ لَهُ
۔ ایک صحابی ٔ رسول رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو چھوڑ دو تاکہ بعض بعض سے نفع حاصل کر سکے، ہاں جب کوئی کسی سے نصیحت طلب کرے تو وہ نصیحت کرے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9106]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه البخاري في التاريخ الكبير: 3/ 15، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 28282 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18471»
وضاحت: فوائد: … لوگوں کو چھوڑ دینے سے مراد یہ ہے کہ بیچنے والوں اور خریدنے والوں کو چھوڑ دو، وہ آپس میں سودا کر لیں گے، تم بیچ میں آ کر قیمتوں کے مشورے نہ دو اور دلّالی نہ کرو، ہاں جب کوئی آدمی مشورہ طلب کرے تو ذاتی مفاد سے بالا تر ہو کر اس کی خیرخواہی کر دی جائے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9107
عَنْ جَرِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أُبَايِعُكَ عَلَى الْإِسْلَامِ فَقَبَضَ يَدَهُ وَقَالَ النُّصْحُ لِكُلِّ مُسْلِمٍ
۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں اسلام پر آپ کی بیعت کرتا ہوں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ پیچھے ہٹا لیا اور فرمایا: ہر مسلمان کے لیے خیر خواہی کرنی ہو گی۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9107]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19161 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19374»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9108
عَنْ زَيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَامَ يَخْطُبُ يَوْمَ تُوُفِّيَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَقَالَ عَلَيْكُمْ بِاتِّقَاءِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالْوَقَارِ وَالسَّكِينَةِ حَتَّى يَأْتِيَكُمْ أَمِيرٌ فَإِنَّمَا يَأْتِيكُمُ الْآنَ ثُمَّ قَالَ اسْتَعْفُوا لِأَمِيرِكُمْ فَإِنَّهُ كَانَ يُحِبُّ الْعَفْوَ وَقَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أُبَايِعُكَ عَلَى الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاشْتَرَطَ عَلَيَّ وَالنُّصْحَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ وَفِي رِوَايَةٍ وَتَنْصَحُ لِلْمُسْلِمِ وَتَبْرَأُ مِنَ الْكَافِرِ فَبَايَعْتُهُ عَلَى هَذَا وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ إِنِّي لَكُمْ لَنَاصِحٌ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَنَزَلَ
۔ زیاد بن علاقہ کہتے ہیں: جس دن سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے، اس دن سیدنا جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر مسلمانوں سے خطاب کیا اور کہا: تم پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور نیا امیر آنے تک وقار اور سکینت اختیار کرو، بس وہ ابھی آنے والا ہے۔ پھر کہا: اپنے امیر سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کے لیے معافی کا سوال کرو، کیونکہ وہ معافی کو پسند کرتے تھے۔ ایک حدیث بھی سن لو، أَمَّا بَعْدُ! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور کہا: میں اسلام پر آپ کی بیعت کرتا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ پر یہ شرط لگائی کہ میں ہر مسلمان کے لیے خیرخواہی کروں۔ ایک روایت میں ہے: اور تو ہر مسلمان کے لیے خیرخواہی کرے اور کافر سے براء ت کا اظہار کرے۔ اس مسجد کے ربّ کی قسم! میں نے اسی چیز پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، اور اب میں تم سب کی خیرخواہی کر رہا ہوں۔ پھر انھوں نے بخشش کا سوال کیا اور نیچے اتر آئے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9108]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 58، ومسلم: 56، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19153 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19365»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 58
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9109
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَحَبُّ مَا تَعَبَّدَنِي بِهِ عَبْدِي إِلَيَّ النُّصْحُ لِي
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ چیز، جس کے ذریعے بندہ میری عبادت کرتا ہے، یہ ہے کہ میرے لیے خیرخواہی کی جائے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9109]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، عبيدالله بن زحر الافريقي ضعيف، وعلي بن يزيد بن ابي ھلال الالھاني واھي الحديث، أخرجه الطبراني في الكبير: 7880، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22191 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22544»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9110
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَفَعَهُ وَقَالَ شَاذَانُ مَرَّةً عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ وَذَكَرَ شَاذَانُ أَيْضًا حَدِيثَ الدَّالُّ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ
۔ سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص امانتدار ہو تا ہے، جس سے مشورہ طلب کیا جائے۔ شاذان راوی نے یہ حدیث بھی ذکر کی: نیکی پر رہنمائی کرنے والا اس نیکی کو کرنے والے کی طرح ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9110]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير ف: 17/ 629، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22360 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22718»
وضاحت: فوائد: … مسلمان کے ساتھ خیرخواہی کرنے کا مطلب ہے کہ مسلمان کے لیے خیر و بھلائی کو پسند کرنا، یہ بڑی جامع احادیث ہیں، بظاہر تو دو چار الفاظ پر مشتمل ہیں کہ ہر مسلمان کے لیے خیر خواہی کرنی ہو گی۔ لیکن دوسرے تمام مسلمانوں کے جملہ حقوق بیان کر دیئے ہیں، کسی کے لیے خیر چاہنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ حتی الوسع اس کو فائدہ پہنچایا جائے، اس کو اچھا مشورہ دیا جائے اور اس کو کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے، بالخصوص جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے مشورہ طلب کرے تو مشورہ دیتے وقت تمام مفید اور مضر پہلوؤں کو واضح کیا جائے اور کسی بخل سے کام نہ لیا جائے۔
اگلے باب کی احادیث پر غور کرنے سے خیر خواہی کا مفہوم سمجھنے میں مدد ملے گی۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9111
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيمَنْ عِنْدَهُ وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مومن سے دنیا کی تکالیف میں سے کوئی تکلیف دور کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی تکالیف میں سے ایک تکلیف دور کرے گا، جو آدمی کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا، جو فرد کسی تنگدست اور بدحال پر آسانی کرے گا اللہ تعالیٰ اس پر دنیا و آخرت میں آسانی فرمائے گا، اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد میں لگا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی تائید ونصرت میں لگا رہتا ہے، اور جو علم کی جستجو میں کسی راستے پر چلتا ہے، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے جنت کی طرف جانے والے راستے کو آسان کردیتا ہے، جب لوگ اللہ تعالی ٰکے کسی گھر میں جمع ہو کر کتاب ِ الہی کی تلاوت کرتے ہیں اور اس کی ایک دوسرے کو تعلیم دیتے ہیں تو ان پر سکینت کا نزول ہوتا ہے، رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر ان ہستیوں میں کرتا ہے، جو اس کے پاس ہیں اور جس شخص کو اس کے عمل نے پیچھے کر دیا، اس کا نسب اس کو آگے نہیں لے جا سکے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9111]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2699، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7427 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7421»
وضاحت: فوائد: … آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ آخرت کے سلسلے میں اعلی نسب اور آباء و اجداد کی عظمت کام نہیں آئے گی، جس کا عمل ناقص ہو گی، اس کی قدر نہیں ہو گی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2699
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9112
عَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ مَخْلَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا فِي الدُّنْيَا سَتَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَنْ نَجَّى مَكْرُوبًا فَكَّ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي حَاجَتِهِ
۔ سیدنا مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا، جو آدمی کسی مغموم اور پریشان حال کو نجات دلاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی روزِ قیامت کی پریشانیوں میں سے ایک پریشانی دور کر دے گا اور جو آدمی اپنے بھائی کی حاجت کو پورا کرنے میں لگا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت کو پورا کرتا رہتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9112]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الاوسط: 8129، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16959 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17084»
وضاحت: فوائد: … جب کسی مسلمان کے شرّ سے دوسرے مسلمان کو نقصان پہنچنے کا واضح خطرہ ہو تو ایسے میں دوسرے مسلمان کو متنبہ کرنے کے لیے محدود حد تک پردہ پوشی کا قانون توڑ دینا چاہیے،یہ بات احادیث سے ثابت ہوتی ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں