🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. بَابُ ثَوَابِ الْمُتَحَانِينَ فِي اللَّهِ وَمَا أَعَدَّهُ اللهُ لَهُمْ مِنَ الْآخِرِ الْعَظِيمِ وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ
اللہ تعالیٰ کے لیے آپس میں محبت کرنے والوں کے ثواب اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں تیار کیے گئے اجر ِ عظیم اور ہمیشہ کی نعمت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9454
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمُتَحَابِّينَ لَتُرَى غُرَفُهُمْ فِي الْجَنَّةِ كَالْكَوْكَبِ الطَّالِعِ الشَّرَقِيِّ أَوِ الْغَرَبِيِّ فَيُقَالُ مَنْ هَؤُلَاءِ فَيُقَالُ هَؤُلَاءِ الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے لیے آپس میں محبت کرنے والوں کے جنت میں بالا خانے اس طرح نظر آئیں گے، جیسے مشرق یا مغرب میں طلوع ہونے والا ستارہ نظر آتا ہے، پس جب کہا جائے گا کہ یہ لوگ کون ہیں، تو جواب دیا جائے گا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرنے والے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9454]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو حازم لم يسمع من ابي سعيد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11829 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11851»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9455
عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي فِي ظِلِّ عَرْشِي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي
۔ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے جلال کی وجہ سے آپس میں محبت کرنے والے اس دن میرے عرش کے سائے میں ہوں گے، جس دن میرے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہو گا۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9455]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 18/ 644، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17158 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17290»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9456
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَحَبَّ عَبْدٌ عَبْدًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا أَكْرَمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے کسی بندے سے محبت کرتا ہے، وہ دراصل اللہ تعالیٰ کا اکرام کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9456]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البيھقي في الشعب: 9016، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22229 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22582»
وضاحت: فوائد: … بندے کا اللہ تعالیٰ کااکرام کرنا، اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے حکم کی پیروی کرنا اور اس کی منع کردہ چیز سے رک جانا ہے اور ایک حکم اللہ تعالیٰ کے لیے کسی سے محبت کرنا اور کسی سے نفرت رکھنا ہے۔

الحكم على الحديث: اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9457
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُ مَأْلَفَةٌ وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَأْلَفُ وَلَا يُؤْلَفُ
۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن وہ ہے جو مانوس ہوتا ہے اور جس سے مانوس ہوا جاتا ہے اوراس آدمی میں کوئی خیر و بھلائی نہیں جو نہ کسی سے مانوس ہوتا ہے اور نہ کوئی اس سے مانوس ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9457]
تخریج الحدیث: «متن الحديث حسن، أخرجه الطبراني في الكبير: 5744، والبيھقي في الشعب: 8210، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22840 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23228»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ انس کا مومن کے ساتھ گہرا تعلق ہے، لوگ اس سے مانوس ہوتے ہیں اور وہ لوگوں سے مانوس ہوتا ہے، اس کی سب سے بہترین مثال یہ ہے کہ اگر مسجد کا امام خوش اخلاق ہو، عالم باعمل ہو، بلا امتیاز نمازیوں کی قدر کرتا ہو، لوگوں کے بچوں کی تعلیم کی فکر رکھتا ہو اور حرص و بخل سے پاک ہو کر اپنی غیرت و حمیت کو سمجھنے والا اور اس کو برقرار رکھنے والا ہو تو ایسے فرد کو لوگوں کی طرف سے جو مودت و محبت اور احترام و اکرام نصیب ہوتا ہے، عام آدمی کا دل و دماغ اس کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتا۔
یہی معاملہ دوسرے اساتذہ اور ڈاکٹر حضرات کا ہے، لیکن سب سے پہلے ایمان و اسلام کے تقاضوں کو پورا کرنا فرض ہے۔

الحكم على الحديث: متن الحديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9458
عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ دَخَلْتُ مَسْجِدَ حِمْصَ فَإِذَا فِيهِ نَحْوٌ مِنْ ثَلَاثِينَ كَهْلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فِيهِمْ شَابٌّ أَكْحَلُ الْعَيْنَيْنِ بَرَّاقُ الثَّنَايَا (وَفِي رِوَايَةٍ حَسَنُ الْوَجْهِ أَدْعَجُ الْعَيْنَيْنِ أَغَرُّ الثَّنَايَا) سَاكِتٌ فَإِذَا امْتَرَى الْقَوْمُ فِي شَيْءٍ أَقْبَلُوا عَلَيْهِ فَسَأَلُوهُ (وَفِي رِوَايَةٍ فَإِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ فَقَالَ قَوْلًا انْتَهَوْا إِلَى قَوْلِهِ) فَقُلْتُ لِجَلِيسٍ لِي مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَوَقَعَ لَهُ فِي نَفْسِي حُبٌّ فَكُنْتُ مَعَهُمْ حَتَّى تَفَرَّقُوا ثُمَّ هَجَّرْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ قَائِمٌ يُصَلِّي إِلَى سَارِيَةٍ فَسَكَتَ لَا يُكَلِّمُنِي فَصَلَّيْتُ ثُمَّ جَلَسْتُ فَاحْتَبَيْتُ بِرَدَاءٍ لِي ثُمَّ جَلَسَ فَسَكَتَ لَا يُكَلِّمُنِي وَسَكَتُّ لَا أُكَلِّمُهُ ثُمَّ قُلْتُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ قَالَ فِيمَ تُحِبُّنِي قُلْتُ فِي اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَأَخَذَ بِحَبْوَتِي فَجَرَّنِي إِلَيْهِ هُنَيَّةً ثُمَّ قَالَ أَبْشِرْ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْمُتَحَابُّونَ فِي جَلَالِي لَهُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ (وَفِي رِوَايَةٍ) أَحْسِبُ أَنَّهُ قَالَ فِي ظِلِّ اللَّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ (وَفِي أُخْرَى) يُوضَعُ لَهُمْ كَرَاسِيُّ مِنْ نُورٍ يَغْبِطُهُمْ بِمَجْلِسِهِمْ مِنَ الرَّبِّ النَّبِيُّونَ وَالصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ قَالَ فَخَرَجْتُ فَلَقِيتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ يَا أَبَا الْوَلِيدِ أَلَا أُحَدِّثُكَ بِمَا حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فِي الْمُتَحَابِّينَ قَالَ فَأَنَا أُحَدِّثُكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُهُ إِلَى الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّينَ فِيَّ وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَزَاوِرِينَ فِيَّ وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَوَاصِلِينَ فِيَّ
۔ ابو مسلم خولانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں حمص کی مسجد میں گیا، اس میں تیس بزرگ صحابہ کرام تشریف فرما تھے، ان میں ایسا نوجوان بھی تھا، جس کی آنکھیں سرمگیں اور دانت چمکنے والے تھے، ایک روایت میں ہے: اس کا چہرہ خوبصورت تھا، اس کی آنکھیں سیاہ اور فراخ تھیں اور اس کے دانت چمکنے والے تھے، وہ خاموش بیٹھا ہوا تھا، جب لوگوں میں کوئی اختلاف پڑتا تو وہ اسی نوجوان سے سوال کرتے، میں نے اپنے ساتھ بیٹھنے والے سے کہا: یہ نوجوان کون ہے؟ اس نے کہا: یہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں، میرے دل میں اس کے لیے بڑی محبت پیدا ہوئی، پھر میں ان لوگوں کے ساتھ ہی رہا، یہاں تک کہ وہ متفرق ہو گئے، پھر میں جلدی جلدی مسجد کی طرف آیا اور دیکھا کہ سیدنا معاذ بن جبل ایک ستون کے ساتھ کھڑے نماز ادا کر رہے تھے، پھر وہ خاموش رہے اور مجھ سے کوئی بات نہیں کی، میں نے بھی نماز پڑھی اور اپنی چادر سے گوٹھ مار کر بیٹھ گیا، پھر وہ بھی فارغ ہو کر بیٹھ گئے اور مجھ سے کوئی بات نہیں ہے، میں بھی خاموش رہا اور ان سے کوئی بات نہیں کی، پھر میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں تجھ سے محبت کرتا ہوں، انھوں نے کہا: تو مجھ سے کیوں محبت کرتا ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ تعالیٰ کے لیے، پس اس نے میرے گوٹھ کا کپڑا پکڑا اور تھوڑا سا اپنی طرف کھینچ لیا اور پھر کہا: اگر تو اپنی بات میں سچا ہے تو خوش ہو جا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میرے جلال کی وجہ سے محبت کرنے والوں کے نور کے ایسے منبر ہوں گے کہ انبیاء و شہداء کو ان پر رشک آئے گا۔ ایک روایت میں ہے: وہ اس دن اللہ کے سائے میں ہوں گے، جس دن کوئی اور سایہ نہیں ہو گا۔ ایک اور روایت میں ہے: ان کے لیے نور کی کرسیاں رکھی جائیں گی اور وہ اللہ تعالیٰ کے قریب جو بیٹھک بیٹھیں گے، اس پر انبیاء، صدیقین اور شہداء کو رشک آئے گا۔ پھر میں وہاں سے نکلا اور سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو ملا اور کہا: اے ابو الولید! آپس میں محبت کرنے والوں کے بارے میں جو حدیث سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کی، کیا میں وہ آپ کو بیان کروں؟ انھوں نے کہا: میں تجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک ایسی حدیث بیان کرتا ہوں، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے روایت کی، اللہ تعالیٰ نے کہا: میرے وجہ سے آپس میں محبت کرنے والوں کے لیے میری محبت ثابت ہو گئی، میری خاطر ایک دوسرے کی زیارت کرنے والوں کے لیے میری محبت ثابت ہو گئی ہے، میرے نام پر خرچ کرنے والوں کے لیے میری محبت ثابت ہوگئی اور میری وجہ سے صلہ رحمی کرنے والوں کے لیے میری محبت ثابت ہوگئی۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9458]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الترمذي: 2390، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22080 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22430»
وضاحت: فوائد: … انبیا ورسل کا مقام و مرتبہ تمام امتیوں سے زیادہ ہو گا، اس حدیث میں رشک کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اِن لوگوں کے حالات کو اچھا سمجھیں گے اور ان پر خوش ہوں گے، کیونکہ قاموس میں غِبْطَۃ کا معنی حُسْنُ الْحَالِ وَالْمَسَرَّۃ بیان کیا گیا ہے۔ نیز اس کا دوسرا مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اس سے مراد اُن کی فضیلت و عظمت اور عالی مرتبت و منزلت بیان کرنا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی جلالت و عظمت کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والوں کا مقام و مرتبہ اس کے ہاں روزِ قیامت اتنا عالی شان ہو گا کہ انبیا کرام، باوجود اس بات کے کہ وہ جلالت و عظمت کے اعلی مقام پر فائز ہوں گے، کو بھی رشک ہو گا کہ کیا بات ہے ان لوگوں کی، اللہ تعالیٰ نے ان کو کتنی شان عطا کی ہے۔

الحكم على الحديث: اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9459
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اسْمَعُوا وَاعْقِلُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِبَادًا لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ يَغْبِطُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ عَلَى مَجَالِسِهِمْ وَقُرْبِهِمْ مِنَ اللَّهِ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ مِنْ قَاصِيَةِ النَّاسِ وَأَلْوَى بِيَدِهِ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ نَاسٌ لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ يَغْبِطُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ عَلَى مَجَالِسِهِمْ وَقُرْبِهِمْ مِنَ اللَّهِ انْعَتْهُمْ لَنَا يَعْنِي صِفْهُمْ لَنَا فَسُرَّ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِسُؤَالِ الْأَعْرَابِيِّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هُمْ نَاسٌ مِنْ أَفْنَاءِ النَّاسِ وَنَوَازِعِ الْقَبَائِلِ لَمْ تَصِلْ بَيْنَهُمْ أَرْحَامٌ مُتَقَارِبَةٌ تَحَابُّوا فِي اللَّهِ وَتَصَافَوْا يَصْنَعُ اللَّهُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ فَيُجْلِسُهُمْ عَلَيْهَا فَيَجْعَلُ وُجُوهَهُمْ نُورًا وَثِيَابَهُمْ نُورًا يَفْزَعُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَفْزَعُونَ وَهُمْ أَوْلِيَاءُ اللَّهِ تَعَالَى الَّذِينَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
۔ سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو!سنو، سمجھو اور جان لو کہ اللہ کے بعض بندے ایسے بھی ہیں، جو انبیا ہیں نہ شہدائ، لیکن شہداء و انبیاء اُن پر رشک کریں گے،اس کی وجہ ان کا اللہ تعالیٰ سے قرب اور اس کے ساتھ مجلس ہو گی۔ دور والے لوگوں سے ایک بدّو آیا اور اپنا ہاتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ڈالا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے لوگ ہیں، جو انبیاء ہیں نہ شہدائ، لیکن انبیاء و شہداء ان کی بیٹھکوں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے قرب پر رشک کریں گے، ہمارے لیے ان کی صفات بیان کرو اور ان کو واضح کرو۔ بدّو کے سوال سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر خوشی کے آثار نمودار ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ غیر معروف قبائل کے نامعلوم النسب لوگ ہیں، ان کی آپس میں رشتہ داریاں نہیں ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور آپس میں خالص تعلق رکھتے ہیں، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اُن کے لیے نور کے منبر بنائے گا، ان پر ان کو بٹھائے گا، ان کے چہروں اور کپڑوں کو نور بنائے گا، لوگ قیامت کے دن گھبرائیں گے، لیکن وہ نہیں گھبرائیں گے، یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے اولیاء ہیں کہ (فرمانِ الٰہی کے مطابق) جن پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9459]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22906 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23294»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں