🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

16. خَاتِمَةٌ فِي أَحَادِيثَ جَرَتْ مَجْرَى الْمِثَالِ
خاتمہ: مثال کے طور پر بیان کی جانے والی باتیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9651
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَدِيثًا فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّ الْحَدِيثَ حَدِيثُ خُرَافَةَ فَقَالَ ( (أَتَدْرُونَ مَا خُرَافَةُ إِنَّ خُرَافَةَ كَانَ رَجُلًا مِنْ عُذْرَةَ أَسَرَتْهُ الْجِنُّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَمَكَثَ فِيهِنَّ طَوِيلًا ثُمَّ رَدُّوهُ إِلَى الْإِنْسِ فَكَانَ يُحَدِّثُ النَّاسَ بِمَا رَأَى فِيهِمْ مِنْ أَعَاجِيبَ فَقَالَ النَّاسُ حَدِيثُ خُرَافَةَ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات اپنی بیویوں کو ایک بات بیان کی، ایک ام المؤمنین نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے لگ رہا ہے کہ یہ بات تو حدیث ِ خرافہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بھلا کیا تم جانتی ہو کہ خرافہ کیا ہے؟ خرافہ عذرہ قبیلے کاآدمی تھا، جنوں نے اس کو جاہلیت میں قید کر لیا تھا، وہ کافی عرصہ تک جنوںمیں رہا، پھر وہ اس کو انسانوں میں چھوڑ گئے تھے، تب وہ لوگوں کو جنوں کی عجیب عجیب باتیں بیان کرتا تھا، اس کو لوگ حدیث ِ خرافہ کہتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع في الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9651]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضف مجالد بن سعيد وللاختلاف عليه في وصله وارساله، والمرسل اشبه بالصواب، أخرجه الترمذي في الشمائل: 250، والبزار: 2475، وابويعلي: 4442، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25244 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25758»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضف مجالد بن سعيد وللاختلاف عليه في وصله وارساله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9652
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ) )
۔ سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں نے جو کلام پہلے والی جاہلیت میں پایا، اس میں یہ بات بھی تھی: جب تو شرمائے نہیں تو جو چاہے کر گزر۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع في الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9652]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح أخرجه ابوداود: 4797، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22345م ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22702»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۹۲۲۲) والا باب اور اس میں مذکورہ احادیث و فوائد۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح أخرجه ابوداود: 4797
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9653
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (الْمَعْرُوفُ كُلُّهُ صَدَقَةٌ وَإِنَّ آخِرَ مَا تَعَلَّقَ بِهِ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَافْعَلْ مَا شِئْتَ) )
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نیکی صدقہ ہے، اور آخری چیز جو اہلِ جاہلیت نے نبوت کے کلام سے حاصل کی ہے، وہ یہ ہے: جب تو شرم و حیا کو چھوڑ دے تو جو چاہے کر گزر۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع في الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9653]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي خلاف في صحابيه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23441 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23834»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي خلاف في صحابيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9654
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (كُلُّ شَيْءٍ يَنْقُصُ إِلَّا الشَّرَّ فَإِنَّهُ يُزَادُ فِيهِ) )
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر چیز کم ہو رہی ہے، ما سوائے شرّ کے، اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع في الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9654]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف محمد بن مصعب، وابي بكر ابن ابي مريم، ولابھام الراوي عن ابي الدرداء، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27483 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28031»
وضاحت: فوائد: … مشاہدہ یہی ہے کہ شرّ بڑھ رہا ہے اور خیر کم ہوتی جا رہی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف محمد بن مصعب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9655
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَرَاثَ الْخَبَرَ تَمَثَّلَ فِيهِ بِبَيْتِ طَرَفَةَ ( (وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدْ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہے کہ جب خبر آنے میں دیر ہوتی تو آپ طرفہ (بن عبد بکری) شاعر کا یہ مصرعہ پڑھتے: جس پر تو نے کچھ نہیں خرچا، وہ خبر لائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع في الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9655]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 712، والنسائي في الكبري: 10834، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24023 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24524»
وضاحت: فوائد: … پورا شعر یوں ہے:
سَتُبْدِیْ لَکَ الْاَیَّامُ مَا کُنْتَ جَاہِلًا
وَیَأْتِیْکَ بِالْاَخْبَارِ مَنْ لَّمْ تُزَوِّدٖ
امام مبارکپوری نے اس شعر کا یہ مفہوم بیان کیا ہے: سَتُظْھِرُ لَکَ الْاَیَّامُ مَا کُنْتَ غَافِلًا عَنْہُ وَیَنْقُلُ لَکَ الْاَخْبَارَ مَنْ لَمْ تُعْطِیْہِ الزَّادَ … (ایام ان چیزوں کو تیرے لیے ظاہر کر دیں گے، جن سے تو غافل ہے وہ لوگ تیرے پاس خبریں لائیں گے، جن کو تونے زادِ راہ نہیں دیا)۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9656
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مؤمن کو ایک سوراخ سے دو دفعہ نہیں ڈسا جاتا۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع في الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9656]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6133، ومسلم: 2998، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8928 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8915»
وضاحت: فوائد: … یہ خبر بمعنی نہی ہے، یعنی مؤمن کو محتاط اور دور رس ہونا چاہیے، نہ کہ جذباتی،، غافل اور نا عاقبت اندیش، دینی معاملہ ہو یا دنیوی، ہر ایک اقدام کرتے وقت اس کے مثبت اور منفی پہلو پر غور کرنا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6133
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9657
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (حُبُّكَ الشَّيْءَ يُعْمِي وَيُصِمُّ) )
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا کسی چیز سے محبت کرنا اندھا اور بہرہ کر دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع في الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9657]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوفا، وھذا اسناد ضعيف لضعف ابي بكر بن ابي مريم، أخرجه ابوداود: 5130، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21694 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22036»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب آدمی کسی سے محبت کرنے لگتا ہے تو نہ اس کو اس کے معائب نظر آتے ہیں اور نہ اس کو اس کی قباحتیں سنائی دیتی ہیں، بس وہ ہر وقت اس کے گن گاتے ہوئے نظر آتا ہے، مسلمان کو کبھی بھی اعتدال اور میانہ روی کی راہ سے دور نہیں ہونا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
صحيح موقوفا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9658
عَنْ أَبِي قِلَابَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ لِأَبِي مَسْعُودٍ أَوْ قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي زَعَمُوا قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ ( (بِئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ) )
۔ ابو قلابہ کہتے ہیں: سیدنا ابو عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے یا سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو عبد اللہ حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زَعَمُوْ ا کے متعلق کیا فرماتے سنا؟ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زَعَمُوا آدمی کی بری سواری ہے، (یعنی براتکیہ کلام ہے)۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع في الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9658]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17075 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17203»
وضاحت: فوائد: … زَعَمُوْا کے لفظی معانییہ ہیں: انھوں نے گمان کیا، ان کا خیال ہے،انھوں نے جھوٹ بولا، انھوں نے کہا، انھوں نے بے حقیقت دعوی کیا، انھوں نے یقین رکھا۔
اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ مسلمان کو وہی بات یا حدیث بیان کرنی چاہیے جس کے سچا ہونے کا یقین ہو، ہر سنی سنائی بات کو آگے بیان کرنے سے گریز کرنا چاہیے، جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((کَفٰی بِالْمَرْئِ کَذِبًا اَنْیُّحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِعَ۔)) … آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیےیہ بات کافی ہے کہ وہ جو سنے، اسے (بغیر تحقیق کے) آگے بیان کردے۔ (مسلم)
چونکہ عصر حاضر میں لوگوں میں گپ شپ لگانے، باتوں کے بتنگڑ بنانے اور دنیا کے مختلف خطوں اور ان کے باسیوں کے تذکرے کرنے کی جنون کی حد تک رغبت پائی جاتی ہے، اس لیے وہ اپنی بات کو سہارا دینے کے لیےیوں کہتے ہیں: آج بازار میں یہ بات ہو رہی تھی، لوگوں کو یہ بات کہتے ہوئے سنا گیا ہے، فلاں اخبار میں اس قسم کی بات شائع ہوئی ہے۔ یہ انداز زَعَمُوا کا مصداق ہے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: اس حدیث میں زَعَمُوْا کے کلمے کے استعمال کی مذمت کی گئی ہے، اگرچہ یہ قَالَ کے معنی میں بھی مستعمل ہے۔ قرآن مجید میں جہاں مذموم اقوام کے مذمت والے امور کا تذکرہ کیا گیا، وہاں اس لفظ کا استعمال ہوا، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {زَعَمَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا } (سورۂ تغابن: ۷) اس کے بعد کہا گیا: {بَلٰی وَ رَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ} (سورۂ تغابن: ۷) اس قسم کی کئی آیات ہیں۔
امام طحاوی نے بعض آیات ذکر کرنے کے بعد کہا: ان تمام آیات میں اللہ تعالیٰ نے مذموم قوموں کے مذموم حالات اور ان کی جھوٹی باتوں کا ذکر کیا۔ اس لیے مسلمانوں کے لیے اس چیز کو ناپسند کیا گیا ہے کہ وہ اخلاق و ادیان اور اقوال و افعال میں قابل مذمت لوگوں کی عادات کو اپنائیں۔ اہل ایمان کو تو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ ان لوگوں کے اخلاق، ان کے قابل تعریف منہج اور سچے اقوال کو اسوہ بنائیں جو ایمان کی حالت میں سبقت لے جا چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہو۔
امام بغوی نے شرح السنۃ: ۱۲/ ۳۶۲ میں کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لفظ زَعَمُوا کی مذمت اس لیے کی ہے،
کہ زیادہ تر اس لفظ کا استعمال ایسی باتوں کے لیے ہوتا ہے، جو زبانوں پر مشہور ہوتی ہیں، لیکن ان کی کوئی سند یا ثبوت نہیں ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لفظ زَعَمُوا کو سواری سے تشبیہ دی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی اس لفظ کے ذریعے اپنی مقصود بات تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ ماحصلیہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حدیث میں بیانات و روایات میں تحقیق کرنے کا حکم دے رہے ہیں،یعنی اگر کوئی شخص حدیث بیان کرنا چاہتا ہے تو صرف ثقہ راویوں کی بیان کردہ احادیث روایت کرنی چاہئیں، وگرنہ وہ اس ارشادِ نبوی کا مصداق بن جائے گا: آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیےیہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کر دے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے کوئی حدیث بیان کی، جبکہ اس کا خیال ہو کہ وہ جھوٹ ہے، تو وہ جھوٹوں میں سے ایک ہو گا۔ (صحیحہ: ۸۶۶)

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9659
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَخْبَرَ مُوسَى بِمَا صَنَعَ قَوْمُهُ فِي الْعِجْلِ فَلَمْ يَلْقَ الْأَلْوَاحَ فَلَمَّا عَايَنَ مَا صَنَعُوا أَلْقَى الْأَلْوَاحَ فَانْكَسَرَتْ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اطلاع دینا، مشاہدے کی طرح نہیں ہے، جب اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام کو خبر دی کہ اس کی قوم نے بچھڑے کے ساتھ یہ کچھ کر دیا ہے، تو انھوں نے تختیوں کو نہیں پھینکا، لیکن جب انھوں نے اپنی قوم کے کیے کو دیکھا تو پھر تختیاں ڈال دیں اور وہ ٹوٹ گئیں۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع في الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9659]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الحاكم: 2/ 321، وابن حبان: 6213، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2447 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2447»
وضاحت: فوائد: … کوئی مانے یا نہ مانے، یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر انسان دیکھنے اور سننے میں فرق محسوس کرتا ہے، ابراہیم علیہ السلام کتنے جلیل القدر پیغمبر تھے، ہم اندازہ ہی نہیں کر سکتے کہ ان کی ایمانی اور اعتقادی کیفیت و کمیت کیا ہو گی، لیکن انھوں نے بھی اللہ تعالیٰ سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے، اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان کیا: {وَاِذْ قَالَ اِبْرٰھٖمُرَبِّاَرِنِیْ کَیْفَ تُـحْیِ الْمَوْتٰی قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلٰی وَلٰکِنْ لِّیَطْمَیِنَّ قَلْبِیْ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَۃً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْھُنَّ اِلَیْکَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰی کُلِّ جَبَلٍ مِّنْہُنَّ جُزْئً ا ثُمَّ ادْعُہُنَّ یَاْتِیْنَکَ سَعْیًا وَاعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ۔} … اور جب ابراہیم علیہ السلام نے کہا اے میرے رب! مجھے دکھا تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ فرمایا اور کیا تو نے یقین نہیں کیا؟ کہا کیوں نہیں اور لیکن اس لیے کہ میرا دل پوری تسلی حاصل کر لے۔ فرمایا پھر چار پرندے پکڑ اور انھیں اپنے ساتھ مانوس کر لے، پھر ہر پہاڑ پر ان کا ایک حصہ رکھ دے، پھر انھیں بلا، دوڑتے ہوئے تیرے پاس آجائیں گے اور جان لے کہ بے شک اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔(سورۂ بقرہ: ۲۶۰)
مزید دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۳۸۰)

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں