الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ الْكِبْرِ والخيلاء
تکبر اور بڑائی سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9717
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ كِبْرٍ) ) فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَيُعْجِبُنِي أَنْ يَكُونَ ثَوْبِي غَسِيلًا وَرَأْسِي دَهِينًا وَشِرَاكُ نَعْلِي جَدِيدًا وَذَكَرَ أَشْيَاءَ حَتَّى ذَكَرَ عِلَاقَةَ سَوْطِهِ أَفَمِنَ الْكِبْرِ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ( (لَا ذَاكَ الْجَمَالُ إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ وَلَكِنَّ الْكِبْرَ مَنْ سَفِهَ الْحَقَّ وَازْدَرَى النَّاسَ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی آگ میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں دانے کے برابر ایمان ہو گا اور وہ آدمی جنت میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں دانے کے برابر تکبر ہو گا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے یہ بات پسند ہے کہ میرے کپڑے دھلے ہوئے ہوں، سر پر تیل لگا ہوا ہو، میرے جوتے کا تسمہ نیاہو، پھر اس نے مزید کچھ اشیا کا ذکر بھی کیا،یہاں تک کہ کوڑا لٹکانے کے حلقے کی بات کی، تو کیایہ چیزیں تکبر سے ہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں،یہ تو جمال ہے، بیشک اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے، تکبر یہ ہے کہ حق کو ٹھکرا دیا جائے اور لوگوں کو بنظر حقارت دیکھا جائے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9717]
تخریج الحدیث: «مرفوعه صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 10533، والحاكم: 1/ 26، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3789 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3789»
الحكم على الحديث: مرفوعه صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9718
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (مَا مِنْ رَجُلٍ يَمُوتُ حِينَ يَمُوتُ وَفِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ تَحِلُّ لَهُ الْجَنَّةُ أَنْ يَرِيحَ رِيحَهَا وَلَا يَرَاهَا) ) فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ أَبُو رَيْحَانَةَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ الْجَمَالَ وَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں مرا ہو کہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو تو جنت اس کے لیے اس قدر بھی حلال نہیں ہو گی کہ وہ اس کی خوشبو پا سکے یا اس کو دیکھ سکے۔ قریش کے ابو ریحانہ نامی آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں تو حسن و جمال کو پسند کرتا ہوں، …۔ پھر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرح کی روایت بیان کی۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9718]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17369 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17504»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9719
عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (لَا يَدْخُلُ شَيْءٌ مِنَ الْكِبْرِ الْجَنَّةَ) ) فَقَالَ قَائِلٌ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَتَجَمَّلَ بِحَبْلَيْ سَوْطِي وَشِسْعِ نَعْلِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ بِالْكِبْرِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ إِنَّمَا الْكِبْرُ مَنْ سَفَهَ الْحَقَّ وَغَمَصَ النَّاسَ بِعَيْنَيْهِ) ) يَعْنِي بِالْحَبْلَيْنِ سَيْرَ السَّوْطِ وَشِسْعَ النَّعْلِ
۔ سیدنا ابو ریحانہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تکبر میں سے کوئی چیز جنت میں داخل نہیں ہو گی۔ ایک کہنے والے نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں تو پسند کرتا ہوں کہ اپنے کوڑے کے دھاگے یا چمڑے اور اپنے جوتے کے تسمے کے ساتھ جمال حاصل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تکبر نہیں ہے، بیشک اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتاہے، تکبر یہ ہے کہ حق کو ٹھکرا دیا جائے اور لوگوں کو بنظرِ حقارت دیکھا جائے۔ حَبْلَان سے مراد کوڑے کا چمڑا یا دھاگہ ہے اور جوتے کا تسمہ ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9719]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله: بعينيه، وھذا اسناد ضعيف، لجھالة عبد الرحمن بن حوشب، وجھالة ثوبان ابن شھر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17207 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17339»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره دون قوله: بعينيه
حدیث نمبر: 9720
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ نُوحًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ لِابْنِهِ إِنِّي قَاصٌّ عَلَيْكَ الْوَصِيَّةَ آمُرُكَ بِاثْنَتَيْنِ وَأَنْهَاكَ عَنْ اثْنَتَيْنِ آمُرُكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَذَكَرَ فَضْلَهَا وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ فَذَكَرَ فَضْلَهَا ثُمَّ قَالَ وَأَنْهَاكَ عَنِ الشِّرْكِ وَالْكِبْرِ) ) قَالَ قُلْتُ أَوْ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الشِّرْكُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا الْكِبْرُ قَالَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا نَعْلَانِ حَسَنَتَانِ لَهُمَا شِرَاكَانِ حَسَنَانِ قَالَ ( (لَا) ) قَالَ هُوَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا حُلَّةٌ يَلْبَسُهَا قَالَ ( (لَا) ) قَالَ الْكِبْرُ هُوَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا دَابَّةٌ يَرْكَبُهَا قَالَ ( (لَا) ) قَالَ أَفَهُوَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا أَصْحَابٌ يَجْلِسُونَ إِلَيْهِ قَالَ ( (لَا) ) قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا الْكِبْرُ قَالَ ( (سَفْهُ الْحَقِّ وَغَمْصُ النَّاسِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ کے نبی نوح علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا تو انھوں نے اپنے بیٹے سے کہا: بیشک میں تجھے ایک وصیت کرنے لگا ہوں، میں تجھے دو باتوں کا حکم دیتا ہوں اور دو سے منع کرتا ہوں، میں تجھے لَا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہُ کا حکم دیتا ہوں، پھر اس کلمہ کی فضیلت بیان کی اور میں تجھے سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ کی وصیت کرتا ہوں، پھر اس کی فضیلت کا ذکر کیا اور میں تجھے شرک اور تکبر سے منع کرتا ہوں۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! شرک کو تو ہم پہچانتے ہیں،یہ تکبر کیا ہے؟ کیایہ ہے کہ بندے کے اچھے جوتے ہوں اور ان کے اچھے تسمے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: کیایہ ہے کہ بندے کی پوشاک ہو، جس کو وہ زیب ِ تن کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ اس نے کہا: تو پھر کیا تکبر یہ ہے کہ بندے کے پاس چوپایہ ہو، جس پر سوار ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ اس نے کہا: کیا پھر تکبر یہ ہے کہ بندے کے ساتھی ہوں، جو اس کے ساتھ بیٹھا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر تکبر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حق کو ٹھکرا دینا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9720]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البزار: 2998، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6583 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6583»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح
حدیث نمبر: 9721
عَنْ أَبِي حَيَّانَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ الْتَقَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ الْعَاصِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَهُوَ يَبْكِي فَقَالَ الْقَوْمُ مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي هَذَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِنْسَانٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ) )
۔ ابو حیان کے باپ ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہے: سیدنا عبد اللہ بن عمرو اور سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کی ملاقات ہوئی، پھر سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہمامتوجہ ہوئے اور رونے لگ گئے، لوگوں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! تم کیوں روتے ہو؟ انھوں نے کہا: اس چیز کی وجہ سے، جو انھوں نے مجھے بیان کی ہے، یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی جنت میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو گا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9721]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 9/ 89، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6526 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6526»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9722
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ الْتَقَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ عَلَى الْمَرْوَةِ فَتَحَدَّثَا ثُمَّ مَضَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو وَبَقِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَبْكِي فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ هَذَا يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو زَعَمَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ أَكَبَّهُ اللَّهُ عَلَى وَجْهِهِ فِي النَّارِ) )
۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: مروہ پر سیدنا عبد اللہ بن عمر اور سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم کی ملاقات ہوئی، ان دونوں نے باتیں کیں، پھر سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما چلے گئے اور پیچھے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رونے لگ گئے، ایک بندے نے ان سے کہا: اے ابو عبد الرحمن! تم کیوں روتے ہو؟ انھوں نے کہا: یہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما یہ کہہ گئے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو گا، اللہ تعالیٰ اس کو چہرے کے بل جہنم میں گرائے گا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9722]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7015»
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7015
حدیث نمبر: 9723
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ كُنْتُ لَا أُحْجَبُ عَنِ النَّجْوَى وَلَا عَنْ كَذَا وَلَا عَنْ كَذَا قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَنَسِيَ وَاحِدَةً وَنَسِيتُ أَنَا وَاحِدَةً قَالَ فَأَتَيْتُهُ وَعِنْدَهُ مَالِكُ بْنُ مُرَارَةَ الرَّهَاوِيُّ فَأَدْرَكْتُ مِنْ آخِرِ حَدِيثِهِ وَهُوَ يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ قُسِمَ لِي مِنَ الْجَمَالِ مَا تَرَى فَمَا أُحِبُّ أَنَّ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ فَضَلَنِي بِشِرَاكَيْنِ فَمَا فَوْقَهَا أَفَلَيْسَ ذَلِكَ هُوَ الْبَغْيَ قَالَ ( (لَا لَيْسَ ذَلِكَ الْبَغْيَ لَكِنَّ الْبَغْيَ مَنْ بَطَرَ قَالَ أَوْ قَالَ سَفِهَ الْحَقَّ وَغَمَطَ النَّاسَ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے نہ سرگوشی سے منع کیا جاتا تھا اور نہ فلاں فلاں چیز سے، ابن عون کہتے ہیں: ایک چیز وہ بھول گئے اور ایک مجھے یاد نہ رہی، پھر میں ان کے پاس آیا، جبکہ ان کے پاس مالک بن مرارہ رہاوی بیٹھے ہوئے تھے اور وہ کوئی حدیث بیان کر رہے تھے، اس حدیث کا آخری حصہ، جو میں نے پایا، وہ یہ تھا: انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے حسن و جمال میں سے خاصا حصہ دیا گیا ہے، آپ کو معلوم ہی ہے، اب میں چاہتا ہوں کہ کوئی آدمی دو تسموں کے معاملے میں بھی مجھ سے برتری نہ لے جائے، کیایہ سرکشی تو نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا: نہیں،یہ سرکشی نہیں ہے، سرکشی تو یہ ہے کہ حق کو ٹھکرا دیا جائے اور لوگوں کو حقیر سمجھا جائے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9723]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الحاكم: 4/ 182، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3644 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3644»
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 9724
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (مَنْ تَعَظَّمَ فِي نَفْسِهِ أَوِ اخْتَالَ فِي مِشْيَتِهِ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بڑا بنایا اکڑ کر چلا، وہ اللہ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضبناک ہوگا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9724]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري في الادب المفرد: 549، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5995 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5995»
وضاحت: فوائد: … یہ احادیث اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ خوش پوشاکی، حسن و جمال، طاقت و توانائی، قدو قامت یا دوسری صلاحیتوں کی بنا پر خود پسندی، عجب پسندی، اعجابِ نفس، اکڑنا، اترا کر چلنا، اپنے آپ کو بڑا سمجھنا اور تکبر میں مبتلا ہونے سے اجتناب کرنا ازحد ضروری ہے، بلکہ ان احسانات سے محروم انسانیت کو مدّنظر رکھ کر ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ ہماری دنیوی ضروریات باندازِ احسن پوری کرنے کے لیے ہم پر اپنے انعامات کی بارش کر دے، لیکن ہمارے دل و دماغ کی کج روی کی وجہ وہ ہمارے لیے حفاظت ِ نفس کی بجائے وبالِ جان اور رحمت کی بجائے زحمت بن جائیں۔
قارئین کرام! غور فرمائیں کہ ہماری شریعت میں اچھا لباس پہننے اور بالوں میں کنگھی کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے، لیکن اس آدمی کے لیےیہ امور غضب الٰہی کا موجب بن گئے، کیونکہ اس کے دماغ میں ٹیڑھ پن تھا۔
قارئین کرام! غور فرمائیں کہ ہماری شریعت میں اچھا لباس پہننے اور بالوں میں کنگھی کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے، لیکن اس آدمی کے لیےیہ امور غضب الٰہی کا موجب بن گئے، کیونکہ اس کے دماغ میں ٹیڑھ پن تھا۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح
حدیث نمبر: 9725
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ الْجَوَّاظُ وَالْجَعْظَرِيُّ وَالْعُتُلُّ وَالزَّنِيمُ) )
۔ سیدنا عبد الرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں یہ افراد داخل نہیں ہوں گے: اکڑ کر چلنے والا، بدمزاج و بدخلق، روکھا اکھڑ مزاج آدمی، کمینہ جو دناء ت و بدی میں مشہور ہو۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9725]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17993 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18156»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9726
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (يُحْشَرُ الْمُتَكَبِّرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمْثَالَ الذَّرِّ فِي صُوَرِ النَّاسِ يَعْلُوهُمْ كُلُّ شَيْءٍ مِنَ الصِّغَارِ حَتَّى يَدْخُلُوا سِجْنًا فِي جَهَنَّمَ يُقَالُ لَهُ بُولَسُ فَتَعْلُوهُمْ نَارُ الْأَنْيَارِ يُسْقَوْنَ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ عِصَارَةِ أَهْلِ النَّارِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تکبر کرنے والوں کو لوگوں کی صورت میں چھوٹی چیونٹیوں کی طرح جمع کیا جائے گا، ذلت و حقارت ان پر ہر طرف سے چھا رہی ہو گی،یہاں تک کہ وہ جہنم کے بولس نامی قیدخانے میں داخل ہو جائیں گے، وہاں ان پر آگوں کی آگ چڑھ آئے گی اور ان کو طینۃ الخبال یعنی جہنمیوں کی پیپ پلائی جائے گی۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9726]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الترمذي: 2492، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6677 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6677»
الحكم على الحديث: اسناده حسن