🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَرْهِيبِ مِنْ هَجْرِ الْمُسْلِمِ وَتَرْوِيعِهِ وَالاضْرَارِ به
مسلمان سے قطع تعلقی کرنے، اس کو گھبرانے اور نقصان پہنچانے سے ترہیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9780
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ) )
۔ سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کو تین سے زیادہ دنوں تک چھوڑ دے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9780]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه النسائي: 7/121، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1589 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1589»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9781
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَا هِجْرَةَ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَمَنْ هَجَرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَمَاتَ دَخَلَ النَّارَ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین سے زائد دنوں تک کی قطع تعلقی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، جس نے اپنے بھائی سے تین سے زائد دنوں تک قطع تعلقی کیے رکھی، پھر وہ مر گیا تو وہ آگ میں داخل ہو گا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9781]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 4914، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9092 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9081»
وضاحت: فوائد: … جذبات کا خیال رکھتے ہوئے وعید کو تین دن سے مقید کیا گیا ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ کوئی آدمی غصے کی تیزی کی وجہ سے جلدی صلح کرنے کے لیے تیار نہ ہو، بہرحال تین ایام سے زیادہ ناراضگی کی کوئی گنجائش نہیں۔

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9782
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ فِي كُلِّ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ) ) قَالَ مَعْمَرٌ وَقَالَ غَيْرُ سُهَيْلٍ ( (وَتُعْرَضُ الْأَعْمَالُ فِي كُلِّ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ فَيَغْفِرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا إِلَّا الْمُتَشَاحِنَيْنِ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْمَلَائِكَةِ ذَرُوهُمَا حَتَّى يَصْطَلِحَا) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر سوموار اور جمعرات کو جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ سہیل کے علاوہ باقی راویوں کے الفاظ یہ ہیں: ہر سوموار اور جمعرات کو اعمال پیش کیے جاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ ہر اس بندے کو بخش دیتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کرتا، ما سوائے باہم بغض و عداوت رکھنے والے دو افراد کے، اللہ تعالیٰ فرشتوں سے کہتا ہے: ان دو کو رہنے دو، جب تک یہ صلح نہ کرلیں۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9782]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2565، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7639 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7627»
وضاحت: فوائد: … باہمی بغض و عداوت اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا خصوصی سلسلہ رک جاتا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2565
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9783
عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ فَإِنْ كَانَ تَصَادُرًا فَوْقَ ثَلَاثٍ فَإِنَّهُمَا نَاكِبَانِ عَنِ الْحَقِّ مَا دَامَا عَلَى صُرَامِهِمَا وَأَوَّلُهُمَا فَيْئًا فَسَبْقُهُ بِالْفَيْءِ كَفَّارَتُهُ فَإِنْ سَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ وَرَدَّ عَلَيْهِ سَلَامَهُ رَدَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ وَرَدَّ عَلَى الْآخَرِ الشَّيْطَانُ فَإِنْ مَاتَا عَلَى صِرَامِهِمَا لَمْ يَجْتَمِعَا فِي الْجَنَّةِ أَبَدًا وَلَهُ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى لَمْ يَدْخُلَا الْجَنَّةَ جَمِيعًا أَبَدًا) )
۔ سیدنا ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کو تین سے زائد راتوں تک چھوڑے رکھے، اگر وہ تین سے تجاوز کر جائیں تو جب تک قطع تعلقی پر اڑے رہیں گے، وہ حق سے منحرف رہیں گے، اور ان میں سے جو پہلے لوٹے گا تو اس کا لوٹنا اس کے گناہوں کا کفارہ بنے گا، پس اگر وہ سلام کہتا، لیکن وہ جواب نہیں دیتا اور اس کے سلام کو ردّ کر دیتا ہے، تو فرشتے اس کو جواب دیں گے اور دوسرے کا جواب شیطان دے گا۔ اگر ایسے دو افراد اپنی قطع تعلقی پر ہی مر جائیں تو وہ ہمیشہ کے لیے جنت میں جمع نہیں ہوں گے، ایک روایت میں ہے: وہ ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9783]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الطيالسي: 1223، وابويعلي: 1557، وابن حبان: 5664، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16257 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16365»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9784
عَنْ أَبِي خِرَاشٍ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (مَنْ هَجَرَ أَخَاهُ سَنَةً فَهُوَ كَسَفْكِ دَمِهِ) )
۔ سیدنا ابو خراش سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کو ایک سال تک چھوڑے رکھا، وہ اس کا خون بہا دینے کی طرح ہو گا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9784]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 4915، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17935 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18100»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9785
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ يَلْتَقِيَانِ فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ) )
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے بغض اور حسد نہ رکھو،باہمی قطع تعلقی اور دشمنی سے بچو، اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ، کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کو تین سے زائد دنوں تک چھوڑے رکھے، جب وہ دونوں ملتے ہیں تو یہ بھی رکتا ہے اور وہ بھی رکتا ہے، جبکہ ان میں بہتر وہ ہے، جو سلام میں پہل کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9785]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6065، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13354 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13387»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6065
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9786
عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ يَذْكُرُ فِيهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ يَلْتَقِيَانِ فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ) )
۔ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کو تین سے زیادہ دنوں کے لیے چھوڑے رکھے، جب دونوں ملتے ہیں، تو یہ بھی رکتا ہے اور وہ بھی رکتا ہے، جبکہ ان میں بہتر وہ ہے، جو سلام میں پہل کرے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9786]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2560، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23528 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23925»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2560
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9787
عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ وَهُوَ ابْنُ أَخِي عَائِشَةَ لِأُمِّهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حَدَّثَتْهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ قَالَ فِي بَيْعٍ أَوْ عَطَاءٍ أَعْطَتْهُ وَاللَّهِ لَتَنْتَهِيَنَّ عَائِشَةُ أَوْ لَأَحْجُرَنَّ عَلَيْهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَوَ قَالَ هَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَتْ هُوَ لِلَّهِ عَلَيَّ نَذْرٌ أَنْ لَا أُكَلِّمَ ابْنَ الزُّبَيْرِ كَلِمَةً أَبَدًا فَاسْتَشْفَعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ وَهُمَا مِنْ بَنِي زُهْرَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَطَفِقَ الْمِسْوَرُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ يُنَاشِدَانِ عَائِشَةَ إِلَّا كَلَّمَتْهُ وَقَبِلَتْ مِنْهُ وَيَقُولَانِ لَهَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَمَّا قَدْ عَلِمْتِ مِنَ الْهَجْرِ أَنْ لَا يَحِلَّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ
۔ عوف بن حارث، جو کہ سیدہ عائشہ کا اخیافی بھتیجا تھا، سے مروی ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کسی سودے یا عطیے کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کہا: اللہ کی قسم! یا تو عائشہ رضی اللہ عنہا با ز آ جائے گی،یا میں اس پر پابندی لگا دوں گا، سیدہ نے پوچھا: کیا واقعی اس نےیہ بات کہی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، سیدہ نے کہا: میں اللہ کے لیے نذر مانتی ہوں کہ میں ابن زبیر سے کبھی بھی کلام نہیں کروں گی، پھر سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے سیدنا مسور بن مخرمہ اور عبد الرحمن بن اسود بن عبد ِ یغوث رضی اللہ عنہما سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کے حق میں سیدہ سے سفارش کریں،یہ دونوں آدمی بنو زہرہ قبیلے کے تھے، … …، پھر مسور اور عبد الرحمن نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو واسطے دینا شروع کیے، کہ وہ لازمی طور پر اس کے ساتھ کلام کرے اور اس سے معذرت قبول کرے اور انھوں نے سیدہ کو یہ بات بھی کہی تھی کہ تم جانتی ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قطع تعلقی سے روکا ہے، اور کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین دنوں سے زیادہ عرصے تک قطعی تعلقی کرے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9787]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6073، 6074، 6075، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18921 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19129»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نذر پوری نہ کرنے پر چالیس گردنیں آزاد کی تھیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6073
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9788
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (أَبْغَضُ الرِّجَالِ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے ناپسندیدہ شخص وہ ہے، جو سخت جھگڑالو ہو۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9788]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7188، ومسلم: 2668، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24277 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24781»
وضاحت: فوائد: … مجادلہ اور مخاصمہ اس قدر قبیح صفت ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی ایسے موصوف سے بغض رکھتے ہیں، جھگڑا جیسا بھی ہو، بالآخر جھگڑالو کو قابل مذمت بنا کے ہی چھوڑتا ہے۔
جھگڑالو آدمی اپنی تمام تر صلاحیتیں کھو بیٹھتا ہے، فسق وفجور بکتا ہے، دوسروں کی حرمتیں پامال کرتا ہے، ضد اور ہٹ دھرمی پر تل جاتا ہے، اس میں تکبر اور نخوت جیسے شیاطین ابھر آتے ہیں، الغرض وہ آپے سے باہر ہو کر لمحوں نے خطا کی صدیوں نے سزا پائی کا مصداق بن جاتا ہے۔ شریعت اسلامیہ میں حتی الوسع اپنے حق کی خاطر بھی جھگڑا کرنے سے باز رہنے کی تلقین کی گئی ہے، جیسا کہ سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: أَنَا زَعِیْمٌ بِبَیْتٍ فِیْ رَبَضِ الْجَنَّۃِ لِمَنْ تَرَکَ الْمِرَائَ وَاِنْ کَانَ مُحِقًّا۔ (ابوداود) … میں اس شخص کے لیے جنت کے اطراف میں ایک گھر کا ضامن ہوں جس نے حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دیا۔
جھگڑالوسے اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ نفرت فرماتے ہیںاور اگر غور کیاجائے تو لڑائی جھگڑے میں اتنی بڑی قباحتیں ہیں کہ جن کی وجہ سے آدمی اللہ کا محبوب نہیں ٹھہر سکتا:
۱۔ جھگڑا لو شخص اپنی اصلیت و اوقات پر نظر نہیں رکھتا کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح پانی کی بوندسے اسے خوبصورت وجود عطا کرتے ہوئے عقلِ سلیم جیسی عظیم نعمت سے ہمکنار فرمایا، اس قدر عظیم احسان کے باوجود اگر کوئی شخص ہٹ دھرمی،تعصب اور باہم دست و گریبان ہونے سے باز نہ آئے اور کبرو نخوت کا شکار رہے تو وہ کبھی بھی اللہ کا محبوب نہیں بن سکتا۔
۲۔ لڑائی جھگڑا ایک ایسا گناہ ہے جس میں کئی گناہ شامل ہوجاتے ہیں، مثلاً ہاتھ اور زبان کا ناروا استعمال، بغض،حسد، تہمت اور گالم گلوچ وغیرہ۔غرض کہ آدمی لڑائی جھگڑا کرتے ہوئے، ایمان و اسلام کی تمام اقدار کھو دیتا ہے،اور فسق و فجور تک پہنچ جاتا ہے۔ جس دل میںایمان کی رتی ہو وہ شخص ضدی، ہٹ دھرم اور جھگڑالونہیں ہوتا۔ نیز جس سے اللہ تعالیٰ بغض رکھے اُس پر کسی وقت بھی اپنا عذاب نازل فرمادیتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7188
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9789
عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ بَشِيرٍ مَوْلَى بَنِي مُغَالَةَ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبَا طَلْحَةَ بْنَ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيَّيْنِ يَقُولَانِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (مَا مِنْ امْرِئٍ يَخْذُلُ امْرَأً مُسْلِمًا عِنْدَ مَوْطِنٍ تُنْتَهَكُ فِيهِ حُرْمَتُهُ وَيُنْتَقَصُ فِيهِ مِنْ عِرْضِهِ إِلَّا خَذَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي مَوْطِنٍ يُحِبُّ فِيهِ نُصْرَتَهُ وَمَا مِنْ امْرِئٍ يَنْصُرُ امْرَأً مُسْلِمًا فِي مَوْطِنٍ يُنْتَقَصُ فِيهِ مِنْ عِرْضِهِ وَيُنْتَهَكُ فِيهِ مِنْ حُرْمَتِهِ إِلَّا نَصَرَهُ اللَّهُ فِي مَوْطِنٍ يُحِبُّ فِيهِ نُصْرَتَهُ) )
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو طلحہ بن سہل انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کو اس مقام پر ذلیل کرتا ہے، جہاں اس کی حرمت پامال ہو جاتی ہے اور اس کی عزت میں کمی آجاتی ہے، اللہ تعالیٰ اس شخص کو اس مقام پر ذلیل کرتاہے، جہاں وہ اپنی مدد کو پسند کرتاہے، جو آدمی ایسے مقام پر اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرتا ہے، جہاں اس کی عزت کم ہو رہی ہوتی ہے اور اس کی حرمت کو پامال کیا جا رہا ہوتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس آدمی کی اس مقام پر مدد کرے گا، جہاں وہ اپنی مدد کو پسند کرے گا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9789]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالةيحييٰ بن سليم بن زيد، أخرجه ابوداود: 4884، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16368 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16481»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالةيحييٰ بن سليم بن زيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں