الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الرِّفْقِ بِالْحَيَوَانِ
حیوان کے ساتھ نرمی کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9197
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ وَهُمْ وُقُوفٌ عَلَى دَوَابَّ وَرَوَاحِلَ فَقَالَ لَهُمْ ارْكَبُوهَا سَالِمَةً وَدَعُوهَا سَالِمَةً وَلَا تَتَّخِذُوهَا كَرَاسِيَّ لِأَحَادِيثِكُمْ فِي الطُّرُقِ وَالْأَسْوَاقِ فَرُبَّ مَرْكُوبَةٍ خَيْرٌ مِنْ رَاكِبِهَا وَأَكْثَرُ ذِكْرًا لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ
۔ سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے، جو ایک جگہ پر کھڑے چوپائیوں اور سواریوں پر بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ان جانوروں پر سوار ہو، اس حال میں کہ یہ صحت مند ہوں اور ان کو صحت و سا لمیت کی حالت میں ہی چھوڑا کرو اور راستوں اور بازاروں میں باتیں کرنے کے لیے ان کو کرسیاں نہ بنا لو (یعنی خواہ مخواہ ان پر نہ بیٹھے رہو)، پس کتنی ہی سواریاں ہیں، جو اپنے سواروں سے بہتر اور ان کی بہ نسبت اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والی ہوتی ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9197]
تخریج الحدیث: «حديث حسن الي قوله: ولا تتخذوھا كراسي۔ وھذا اسناده ضعيف، أخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 432، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15629 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15714»
وضاحت: فوائد: … یہ بھی اللہ تعالیٰ کا بنی آدم پر احسان ہے کہ اس نے جانوروں کو قوت ِ گویائی عطا نہیں کی، وگرنہ اس سے لوگوں کو کافی ساری پریشانی ہو سکتی تھی، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انسان من مانی پر اتر آئے اور بے زبان مخلوق کا کوئی لحاظ نہ کرے، اگر اللہ تعالیٰ نے انسان کی خدمت کی خاطر جانوروں میں بھوک، پیاس اور مشقت کا اظہار کرنے کے لیے ان کو بولنے کی قوت نہیں دی تو انسان کو یہ وصیت کر دی کہ وہ نہ صرف اس چیز کا احساس کرے، بلکہ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ سے ڈرے۔ یہ کتنی بڑی بات ہے کہ جانوروں کے حقوق کا خیال رکھنا خوف ِ خدا کا تقاضاہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9198
عَنْ سَوَادَةَ بْنِ الرَّبِيعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ فَأَمَرَ لَهُ بِذَوْدٍ ثُمَّ قَالَ إِذَا رَجَعْتَ إِلَى بَيْتِكَ فَمُرْهُمْ فَلْيُحْسِنُوا غَذَاءَ رِبَاعِهِمْ وَمُرْهُمْ فَلْيُقَلِّمُوا أَظْفَارَهُمْ وَلَا يَعْبِطُوا بِهَا ضُرُوعَ مَوَاشِيهِمْ إِذَا حَلَبُوا
۔ سیدنا سوادہ بن ربیع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے کچھ اونٹنیوں کا حکم دیا اور مجھے فرمایا: جب تو اپنے گھر پہنچے تو انھیں کہنا کہ موسم بہار میں پیدا ہونے والے ان کے بچوں کو اچھی غذادیں، نیز انھیں کہنا کہ وہ اپنے ناخن تراش لیں تاکہ دودھ دوہتے وقت مویشیوں کے تھنوں کو خون آلود نہ کر دیں۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9198]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في الكبير: 6482، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15961 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16057»
وضاحت: فوائد: … دودھ دوہتے وقت نرم انداز اختیار کیا جائے اور دوہنے کے وقت ناخن کٹے ہوئے ہوں، تاکہ جانور کو تکلیف نہ ہو۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9199
عَنْ ضَرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَهْدَيْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ لِقْحَةً (وَفِي رَوَايَةٍ بَعَثَنِي أَهْلِي بِلُقُوحٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنِي أَنْ أَحْلُبَهَا) قَالَ فَحَلَبْتُهَا قَالَ فَلَمَّا أَخَذْتُ لِأُجْهِدَهَا قَالَ لَا تَفْعَلْ دَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِ
۔ سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک دودھ والی اونٹنی بطورِ تحفہ دی، ایک روایت میں ہے: میرے بعض اہل خانہ نے مجھے دودھ والی اونٹنیاں دے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کو دوہوں، پس میں نے ان کو دوہا اور جب میں نے مشقت کے ساتھ سارا دودھ نکالنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح نہ کر، بلکہ(مزید دودھ) کا سبب بننے والا دودھ (تھنوں میں) چھوڑ دیا کر۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9199]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19190»
وضاحت: فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کے آخری الفاظ کا یہ معنی بیان کیا: دوہنے والے کو چاہیے کہ وہ دودھ کی کچھ مقدار تھنوں میں باقی رہنے دے اور ان کو مکمل نہ نچوڑ لے، کیونکہ دوہنے کے بعد تھنوں میں باقی رہنے والا دودھ مزید دودھ کے اترنے کا سبب بنے گا اور تھنوں کو مکمل نچوڑ لینے کی صورت میں پچھلا دودھ کافی دیر کے بعد اترے گا۔ (صحیحہ: ۱۸۶۰)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9200
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يَحْلُبُ فَقَالَ دَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس سے گزرے اور وہ دودھ دوہ رہا تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (مزید دودھ) کا سبب بننے والا دودھ (تھنوں میں) رہنے دے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9200]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18999»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9201
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَادِيَةِ إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَأَعْطَى نِسَاءَهُ بَعِيرًا غَيْرِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطَيْتَهُنَّ بَعِيرًا بَعِيرًا غَيْرِي فَأَعْطَانِي بَعِيرًا آدَمَ صَعْبًا لَمْ يُرْكَبْ عَلَيْهِ (وَفِي رِوَايَةٍ فَجَعَلْتُ أَضْرِبُهُ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ ارْفُقِي بِهِ فَإِنَّ الرِّفْقَ لَا يُخَالِطُ شَيْئًا إِلَّا زَانَهُ وَلَا يُفَارِقُ شَيْئًا إِلَّا شَانَهُ)
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دفعہ صدقہ کے اونٹوں کی طرف جنگل میں گئے اور میرے علاوہ اپنی تمام بیویوں کو اونٹ دیے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے میرے علاوہ سب کو ایک ایک اونٹ دیا ہے؟ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک سخت اونٹ دیا، اس پر ابھی تک سوار نہیں ہوا گیا تھا، پس میں اس کو مارنے لگی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! نرمی کرنا، کیونکہ جس چیز میں بھی نرمی ہوتی ہے، وہ اُس کو مزین کردیتی ہے اور جس چیز سے نرمی جدا ہوتی ہے، وہ اُس کو عیب دار بنا دیتی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9201]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 2478، 4808، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24808 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25319»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9202
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيَادٍ عَنِ ابْنَيْ بُسْرٍ الْمُسْلِمَيْنِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَيْهِمَا فَقُلْتُ يَرْحَمُكُمَا اللَّهُ الرَّجُلُ مِنَّا يَرْكَبُ دَابَّتَهُ فَيَضْرِبُهَا بِالسَّوْطِ وَيَكْفَحُهَا بِاللِّجَامِ هَلْ سَمِعْتُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ قَالَا مَا سَمِعْنَا فِي ذَلِكَ شَيْئًا فَإِذَا امْرَأَةٌ قَدْ نَادَتْ مِنْ جَوْفِ الْبَيْتِ أَيُّهَا السَّائِلُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ {وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ} [الأنعام: 38] فَقَالَ هَذِهِ أُخْتُنَا وَهِيَ أَكْبَرُ مِنَّا وَقَدْ أَدْرَكَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ عبد اللہ بن زیاد کہتے ہیں: بسر کے دو مسلمان بیٹے تھے، میں ان کے پاس گیا اور کہا: اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے، بات یہ ہے کہ ایک آدمی اپنی سواری پر سوار ہوتا ہے اور اسے کوڑے سے مارتا بھی ہے اور لگام کے ذریعے کھینچتا بھی ہے، کیا تم نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی حدیث سنی ہے؟ انھوں نے کہا: ہم نے تو اس کے بارے میں کچھ نہیں سنا، لیکن پھر اچانک گھر کے اندر سے ایک عورت کی آواز آئی، اس نے کہا: سوال کرنے والے! اللہ تعالیٰ کہتا ہے: اور جتنے قسم کے جاندار زمین پر چلنے والے ہیں اور جتنے قسم کے پرندے ہیں کہ اپنے دونوں بازوؤں سے اڑتے ہیں،یہ سب تمہاری طرح کے گروہ ہیں، ہم نے دفتر میں کوئی چیز نہیں چھوڑی۔ (سورۂ انعام: ۳۸) پھر اس نے کہا: یہ ہماری بہن ہے، عمر میں ہم سے بڑی ہے اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پایا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9202]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17686 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17837»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9203
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گدھا دیکھا، اس کو چہرے پر داغا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے یہ کام کیا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9203]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2117، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14164 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14211»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9204
عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ قَالَ فَطَفِقْتُ أَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَا أَذْكُرُ مَا أَسْأَلُهُ عَنْهُ فَقَالَ اذْكُرْهُ قَالَ وَكَانَ مِمَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ أَنْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الضَّالَّةُ (وَفِي رِوَايَةٍ الضَّالَّةُ مِنَ الْإِبِلِ) تَغْشَى حِيَاضِي وَقَدْ مَلَأْتُهَا مَاءً لِإِبِلِي فَهَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ أَنْ أَسْقِيَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ فِي سَقْيِ كُلِّ كَبِدٍ أَجْرٌ لِلَّهِ
۔ سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرض الموت میں مبتلا تھے، وہ کہتے ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرنا شروع کر دیا (اور اتنے سوالات کیے کہ) مزید کوئی سوال یاد ہی نہیں آ رہا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: اور یادکرو۔ بہرحال میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو سوالات کیے تھے، ان میں ایک سوال یہ تھا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! گمشدہ اونٹ میرے حوضوں پر آ جاتا ہے، جبکہ میں نے ان کو اپنے اونٹوں کے لیے بھرا ہوا ہوتا ہے، تو کیا اس کو پانی پلا دینے میں میرے لیے اجر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، ہر تر جگر کو پلانے میں اللہ تعالیٰ کے لیے اجر ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9204]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 3686، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17587 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17730»
وضاحت: فوائد: … ہر جانور کے ساتھ احسان کرنا چاہیے،یہاں تک کہ شریعت میں جن جانوروں کو قتل یا ذبح کرنے کا حکم دیا گیا ہے، ان کو آرام دہ انداز میں قتل اور ذبح کرنا چاہیے، نہ کہ ظالمانہ انداز میں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9205
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا فَانْطَلَقَ إِنْسَانٌ إِلَى غَيْضَةٍ فَأَخْرَجَ بَيْضَ حُمَّرَةٍ فَجَاءَتِ الْحُمَّرَةُ تَرِفُّ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرُؤُوسِ أَصْحَابِهِ فَقَالَ أَيُّكُمْ فَجَعَ هَذِهِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَنَا أَصَبْتُ لَهَا بَيْضًا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ارْدُدْهُ
۔ سیدناعبد الرحمن بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک جگہ پر پڑاؤ ڈالا، ایک آدمی ایک جھاڑی کی طرف گیا اور (چڑیا کی طرح کے) سرخ پرندے کے انڈے نکال لایا، پس وہ پرندہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے سروں پر پھڑپھڑانے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کس نے اس کو تکلیف دی ہے؟ اس آدمی نے کہا: میں نے اس کے انڈے لیے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واپس رکھ دے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9205]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 2675، 5268، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3835 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3835»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9206
(وَعَنْهُ فِي أُخْرَى) رُدَّهُ رَحْمَةً لَهَا
۔ (دوسری روایت) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پرندے پر رحم کرتے ہوئے فرمایا: واپس رکھ دے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9206]
تخریج الحدیث: «انطر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3836»
الحكم على الحديث: صحیح