🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. بَابُ الثَّلَاثِيَّاتِ الْمَبْدُوءَ ةِ بِعَدَدٍ
عدد سے شروع ہونے والی ثلاثیات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9585
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ عَلَى كُثْبَانِ الْمِسْكِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ بِهِ رَاضُونَ وَرَجُلٌ يُؤَذِّنُ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَمْسَ صَلَوَاتٍ وَعَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ تَعَالَى وَحَقَّ مَوَالِيهِ
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین قسم کے لوگ قیامت کے روز کستوری کے ٹیلوں پر ہوں گے: (۱) وہ آدمی، جو لوگوں کی امامت کروائے اور وہ اس سے راضی ہوں، (۲) وہ آدمی جو ہر روز پانچ نمازوں کے لیے اذان دیتا ہو اور (۳) وہ غلام، جو اللہ تعالیٰ کا حق اور اپنے آقاؤں کا حق ادا کرتا ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع في الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9585]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف،ابو اليقظان ضعّفه غير واحد من الأئمة، لكن يكتب حديثه في المتابعات والشواھد، أخرجه الترمذي: 1986، 2566، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4799 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4799»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9586
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ كُلُّهُمْ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَوْنُهُمْ الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالنَّاكِحُ الْمُسْتَعْفِفُ وَالْمُكَاتَبُ يُرِيدُ الْأَدَاءَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین افراد کی مدد اللہ تعالیٰ پر حق ہے، اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والا، پاکدامنی کی خاطر نکاح کرنے والا اور ادائیگی کا ارادہ رکھنے والا مکاتَب۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع في الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9586]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه ابن ماجه: 2518، والترمذي: 1655، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7416 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7410»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9587
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ ثَلَاثٌ أَوْصَانِي بِهِنَّ خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا أَدَعُهُنَّ أَبَدًا (وَفِي رِوَايَةٍ لَا أَدَعُهُنَّ حَتَّى أَمُوتَ) الْوِتْرُ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ وَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَالْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے خلیل نے مجھے تین امور کی نصیحت کی، میں ان کو موت تک نہیں چھوڑوں گا، سونے سے پہلے وتر ادا کرنا، ہر ماہ میں تین دنوں کے روزے رکھنا اور جمعہ کے دن غسل کرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع في الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9587]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه ابن ماجه: 2518، والترمذي: 1655، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7416 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7452»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9588
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا وَرَضِيَ لَكُمْ ثَلَاثًا رَضِيَ لَكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَأَنْ تَنْصَحُوا لِوُلَاةِ الْأَمْرِ وَكَرِهَ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تین چیزیں ناپسند کی ہیں اور تین پسند، اس نے تمہارے لیے اِن چیزوں کو پسند کیا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ اور سب کے سب اللہ تعالیٰ کی رسی کو تھام لو اور یہ کہ تم اپنے امیروں کی خیرخواہی کرو اور تمہارے لیےیہ چیزیں ناپسند کی ہیں: قیل و قال، مال کو ضائع کرنا اور زیادہ سوال کرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع في الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9588]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1715، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8334 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8316»
وضاحت: فوائد: … امراء کے لیے خیرخواہییہ ہے کہ امورِ حق میں ان کی اطاعت کی جائے اور ان کی بغاوت نہ کی جائے۔
قیل و قال سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کی حکایات، واقعات اور اخبارات میں دلچسپی لی جائے اور ان کے بارے میں بغیر تحقیق کے باتیں کی جائیں، جبکہ بیچ میں کوئی منفعت والی بات نہ ہو، سب لا یعنی اور بے مقصد باتیں ہوں۔ اس وقت اکثر لوگ ایسی فضول مجلسوں میں اپنا وقت ضائع کرتے رہتے ہیں۔
مال کا ضائع کرنے کی صورت یہ ہے کہ غیر شرعی صورتوں میں اور نافرمانیوں میں مال صرف کیا جائے، جائز صورتوں میں غلوّ اور تکلّف کے ساتھ خرچ کرنا بھی اس صورت میں داخل ہے۔
سوال کرنے سے مراد یہ ہے کہ حاجت و ضرورت کے بغیر، بلکہ تکلف کرتے ہوئے شرعی مسائل کے بارے میں سوال کرنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے عہد ِ مبارک میں ایسے سوالات سے منع کر رکھا تھا۔ لوگوں سے ان کے مال کا سوال کرنا بھی اس میں شامل ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9589
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ كُلُّهُنَّ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ عِيَادَةُ الْمَرِيضِ وَشُهُودُ الْجَنَازَةِ وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ إِذَا حَمِدَ اللَّهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں ہیں، ہر مسلمان پر حق ہیں، مریض کی عیادت، جنازوں میں شرکت کرنا اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنے والے چھینکنے والے کو یَرْحَمُکَ اللّٰہُ کہنا۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع في الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9589]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح،أخرجه الطيالسي: 2342، وابويعلي: 5904، وابن حبان: 239، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8675 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8660»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9590
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَتْبَعُ الْمَيِّتَ ثَلَاثٌ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَعَمَلُهُ فَيَرْجِعُ اثْنَانِ وَيَبْقَى وَاحِدٌ أَهْلُهُ وَمَالُهُ يَبْقَى عَمَلُهُ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں میت کے پیچھے چلتی ہیں، اس کے اہل و عیال، اس کا مال اور اس کا عمل، دو چیزیں واپس آ جاتی ہیں اور ایک باقی رہ جاتی ہے، اہل و عیال اور مال لوٹ آئیں گے اور اس کا عمل باقی رہ جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع في الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9590]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6514، ومسلم: 2960، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12080 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12104»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9591
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عُرِضَ عَلَيَّ أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَأَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ النَّارَ فَأَمَّا أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فَالشَّهِيدُ وَعَبْدٌ مَمْلُوكٌ أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ وَنَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَعَفِيفٌ مُتَعَفِّفٌ ذُو عِيَالٍ وَأَمَّا أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ النَّارَ فَأَمِيرٌ مُسَلَّطٌ وَذُو ثَرْوَةٍ مِنْ مَالٍ لَا يُعْطِي حَقَّ مَالِهِ وَفَقِيرٌ فَخُورٌ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے تین افراد اور سب سے پہلے جہنم میں داخل ہونے والے تین افراد مجھ پر پیش کیے گئے، پہلے پہل جنت میں داخل ہونے والے افراد یہ ہیں:(۱) شہید، (۲) وہ غلام جو اچھے انداز میں اپنے ربّ کی عبادت کرنے والا اور اپنے آقا کا خیر خواہ ہو، اور (۳) بچوں کے باوجود پاکدامن بننے والے اور پہلے پہل جہنم میں داخل ہونے والے تین افراد یہ ہیں: (۱) مسلط ہو جانے والا امیر، (۲) مال کا حق ادا نہ کرنے والا مالدار اور (۳) تکبر کرنے والا فقیر۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع في الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9591]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عامر بن عقبة العقيلي لايُعرف، وكذا ابوه لايُعرف، أخرجه الطيالسي: 2567، وابن ابي شيبة: 14/ 124، والحاكم: 1/ 387، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9492 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9488»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9592
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ ثَلَاثَةٌ وَمِنْ شَقْوَةِ ابْنِ آدَمَ ثَلَاثَةٌ مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ وَالْمَسْكَنُ الصَّالِحُ وَالْمَرْكَبُ الصَّالِحُ وَمِنْ شَقْوَةِ ابْنِ آدَمَ الْمَرْأَةُ السَّوْءُ وَالْمَسْكَنُ السَّوْءُ وَالْمَرْكَبُ السَّوْءُ
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں ابن آدم کی سعادت میں سے اور تین چیزیں ابن آدم کی شقاوت میں سے ہیں، ابن آدم کی سعادت والی تین چیزیں یہ ہیں: نیک بیوی، مناسب گھر اور اچھی سواری اور ابن آدم کی بد بختی والی تین چیزیں یہ ہیں: بری بیوی، برا گھر اور بری سواری۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع في الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9592]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطيالسي: 210، والبزار: 1412، وابن حبان: 4032، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1445 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1445»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9593
عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ قَالَ أَنْتَ رَسُولِي إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ قُلْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ أَرْسَلَنِي يَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلَامَ وَيَأْمُرُكُمْ بِثَلَاثٍ لَا تَحْلِفُوا بِغَيْرِ اللَّهِ وَإِذَا تَخَلَّيْتُمْ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا وَلَا تَسْتَنْجُوا بِعَظْمٍ وَلَا بِبَعَرَةٍ
۔ سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بھیجا اور فرمایا: تو اہل مکہ کی طرف میرا قاصد ہے، ان کو کہنا: اللہ کے رسول نے مجھے بھیجا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تم لوگوں کو سلام کہا اور تین چیزوں کا حکم دیا: (۱)غیر اللہ کی قسم نہیں اٹھانی، (۲) قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنا ہے نہ پیٹھ اور (۳) ہڈی اور مینگنی سے استنجاء نہیں کرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع في الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9593]
تخریج الحدیث: «ما ورد فيه من نھي صحيح، وھذا اسناد ضعيف، لضعف عبد الكريم بن ابي المخارق، ولجھالة الوليد بن مالك ومحمدِ بن قيس، أخرجه مختصرا الدارمي: 1/ 170، ورواه الحاكم: 3/ 412، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15984 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16080»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9594
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ مُسْتَجَابٌ لَهُمْ دَعْوَتُهُمُ الْمُسَافِرُ وَالْوَالِدُ وَالْمَظْلُومُ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین افراد کی دعائیں قبول ہوتی ہیں، مسافر، والدین اور مظلوم۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع في الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9594]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17399 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17534»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں