الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ مَا وَصَفَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِاذْهَابِ الْغَضَبِ
غصے کو ختم کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیان کیے گئے طریقے کا بیان
حدیث نمبر: 9180
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ ثَنَا وَائِلٌ صَنْعَانِيٌّ مُرَادِيٌّ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ إِذْ دَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَكَلَّمَهُ بِكَلَامٍ أَغْضَبَهُ قَالَ فَلَمَّا أَنْ غَضِبَ قَامَ ثُمَّ عَادَ إِلَيْنَا وَقَدْ تَوَضَّأَ فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي عَطِيَّةَ وَقَدْ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِنَّ الْغَضَبَ مِنَ الشَّيْطَانِ وَإِنَّ الشَّيْطَانَ خُلِقَ مِنَ النَّارِ وَإِنَّمَا تُطْفَأُ النَّارُ بِالْمَاءِ فَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ) )
۔ سیدنا عطیہ رضی اللہ عنہ، جن کو صحبت کا شرف حاصل تھا، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک غضب شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ کو پانی کے ذریعے بجھایا جاتا ہے، اس لیے جب تم میں سے کوئی غصے میں آ جائے تو وہ وضو کیا کرے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9180]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابووائل الصنعاني المرادي ضعيف، وابو عروة مجھول، أخرجه ابوداود: 4784، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17985 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18148»
وضاحت: فوائد: … یہ بات احادیث سے ثابت ہے کہ غصہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 9181
عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ أَحَدُهُمَا حَتَّى إِنَّهُ لَيُتَخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّ أَنَفَهُ لَيَتَمَزَّعُ مِنَ الْغَضَبِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ يَقُولُهَا هَذَا الْغَضْبَانُ لَذَهَبَ عَنْهُ الْغَضَبُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں دو آدمی ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے اور ان میں سے ایک اس قدر طیش میں آیا کہ یہ خیال ہونے لگا کہ غصے کی وجہ سے اس ناک پھٹ جائے گی، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ غصے والا آدمی اس کو کہے تو اس کا غصہ ختم ہو جائے گا، وہ کلمہ یہ ہے: اَللّٰھُمْ اِنَّی اَعَوْذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔ (اے اللہ! میں شیطان مردود سے تیری پناہ میں آتا ہوں)۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9181]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 4780، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22086 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22436»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9182
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا إِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ قَائِمٌ فَلْيَجْلِسْ فَإِنْ ذَهَبَ عَنْهُ الْغَضَبُ وَإِلَّا فَلْيَضْطَجِعْ
۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا: جب تم میں سے کسی کو غصہ آ جائے اور وہ کھڑا ہو تو وہ بیٹھ جائے، اگر غصہ ختم ہو جائے تو ٹھیک، وگرنہ لیٹ جائے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9182]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 4782، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21348 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21675»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں غصے کا علاج بتایا گیا ہے کہ آدمی شیطان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے اور اگر کھڑا ہے تو بیٹھ جائے اور اگر بیٹھا ہے تو لیٹ جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح