الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب آداب تختص بمن فى المجلس
مجلس میں موجود لوگوں کے ساتھ خاص آداب
حدیث نمبر: 9516
(عَنْ أَبِي النَّضْرِ) أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَشْتَكِي رِجْلَيْهِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَخُوهُ وَقَدْ جَعَلَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى وَهُوَ مُضْطَجِعٌ فَضَرَبَهُ بِيَدِهِ عَلَى رِجْلِهِ الْوَجِيعَةِ فَأَوْجَعَهُ فَقَالَ أَوْجَعْتَنِي أَوَ لَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رِجْلِي وَجِيعَةٌ قَالَ بَلَى قَالَ فَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ قَالَ أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْ هَذِهِ
۔ ابو نضر کہتے ہیں: سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کی ایک ٹانگ میں کوئی تکلیف تھی، انھوں نے لیٹ کر ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ پر رکھا ہوا تھا، اتنے میں ان کا بھائی ان کے پاس آیا اور ان کی تکلیف زدہ ٹانگ پر ان کو مارا، جس سے ان کو تکلیف ہوئی، پس انھوں نے کہا: تو نے مجھے تکلیف دی ہے، کیا تو نہیں جانتا کہ میری ٹانگ میں تکلیف ہے؟ اس نے کہا: جی کیوں نہیں، انھوں نے کہا: اچھا تو ایسے کیا کیوں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے سنا نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح ٹانگ پر ٹانگ رکھنے سے منع کیا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9516]
تخریج الحدیث: «مرفوعه صحيح لغيره، أخرجه بنحوه الطبراني في الكبير: 19/ 18، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11375 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11395»
وضاحت: فوائد: … ٹانگ پر ٹانگ رکھنا اس وقت منع ہے، جب بے پردگی ہو رہی ہو، یا اس کا واضح طور پر خطرہ ہو، ان احادیث میں اسی صورت سے منع کیا گیا ہے۔
جب بے پردگی کا خطرہ نہ ہو تو ٹانگ پر ٹانگ رکھ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود چت لیٹ کر ٹانگ پر ٹانگ رکھ لیاکرتے تھے۔
جب بے پردگی کا خطرہ نہ ہو تو ٹانگ پر ٹانگ رکھ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود چت لیٹ کر ٹانگ پر ٹانگ رکھ لیاکرتے تھے۔
الحكم على الحديث: صحیح