🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ النِّفَاقِ وَذِكْرِ الْمُنَافِقِينَ وَخِصَالِهِمْ وَذِي الْوَجْهَيْنِ
نفاق سے ترہیب اور منافقوں اور ان کی خصلتوں اور دو رخے آدمی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9751
(وَعَنْهُ أَيْضًا) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا يَنْبَغِي لِذِي الْوَجْهَيْنِ أَنْ يَكُونَ أَمِينًا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو رخے بندے کو زیب نہیں دیتا کہ وہ امین بھی ہو۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9751]
تخریج الحدیث: «حديث قوي، أخرجه البيھقي:10/ 246، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7890 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7877»

الحكم على الحديث:
حديث قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9752
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ لَيْسَ لَنَا أَجْرٌ بِمَكَّةَ قَالَ لَتَأْتِيَنَّكُمْ أُجُورُكُمْ وَلَوْ كُنْتُمْ فِي جُحْرِ ثَعْلَبٍ قَالَ فَأَصْغَى إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرَأْسِهِ فَقَالَ إِنَّ فِي أَصْحَابِي مُنَافِقِينَ
۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگ یہ خیال بھی کرتے ہیں کہ ہمارے لیے مکہ میں اجر نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اجر ضرور ضرور تمہارے پاس پہنچے گا، اگرچہ تم لومڑ کے بل میں ہوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک میری طرف جھکایا اور فرمایا: میرے ساتھیوں میں منافق بھی ہیں۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9752]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن جبير بن مطعم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16764 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16886»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام الراوي عن جبير بن مطعم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9753
عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنِّي لَجَالِسٌ تَحْتَ مِنْبَرِ عُمَرَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ (وَفِي لَفْظٍ عَلَى أُمَّتِي) كُلُّ مُنَافِقٍ عَلِيمِ اللِّسَانِ
۔ ابو عثمان نہدی کہتے ہیں: میں عمر رضی اللہ عنہ کے منبر کے پاس تھا، وہ لوگوں سے خطاب کر رہے تھے، انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ ڈر اس منافق کا ہے، جوزبان آور ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9753]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه البزار: 305، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 310 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 310»
وضاحت: فوائد: … کوئی شک نہیں کہ خطاب میں جادو کی سی تاثیر پائی جاتی ہے اور بعض لوگ اپنے اندازِ خطابت کے زور پر لوگوں میں اتنی مقبولیت حاصل کر لیتے ہیں کہ ان کی ہر بات کو حجت سمجھا جانے لگتا ہے۔ ایسے میں مومن کو دلائل کا سہارا لینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے منافقوں کیخصلت ِ بد کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: {وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰطِیْنِہِمْ قَالُوْٓا اِنَّا مَعَکُمْ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَہْزِئُ وْنَ۔} (سورۂ بقرہ: ۱۴) … اور جب (یہ منافق) ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی ایمان والے ہیں اور جب اپنے بڑوں کے پاس جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو ان (مسلمانوں) سے صرف مذاق کرتے ہیں۔
اب جو منافق جتنا زبان آور، چرب لسان، زبان دراز، خوشامدی، زبان کے داؤ پیچ جاننے والا اور سیاہ کو سفید ثابت کرنے والا ہو گا، وہ اتنا ہی مسلمانوں کے سامنے ان کا وفادار بن کر ان کو نقصان پہنچائے گا اور ان کے رازدارانہ امور ان کے دشمنوں تک پہنچا دے گا۔

الحكم على الحديث:
اسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں