الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ التَّفَاخُرِ بِالْآبَاءِ فِي نَّسْبٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ
نسب وغیرہ کے معاملے میں آباء پر مفاخرت کرنے سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9729
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (لَا تَفْتَخِرُوا بِآبَائِكُمُ الَّذِينَ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَمَا يُدَهْدِهُ الْجُعَلُ بِمَنْخِرَيْهِ خَيْرٌ مِنْ آبَائِكُمُ الَّذِينَ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جاہلیت میں مر جانے والے آباء و اجداد پر فخر مت کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بھونرا (کالا کیڑا) اپنے نتھنوں سے جس چیز کو لڑھکاتا ہے، وہ تمہارے ان آباء سے بہتر ہے، جو جاہلیت میں مر گئے ہیں۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9729]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطيالسي: 2682، وابن حبان: 5775، والطبراني في الكبير: 11862، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2739 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2739»
وضاحت: فوائد: … اپنی قوم، نسل اور آباء و اجداد کی بنا پر ناز کرنا، فخر کرنا، فوقیت جتانا، نفیس و فائق سمجھنا، برتری ثابت کرنا اور ذریعۂ امتیاز و اعزاز سمجھنا، اسلام میں اس چیز کی کوئی اہمیت نہیں ہے، اگر نسب کو آگے بڑھایا جائے تو تمام قومیں، قبیلے اور خاندان آدم علیہ السلام پر اکٹھے ہو جاتے ہیں، تعارف کے لیے نسل کا نام لیا جا سکتا ہے، بعض لوگوں کو اپنی برادریوں سے اچھے مزاج ملتے ہیں، ان کی وجہ سے عزت و حمیت والی اور با مقصد زندگی نصیب ہوتی ہے، ایسے مزاج پر پابند رہ کر اللہ تعالیٰ کا شکر اد اکرنا چاہیے، اس ضمن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی بعض قبائل اور اشخاص کی تعریف کی ہے۔
مسلمان کے لیے باعث ِ ناز چیز تقوی،پرہیزگاری اور عمل صالح ہے، جیسا کہ سابق باب کے آخر میں مذکورہ آیت سے ثابت ہو رہا ہے۔
نسب کا سب سے اعلی سلسلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان بنو ہاشم کا ہے، لیکن اخروی نجات کے سلسلے میں اس کا بھی کوئی دخل نہیں ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۹۸۵۵)والا باب۔
بھونرا: ایک کالا کیڑا ہوتا ہے، عام طور پر یہ گوبر سے چھوٹی سی گیند نما چیز بنا کر اور اس پر اگلی ٹانگیں رکھ کر اس کو لڑھکاتا رہتا ہے۔
مسلمان کے لیے باعث ِ ناز چیز تقوی،پرہیزگاری اور عمل صالح ہے، جیسا کہ سابق باب کے آخر میں مذکورہ آیت سے ثابت ہو رہا ہے۔
نسب کا سب سے اعلی سلسلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان بنو ہاشم کا ہے، لیکن اخروی نجات کے سلسلے میں اس کا بھی کوئی دخل نہیں ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۹۸۵۵)والا باب۔
بھونرا: ایک کالا کیڑا ہوتا ہے، عام طور پر یہ گوبر سے چھوٹی سی گیند نما چیز بنا کر اور اس پر اگلی ٹانگیں رکھ کر اس کو لڑھکاتا رہتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9730
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (لَيَدَعُنَّ رِجَالٌ فَخْرَهُمْ بِأَقْوَامٍ إِنَّمَا هُمْ فَحْمٌ مِنْ فَحْمِ جَهَنَّمَ أَوْ لَيَكُونَنَّ أَهْوَنَ عَلَى اللَّهِ مِنَ الْجِعْلَانِ الَّتِي تَدْفَعُ بِأَنْفِهَا النَّتْنَ وَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا بِالْآبَاءِ مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ النَّاسُ بَنُو آدَمَ وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضرور ضرور یا تو لوگ قوموں کی بنا پر فخر کرنے کو ترک کر دیں گے، یہ قومیں تو جہنم کا کوئلہ تھیں،یا پھر یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس بھونرے سے بھی زیادہ ذلیل ہو جائیں گے، جو اپنی ناک سے بدبودار چیزوں کو دھکیلتا ہے، یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کے غرورو نخوت اور آباء و اجداد کی بنا پر فخر کرنے کو ختم کر دیا ہے، اب دو ہی قسمیں رہ گئی ہیں: متقی مؤمن اور بد کردار، بد بخت سارے لوگ آدم علیہ السلام کے بیٹے ہیں اور آدم علیہ السلام مٹی سے بنائے گئے ہیں۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9730]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الترمذي: 3955، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10781 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10791»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9731
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيَدَعَنَّ النَّاسُ فَخْرَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَوْ لَيَكُونَنَّ أَبْغَضَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْخَنَافِسِ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ جاہلیت کے فخر کو چھوڑ دیں گے یا پھر اللہ تعالیٰ کے ہاں بھونرے سے بھی زیادہ ذلیل ہو جائیں گے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9731]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8778»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9732
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ خُطْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلَا إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ وَإِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ وَلَا لِأَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ وَلَا أَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ إِلَّا بِالتَّقْوَى أَبَلَّغْتُ قَالُوا بَلَّغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ ابو نضرہ سے مروی ہے کہ ایام تشریق کے وسط میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطبہ سننے والے صحابی نے اس کو بیان کیا کہ نبی کریم نے فرمایا: اے لوگو! خبردار! بیشک تمہارا ربّ ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے، کسی عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو عربی پر، کسی سرخ کو سیاہ فام پر اور کسی سیاہ فام کو سرخ پر کوئی برتری حاصل نہیں ہے، مگر تقوی کی بنیاد پر، کیا میں نے پیغام پہنچا دیا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول نے پیغام پہنچا دیا ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9732]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23489 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23885»
وضاحت: فوائد: … کاش ہم بھی اپنے تعلقات کی بنیاد تقوی اور اللہ کے خوف کو قرار دیتے، ہمارے معاشرے میں سرمائے کی بھی اہمیت ہے، رنگت کی بھی قدر ہے، برادری ازم بھی معیار ہے، رشتہ داری بھی قابل توجہ ہے، اگر نہیں ہے تو تقوی اور پرہیزگاری کی اہمیت نہیں ہے، یعنی جو چیز اسلام میں سب سے اہم ہے، وہ ہمارے نزدیک اہم نہیں ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9733
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْتَسَبَ رَجُلَانِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى عَهْدِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ أَحَدُهُمَا مُسْلِمٌ وَالْآخَرُ مُشْرِكٌ فَانْتَسَبَ الْمُشْرِكُ قَالَ أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ حَتَّى بَلَغَ تِسْعَةَ آبَاءٍ ثُمَّ قَالَ لِصَاحِبِهِ انْتَسِبْ لَا أُمَّ لَكَ قَالَ أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ وَأَنَا بَرِيءٌ مِمَّا وَرَاءَ ذَلِكَ فَنَادَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ النَّاسَ فَجَمَعَهُمْ ثُمَّ قَالَ قَدْ قُضِيَ بَيْنَكُمَا أَمَّا الَّذِي انْتَسَبَ إِلَى تِسْعَةِ آبَاءٍ فَأَنْتَ فَوْقَهُمُ الْعَاشِرُ فِي النَّارِ وَأَمَّا الَّذِي انْتَسَبَ إِلَى أَبَوَيْهِ فَأَنْتَ امْرُؤٌ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ موسی علیہ السلام کے زمانے میں دو آدمیوں نے اپنا اپنا نسب نامہ بیان کیا، ان میں سے ایک مسلمان تھا اور دوسرا مشرک، مشرک نے نسب بیان کرتے ہوئے کہا: میں تو فلاں بن فلاں ہوں، (نو پشتیں ذکر کردیں)، پھر اس نے اپنے مقابل سے کہا: تیری ماں نہ رہے، تو اپنا نسب بیان کر؟ میں فلاں بن فلاں ہوں اور اس کے بعد والے آباء سے بری ہوں، اُدھر موسی علیہ السلام نے لوگوں کو جمع کیا اور کہا: تم دو کے درمیان فیصلہ کر دیا گیا ہے، جس نے نو آباء تک نسب ذکر کیا ہے، تو ان کا دسواں ہے اور تم سب کے سب آگ میں ہو اور جس آدمی نے اپنے والدین تک نسب ذکر کیا، تو اسلام والوں میں ایک ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9733]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين الا انه منقطع، عبد الرحمن بن ابي ليلي لم يسمع من معاذ، وانظر الحديث الآتي، أخرجه الطبراني: 20/ 284، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22089 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22439»
وضاحت: فوائد: … اگلی حدیث اور اس کے فوائد ملاحظہ ہوں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9734
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْتَسَبَ رَجُلَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ فَمَنْ أَنْتَ لَا أُمَّ لَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْتَسَبَ رَجُلَانِ عَلَى عَهْدِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عہد ِ نبوی میں دو آدمیوں نے اپنا اپنا نسب نامہ بیان کیا، ایک نے کہا: میں فلاں بن فلاں ہوں، تو کون ہے، تیری ماں نہ رہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موسی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں دو آدمیوں نے اپنا اپنا نسب نامہ بیان کیا تھا۔ پھر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرح ذکر کیا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9734]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21178 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21497»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کا پورا متن یوں ہے:
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اِنْتَسَبَ رَجُلَان عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ اَحَدُھُمَا: اَنَا فُلَانُ ابْنُ فُلَانٍ، فَمَنْ اَنْتَ لَا اُمَّ لَکَ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((اِنْتَسَبَ رَجُلَانِ عَلٰی عَھْدِ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ فَقَالَ اَحَدُھُمَا: اَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ حَتّٰی عَدَّ تِسْعَۃً، فَمَنْ اَنْتَ لَا اُمَّ لَکَ؟ قَالَ: اَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانِ بْنِ الْاِسْلَامِ۔ قَالَ: فَاَوْحَی اللّٰہُ اِلٰی مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ اَنْ قُلْ لِھٰذَیْنِ الْمُنْتَسِبَیْنِ: اَمَّا اَنْتَ اَیُّھَا الْمُنْتَمِيْ اَوِ الْمُنْتَسِبُ اِلٰی تِسْعَۃٍ فِيْ النَّارِ، فَاَنْتَ عَاشِرُھُمْ، وَاَمَّا اَنْتَ یَا ھٰذَا الْمُنْتَسِبُ اِلٰی اثْنَیْنِ فِيْ الْجَنَّۃِ، فَاَنْتَ ثَالِثُھُمَا فِيْ الْجَنَّۃِ۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے
میں دو آدمیوں نے اپنا اپنا نسب نامہ بیان کیا۔ ایک نے کہا: میں تو فلاں بن فلاں ہوں، تیری ماں نہ رہے، تو کون ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو آدمیوں نے موسی علیہ السلام کے زمانے میں اپنا اپنا نسب بیان کیا، ایک نے کہا: میں فلاں بن فلاں … ہوں(نو پشتیں ذکر کردیں)، تیریماں نہ رہے تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں فلاں بن فلاں بن اسلام ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ نسب بیان کرنے والے ان دو آدمیوں سے کہو: تو، جس نے نو پشتوں تک اپنا نسب بیان کیا ہے، تیری نو پشتیں بھی جہنم میں ہیں اور تو ان کا دسواں ہے۔ اور تو، جس نے دو پشتیں بیان کی ہیں، تیری دونوں پشتیں جنت میں ہیں اور تو ان کا تیسرا ہے، جو جنت میں جائے گا۔ (مسند احمد: ۵/۱۲۸)
اگر ضرورت ہو تو تعارف کے لیے باپ یا دادے کا نام پیش کیا جا سکتا ہے۔ اسلام میں نسب سے برتری ثابت نہیں ہوتی۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((وَمَنْ بَطَّأَ بِہِ عَمَلُہُ لَمْ یُسْرِعْ بِہِ نَسَبُہُ۔)) (صحیح مسلم: ۴۸۶۷) … جس کو اس کے عمل نے پیچھے کر دیا، اس کا نسب اس کو آگے نہیں لے جا سکے گا۔
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اِنْتَسَبَ رَجُلَان عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ اَحَدُھُمَا: اَنَا فُلَانُ ابْنُ فُلَانٍ، فَمَنْ اَنْتَ لَا اُمَّ لَکَ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((اِنْتَسَبَ رَجُلَانِ عَلٰی عَھْدِ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ فَقَالَ اَحَدُھُمَا: اَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ حَتّٰی عَدَّ تِسْعَۃً، فَمَنْ اَنْتَ لَا اُمَّ لَکَ؟ قَالَ: اَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانِ بْنِ الْاِسْلَامِ۔ قَالَ: فَاَوْحَی اللّٰہُ اِلٰی مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ اَنْ قُلْ لِھٰذَیْنِ الْمُنْتَسِبَیْنِ: اَمَّا اَنْتَ اَیُّھَا الْمُنْتَمِيْ اَوِ الْمُنْتَسِبُ اِلٰی تِسْعَۃٍ فِيْ النَّارِ، فَاَنْتَ عَاشِرُھُمْ، وَاَمَّا اَنْتَ یَا ھٰذَا الْمُنْتَسِبُ اِلٰی اثْنَیْنِ فِيْ الْجَنَّۃِ، فَاَنْتَ ثَالِثُھُمَا فِيْ الْجَنَّۃِ۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے
میں دو آدمیوں نے اپنا اپنا نسب نامہ بیان کیا۔ ایک نے کہا: میں تو فلاں بن فلاں ہوں، تیری ماں نہ رہے، تو کون ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو آدمیوں نے موسی علیہ السلام کے زمانے میں اپنا اپنا نسب بیان کیا، ایک نے کہا: میں فلاں بن فلاں … ہوں(نو پشتیں ذکر کردیں)، تیریماں نہ رہے تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں فلاں بن فلاں بن اسلام ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ نسب بیان کرنے والے ان دو آدمیوں سے کہو: تو، جس نے نو پشتوں تک اپنا نسب بیان کیا ہے، تیری نو پشتیں بھی جہنم میں ہیں اور تو ان کا دسواں ہے۔ اور تو، جس نے دو پشتیں بیان کی ہیں، تیری دونوں پشتیں جنت میں ہیں اور تو ان کا تیسرا ہے، جو جنت میں جائے گا۔ (مسند احمد: ۵/۱۲۸)
اگر ضرورت ہو تو تعارف کے لیے باپ یا دادے کا نام پیش کیا جا سکتا ہے۔ اسلام میں نسب سے برتری ثابت نہیں ہوتی۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((وَمَنْ بَطَّأَ بِہِ عَمَلُہُ لَمْ یُسْرِعْ بِہِ نَسَبُہُ۔)) (صحیح مسلم: ۴۸۶۷) … جس کو اس کے عمل نے پیچھے کر دیا، اس کا نسب اس کو آگے نہیں لے جا سکے گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9735
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ افْتَخَرَ أَهْلُ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْإِبِلِ وَالسَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بُعِثَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ يَرْعَى غَنَمًا عَلَى أَهْلِهِ وَبُعِثْتُ أَنَا وَأَنَا أَرْعَى غَنَمًا لِأَهْلِي بِجِيَادٍ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اونٹوں اور بکریوں والے ایک دوسرے پر فخر کرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اونٹوں کے مالکوں میں فخر اور تکبر ہے اور بکریوں کے مالکوں میں سکینت اور وقار ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا جبکہ وہ بکریاں چرانے والے تھے اور جب مجھے بعثت عطا کی گئی تو میں بھی مقامِ جیاد میں بکریاں چرانے والا تھا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9735]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه البزار: 2370، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11918 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11940»
وضاحت: فوائد: … حدیث میں انبیائے کرام کی سادگی و بے ریائی کا بیان ہے۔ حافظ ابن حجر ؒرقمطرازہیں: ائمۂ دین کا خیال ہے کہ انبیائے کرام کے بکریاں چرانے کی وجہ یہ ہے کہ ان میں عاجزی و انکساری پیدا ہو جائے اور ان کے دل خلوت کے عادی بن جائیں اور ان کے لیے بکریوں کیتدبیر وانتظام سے لوگوں کی باگ ڈور سنبھالنا آسان ہو جائے، جبکہ امام کرمانی، امام خطابی سے نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں: امام بخارییہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کے لیے دنیا کے پجاریوں اور عیش و عشرت میں مست لوگوں کا انتخاب نہیں کیا، بلکہ ایسے لوگوں کو اس نعمت سے نوازا جو تواضع کرنے والے ہوں، جیسے بکریوں کے چرواہے اور پیشہ ور لوگ۔ (فتح الباری)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9736
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ انْظُرْ فَإِنَّكَ لَيْسَ بِخَيْرٍ مِنْ أَحْمَرَ وَلَا أَسْوَدَ إِلَّا أَنْ تَفْضُلَهُ بِتَقْوَى
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غور کر، تو کسی سرخ یا سیاہ فام سے بہتر نہیں ہے، الا یہ کہ تو اس پر تقوی کی برتری رکھتا ہو۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9736]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21407 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21736»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9737
عَنْ عُتَيِّ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا اعْتَزَى بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَعَضَّهُ وَلَمْ يَكْنِهِ فَنَظَرَ الْقَوْمُ إِلَيْهِ فَقَالَ لِلْقَوْمِ إِنِّي قَدْ أَرَى الَّذِي فِي أَنْفُسِكُمْ إِنِّي لَمْ أَسْتَطِعْ إِلَّا أَنْ أَقُولَ هَذَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا إِذَا سَمِعْتُمْ مَنْ يَعْتَزِي بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَعِضُّوهُ وَلَا تَكْنُوا
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی جاہلیت کی نسبت کے ساتھ منسوب ہوا، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے اس کو کہا کہ وہ اپنے باپ کی شرمگاہ کو چبائے اور انھوں نے بات کنایۃً نہیں کی، لوگوں نے (اس گالی کی وجہ سے) تعجب کے ساتھ ان کی طرف دیکھا، لیکن انھوں نے کہا: جو چیز تم اپنے نفس میں محسوس کر رہے ہو، میں اس کو جانتا ہوں، جبکہ میں صرف یہی کچھ کہنے کی طاقت رکھتا ہوں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ جب تم کسی شخص کو جاہلیت والی نسبتوں کی طرف منسوب ہوتے ہوئے دیکھو تو اشارہ کنایہ کیے بغیر اس کو کہو: تو اپنے باپ کی شرمگاہ چبائے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9737]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابن حبان: 3153، والنسائي في الكبري: 8864، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21233 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21553»
وضاحت: فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: خلیفۂ رسول سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس حدیث پر عمل کیا اور کہا: جو بندہ اپنے قبائل پر فخر کرے، تو اسے کہہ دیا کرو کہ وہ اپنے باپ کی شرمگاہ چبائے۔(ابن ابی شیبہ)۔ (صحیحہ: ۲۶۹)
شریعت ِ اسلامیہ کے نزدیک کسی فرد کے اعزاز و اکرام کی بنیاد اس کے تقوی پر ہے۔ جو جتنا متقی ہو گا وہ اتناہی معزز ومکرم ہو گا۔
شریعت ِ اسلامیہ کے نزدیک کسی فرد کے اعزاز و اکرام کی بنیاد اس کے تقوی پر ہے۔ جو جتنا متقی ہو گا وہ اتناہی معزز ومکرم ہو گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9738
عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا اعْتَزَى فَأَعَضَّهُ أُبَيٌّ بِهَنِ أَبِيهِ فَقَالُوا مَا كُنْتَ فَحَّاشًا قَالَ إِنَّا أُمِرْنَا بِذَلِكَ
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی (جاہلیت کی نسبت کے ساتھ) منسوب ہوا، انھوں نے اس کے باپ کی شرمگاہ کی گالی دے کر اس کی بات کو کاٹا، لوگوں نے کہا: اے ابی! تم تو بد گو نہیں تھے؟ انھوں نے کہا: بیشک ہمیں اس چیز کا حکم دیا گیا ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9738]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، وھو حديث سابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21537»
الحكم على الحديث: صحیح