الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ آدَابِ تَخْتَصُّ بِمَنْ فِي الْمَجْلِسِ
مجلس میں موجود لوگوں کے ساتھ خاص آداب
حدیث نمبر: 9513
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ فَرَأَيْتُهُ مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ
۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9513]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 4143، والترمزي: 2771، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20975 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21285»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 9514
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا جَلَسَ (أَوْ إِذَا اسْتَلْقَى) أَحَدُكُمْ فَلَا يَضَعْ رِجْلَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی چت لیٹے تو وہ ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ پر نہ رکھے۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9514]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2099، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14198 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14247»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۹۵۱۶)
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2099
حدیث نمبر: 9515
عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَعْتَدِلَ فِي الْجُلُوسِ وَأَنْ لَا نَسْتَوْفِزَ
۔ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اعتدال سے بیٹھیں اور جلدی نہ کریں۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9515]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 6884، والحاكم: 1/ 271، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20111 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20372»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا تعلق نماز سے ہے، جیسا کہ دوسری احادیث میں نماز میں اعتدال اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 9516
(عَنْ أَبِي النَّضْرِ) أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَشْتَكِي رِجْلَيْهِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَخُوهُ وَقَدْ جَعَلَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى وَهُوَ مُضْطَجِعٌ فَضَرَبَهُ بِيَدِهِ عَلَى رِجْلِهِ الْوَجِيعَةِ فَأَوْجَعَهُ فَقَالَ أَوْجَعْتَنِي أَوَ لَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رِجْلِي وَجِيعَةٌ قَالَ بَلَى قَالَ فَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ قَالَ أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْ هَذِهِ
۔ ابو نضر کہتے ہیں: سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کی ایک ٹانگ میں کوئی تکلیف تھی، انھوں نے لیٹ کر ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ پر رکھا ہوا تھا، اتنے میں ان کا بھائی ان کے پاس آیا اور ان کی تکلیف زدہ ٹانگ پر ان کو مارا، جس سے ان کو تکلیف ہوئی، پس انھوں نے کہا: تو نے مجھے تکلیف دی ہے، کیا تو نہیں جانتا کہ میری ٹانگ میں تکلیف ہے؟ اس نے کہا: جی کیوں نہیں، انھوں نے کہا: اچھا تو ایسے کیا کیوں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے سنا نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح ٹانگ پر ٹانگ رکھنے سے منع کیا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9516]
تخریج الحدیث: «مرفوعه صحيح لغيره، أخرجه بنحوه الطبراني في الكبير: 19/ 18، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11375 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11395»
وضاحت: فوائد: … ٹانگ پر ٹانگ رکھنا اس وقت منع ہے، جب بے پردگی ہو رہی ہو، یا اس کا واضح طور پر خطرہ ہو، ان احادیث میں اسی صورت سے منع کیا گیا ہے۔
جب بے پردگی کا خطرہ نہ ہو تو ٹانگ پر ٹانگ رکھ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود چت لیٹ کر ٹانگ پر ٹانگ رکھ لیاکرتے تھے۔
جب بے پردگی کا خطرہ نہ ہو تو ٹانگ پر ٹانگ رکھ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود چت لیٹ کر ٹانگ پر ٹانگ رکھ لیاکرتے تھے۔
الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره