🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي عَظْمِ الْغَيْظِ وَعَدْمِ الْغَضَبِ
غصے کو پی جانے اور غصے نہ ہونے کی ترغیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9169
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِنْ حَدِيثٍ طَوِيلٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (مَا مِنْ جَرْعَةٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ جَرْعَةِ غَيْظٍ يَكْظِمُهَا عَبْدٌ مَا كَظَمَهَا عَبْدٌ لِلَّهِ إِلَّا مَلَأَ اللَّهُ جَوْفَهُ إِيمَانًا) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی گھونٹ ایسا نہیں ہے، جو اللہ تعالیٰ کے ہاں غصے کے اس گھونٹ سے زیادہ پسندیدہ ہو، جس کو بندہ پی جاتا ہے، جب بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایسے گھونٹ کو پیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے پیٹ کو ایمان سے بھر دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9169]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطيالسي: 2726، والطبراني: 12217، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3017 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3017»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ نے پرہیز گار لوگوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا: {الَّذِیْنَیُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّاء ِ وَالضَّرَّاء ِ وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۔} … جو خوشی اور تکلیف میں خرچ کرتے ہیں اور غصے کو پی جانے والے اور لوگوں سے در گزر کرنے والے ہیں اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (سورۂ آل عمران: ۱۳۴)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9170
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (مَا تَجَرَّعَ عَبْدٌ جَرْعَةً أَفْضَلَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ جَرْعَةِ غَيْظٍ يَكْظِمُهَا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ تَعَالَى) )
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندے نے کوئی ایسا گھونٹ نہیں پیا، جو اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ فضیلت والا ہو غصے کے اس گھونٹ سے، جس کو وہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی تلاش کرنے کے لیے پی جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9170]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطيالسي: 2726، والطبراني: 12217، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3017 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6114»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9171
عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ قَالَ ( (مَنْ كَظَمَ غَيْظَهُ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَى أَنْ يَنْتَصِرَ دَعَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ فِي حُورِ الْعِينِ أَيَّتَهُنَّ شَاءَ وَمَنْ تَرَكَ أَنْ يَلْبَسَ صَالِحَ الثِّيَابِ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهِ تَوَاضُعًا لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى دَعَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي حُلَلِ الْإِيمَانِ أَيَّتَهُنَّ شَاءَ) )
۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص غصے کو پی جائے، حالانکہ وہ بدلہ لینے پرقادر بھی ہو، اللہ تعالیٰ اسے تمام مخلوقات کے سامنے بلائے گا اور اس کو یہ اختیار دے گا کہ وہ جس حورِ عین کو پسند کرتا ہے، اس کو لے لے۔اور جس نے اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع کرتے ہوئے اچھا لباس نہیں پہنا، حالانکہ وہ اس کی قدرت رکھتا تھا، تو اللہ تعالیٰ اس کوبھی ساری مخلوقات کے سامنے بلائے گا اور اسے یہ اختیار دے گا کہ وہ ایمان کی جو پوشاک پسند کرتا ہے، وہ پہن لے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9171]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 415، والبيھقي في الشعب: 6149، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15619 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15704»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9172
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ وَلَكِنَّ الشَّدِيدَ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہت پچھاڑنے والا طاقتور نہیں ہوتا، بلکہ اصل طاقتور اور پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو پا لیتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9172]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2609، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7219 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7218»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9173
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ( (مَا تَعُدُّونَ فِيكُمُ الصُّرَعَةَ) ) قَالَ قُلْنَا الَّذِي لَا يَصْرَعُهُ الرِّجَالُ قَالَ ( (لَا وَلَكِنَّ الصُّرَعَةَ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم زبردست پہلوان کس کو سمجھتے ہو؟ ہم نے کہا: وہ ہے کہ جس کو دوسرے لوگ نہ پچھاڑ سکتے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، زبردست پہلوان تو وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر کنٹرول کر لیتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9173]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6442، ومسلم: 2608، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3626 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3626»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9174
عَنِ ابْنِ حَصْبَةَ أَوْ أَبِي حَصْبَةَ عَنْ رَجُلٍ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَقَالَ ( (تَدْرُونَ مَا الصُّرَعَةُ) ) قَالَ قَالُوا الْصَّرِيعُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ الرَّجُلُ يَغْضَبُ فَيَشْتَدُّ غَضَبُهُ وَيَحْمَرُّ وَجْهُهُ وَيَقْشَعِرُّ شَعْرُهُ فَيَصْرَعُ غَضَبَهُ وَإِنَّمَا تُطْفَأُ النَّارُ بِالْمَاءِ) )
۔ ابن حصبہ یا ابو حصبہ ایک ایسے صحابی سے بیان کرتے ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطاب کے وقت موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ بڑا پہلوان کون ہے؟ انھوں نے کہا: پچھاڑنے والا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سارے کا سارے پہلوان، بڑے سے بڑاپہلوان وہ آدمی ہے جسے غصہ آتا ہے، پھر اس کا غصہ سخت ہو جاتا ہے، چہرہ سرخ ہونے لگتا ہے اور رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں، لیکن وہ اپنے غصے پر قابو پا لیتا ہے، اور بیشک آگ کو پانی کے ذریعے ہی بجھایا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9174]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه البيھقي في الشعب: 3341، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23116 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23503»
وضاحت: فوائد: … لوگ جسمانی لحاظ سے تنومند اور طاقتور شخص کو پہلوان سمجھتے ہیں، لیکن شریعت ِ اسلامیہ کی روشنی میں اصل پہلوان وہ ہے جو غیظ و غضب کے وقت اپنے جذبات پر قابو رکھتا ہے اور کوئی ایسا اقدام نہیں کرتا، جس پر اسے بعد میں ندامت ہو۔ جیسے عام لوگ غصے کی حالت میں شیطانی اور دیوانی جذبات سے سرشار ہو کر اپنا بہت زیادہ نقصان کر دیتے ہیں اور پھر ندامت کے آنسو بہانا شروع کر دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے پرہیز گار لوگوں کی صفت یہ بیان کی ہے کہ وہ غصہ پی جانے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں، درج ذیل حدیث سے غصہ پی جانے کی اہمیت کو بآسانی سمجھا جا سکتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9175
عَنْ جَارِيَةَ بْنِ قُدَامَةَ السَّعْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْ لِي قَوْلًا يَنْفَعُنِي وَأَقْلِلْ لَعَلِّي أَعِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَا تَغْضَبْ) ) فَأَعَادَ عَلَيْهِ حَتَّى أَعَادَ عَلَيْهِ مِرَارًا كُلَّ ذَلِكَ يَقُولُ ( (لَا تَغْضَبْ) )
۔ سیدنا جاریہ بن قدامہ سعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی نفع بخش بات بتلاؤ، لیکن وہ مختصر ہونی چاہیے، تاکہ میں اس کو یاد کر سکوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو غصے نہ ہوا کر۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئی دفعہ یہ بات دوہرائی اور ہر بار یہی فرماتے رہے کہ تو غصہ نہ کر۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9175]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 532، وابويعلي: 6838، والطبراني: 2102، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20357 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20626»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سائل اور مخاطب کی صلاحیت کودیکھ کر اس کا مطالبہ پورا کرتے تھے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9176
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي قَالَ ( (لَا تَغْضَبْ) ) قَالَ قَالَ الرَّجُلُ فَفَكَّرْتُ حِينَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ فَإِذَا الْغَضَبُ يَجْمَعُ الشَّرَّ كُلَّهُ
۔ ایک صحابی ٔ رسول بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی نصیحت فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو غصے نہ ہوا کر۔ اس آدمی نے کہا: جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان پر غور کیا تو یہ نتیجہ نکالا کہ غصہ سارے کے سارے شرّ کو محیط ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9176]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه عبد الرزاق: 20286، والبيھقي: 10/ 105، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23171 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23558»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9177
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ مُرْنِي بِأَمْرٍ وَلَا تُكْثِرْ عَلَيَّ حَتَّى أَعْقِلَهُ قَالَ ( (لَا تَغْضَبْ) ) فَأَعَادَ عَلَيْهِ قَالَ ( (لَا تَغْضَبْ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: مجھے کوئی حکم دیں اور زیادہ چیزوں کا ذکر نہ کریں، تاکہ میں اس کو سمجھ سکوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غصے نہ ہوا کر۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی بات دوہراتے ہوئے فرمایا کہ غصے نہ ہوا کر۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9177]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6116، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8744 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8729»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9178
عَنْ عَطِيَّةَ السَّعْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِذَا اسْتَشَاطَ السُّلْطَانُ تَسَلَّطَ الشَّيْطَانُ) )
۔ سیدنا عطیہ سعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب حکمران طیش میں آتا (اور غصے سے آگ بگولا ہوتا) ہے تو اس وقت شیطان مسلط ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9178]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال محمد بن عطية، أخرجه الطبراني في الكبير: 17/444، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17984 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18147»
وضاحت: فوائد: … حکمرانوں کو صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے اور غیظ و غضب کی عادت کو مکمل طور پر ختم کر دینا چاہیے، اسی طرح لوگوںکے لیے بھی ناجائز ہے کہ ایسے امور کو سر انجام دیں، جن سے حکمران کو غصہ آتا ہو۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں