🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الرِّفْقِ وَمَا جَاءَ فِي فَضْلِهِ
نرمی کی ترغیب دلانے اور اس کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9191
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نرمی والا ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے اور نرمی کی وجہ سے وہ کچھ عطا کرتا ہے، جو سختی اورتشدد پر عطا نہیں کرتا۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9191]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 4807، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16802 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16925»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ بہت مہربان ہے، وہ ان کے ساتھ آسانی کاارادہ کرتا ہے، نہ کہ تنگی کا، یہی وجہ ہے کہ اس نے جنت جیسا عظیم انعام دینے کے لیے سہولت آمیز شریعت کو مرتب کیا ہے اور وہ اپنے بندوں میں بھی نرمی اور مہربانی کو پسند کرتاہے۔

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9192
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اس طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9192]
تخریج الحدیث: «حديث حسن في الشواھد، أخرجه البزار: 756، والبيقھي في الشعب: 8415، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 902 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 902»

الحكم على الحديث: حديث حسن في الشواھد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9193
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُحْرَمِ الرِّفْقَ يُحْرَمِ الْخَيْرَ
۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو نرمی سے محروم رہا، وہ خیر سے محروم رہا۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9193]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2592، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19252 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19465»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 2592
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9194
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ الْحَارِثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَبْدُو قَالَتْ نَعَمْ كَانَ يَبْدُو إِلَى هَذِهِ التِّلَاعِ فَأَرَادَ الْبَدَاوَةَ مَرَّةً فَأَرْسَلَ إِلَى نَعَمٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَأَعْطَانِي مِنْهَا نَاقَةً مُحَرَّمَةً ثُمَّ قَالَ لِي يَا عَائِشَةُ عَلَيْكِ بِتَقْوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالرِّفْقِ فَإِنَّ الرِّفْقَ لَمْ يَكُ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا زَانَهُ وَلَمْ يُنْزَعْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ
۔ مقدام بن شریح اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحرائی زندگی کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان ٹیلوں پر جایا کرتے تھے، ایک دفعہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحرائی زندگی کا ارادہ کیا تومیری طرف صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹنی، جس پر ابھی تک سواری نہیں کی گئی تھی، بھیجی اور فرمایا: عائشہ! اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور نرمی کرنا، کیونکہ جس چیز میں بھی نرمی ہوتی ہے، وہ اُس کو مزین کردیتی ہے اور جس چیز سے نرمی چھین لی جائے، وہ اُس کو عیب دار بنا دیتی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9194]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 2478، 4808، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24307 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24811»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ٹیلوں کی طرف نکل جانا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بسا اوقات ایسا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصدخلوت میں جا کر ذکر کرنا ہوتا تھا۔

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9195
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِأَهْلِ بَيْتٍ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمِ الرِّفْقَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی گھر والوں سے خیر و بھلائی کر ارادہ کرتا ہے تو ان کو نرمی کرنے کی توفیق دے دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9195]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البيھقي في الشعب: 6559، والبخاري في التاريخ الكبير: 1/ 416، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24427 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24931»

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9196
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ مَنْ رَفَقَ بِأُمَّتِي فَارْفُقْ بِهِ وَمَنْ شَقَّ عَلَيْهِمْ فَشُقَّ عَلَيْهِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! جس نے میری امت کے ساتھ نرمی والا معاملہ کیا، تو اس پر نرمی کر اور جس نے میری امت پر سختی کی، تو بھی اس پر سختی کر۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9196]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الاوسط: 362، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24337 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24841»
وضاحت: فوائد: … نرمی ایسا زیور ہے کہ اس سے متصف شخص لوگوں میں بھی ہر دلعزیز اور مقبول ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی محبوب ہو جاتا ہے، نرمی جیسی صفت صبر وحلم، تحمل و برداشت اور عفوو درگزر کو جنم دیتی ہے کہ جن کی بنا پر دشمن بھی دوست بن جاتے ہیں، نرمی حکیم اور دانا لوگوں کی صفت ہے، وہ اس کی روشنی میں ہر انسان سے پیش آتے ہیں۔ جبکہ نرمی سے محروم آدمی لوگوں کی نگاہوں میں بھی معیوب چیز کی طرح حقیر ہو جاتا ہے اور عند اللہ بھی ناپسندیدہ ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں