الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ مَنْ أَحَبَّ إِنْسَانَا فَلْيُخْبِرْهُ
آدمی کا اپنے محبوب کو محبت کے بارے میں بتلانے کا بیان
حدیث نمبر: 9460
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّ رَجُلٌ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ هَذَا الرَّجُلَ قَالَ هَلْ أَعْلَمْتَهُ بِذَلِكَ قَالَ لَا قَالَ قُمْ فَأَعْلِمْهُ قَالَ فَقَامَ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا هَذَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ فِي اللَّهِ قَالَ أَحَبَّكَ الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَهُ (وَفِي لَفْظٍ) قُمْ فَأَخْبِرْهُ تَثْبُتِ الْمَوَدَّةُ بَيْنَكُمَا
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہاں سے ایک آدمی کا گزر ہوا، قوم میں سے ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس آدمی سے محبت کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو نے اس کو اس کے بارے میں بتلایا ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھڑا ہو اور اس کو بتلا۔ پس وہ اس کی طرف کھڑا ہوا اور کہا: اے فلاں! اللہ کی قسم! بیشک میں اللہ تعالیٰ کے لیے تجھ سے محبت کرتا ہوں، اس نے کہا: وہ ذات تجھ سے محبت کرے، جس کے لیے تو نے مجھ سے محبت کی ہے۔ ایک روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھڑا ہو اور اس کو خبر دے، تاکہ تم دونوں میں محبت ثابت ہو جائے۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9460]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن حبان: 571، والنسائي في عمل اليوم والليلة: 182، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13535 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13569»
وضاحت: فوائد: … جب کسی کو کسی سے اللہ تعالیٰ کی ذات کی وجہ سے محبت ہو تو وہ اسے اطلاع دے دے تاکہ دوسرا شخص بھی آگاہ ہو جائے اور محبت دو طرفہ ہوجائے، درج ذیل حدیث میں اس حکم کی وجہ بیان کی گئی ہے۔
علی بن حسین سے مرسلًا روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إذَا أَحَبَّ أَحَدُکُمْ أَخَاہُ فِی اللّٰہِ فَلْیُبَیِّنْ لَہُ فَاِنَّہُ خَیْرٌ فِی الْاُلْفَۃِ، وَأَبْقٰی فِی الْمَوَدَّۃِ۔)) … جب تم میں سے کسی کو اپنے بھائی سے اللہ تعالیٰ کے لیے محبت ہو تو وہ اس پر واضح کر دے، کیوں کہ یہ وضاحت الفت میں بہتری اور محبت کو تادیر رکھنے والی ہے۔ (رواہ وکیع في الزھد ۲/۶۷/۲،صحیحہ:۱۱۹۹)
علی بن حسین سے مرسلًا روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إذَا أَحَبَّ أَحَدُکُمْ أَخَاہُ فِی اللّٰہِ فَلْیُبَیِّنْ لَہُ فَاِنَّہُ خَیْرٌ فِی الْاُلْفَۃِ، وَأَبْقٰی فِی الْمَوَدَّۃِ۔)) … جب تم میں سے کسی کو اپنے بھائی سے اللہ تعالیٰ کے لیے محبت ہو تو وہ اس پر واضح کر دے، کیوں کہ یہ وضاحت الفت میں بہتری اور محبت کو تادیر رکھنے والی ہے۔ (رواہ وکیع في الزھد ۲/۶۷/۲،صحیحہ:۱۱۹۹)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9461
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَحَبَّ أَحَدُكُمْ صَاحِبَهُ فَلْيَأْتِهِ فِي مَنْزِلِهِ فَلْيُخْبِرْهُ أَنَّهُ يُحِبُّهُ لِلَّهِ وَقَدْ جِئْتُكَ فِي مَنْزِلِكَ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی آدمی کو اپنے کسی ساتھی سے محبت ہو تو وہ اس کے گھر جائے اور اس کو یہ خبر دے کہ وہ اس سے اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرتا ہے۔)) ابو سالم نے ابو امیہ سے کہا: تحقیق میں تیری پاس تیرے گھر آیا ہوں (تاکہ تجھے اپنی محبت کا بتا سکوں)۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9461]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف،يزيد بن ابي حبيب، وھو وان كان ثقة، لكنه قد كان يرسل، ولم يبين ھنا عما رواه، وابنُ لھيعة سييء الحفظ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21294 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21619»
الحكم على الحديث: ضعیف