🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

13. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَرْهِيبِ مِنَ التَّجَمْسِ وَسُوءِ الظَّنِّ
جاسوسی کرنے اور سوئے ظن رکھنے سے ترہیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9794
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُؤْذُوا عِبَادَ اللَّهِ وَلَا تُعَيِّرُوهُمْ وَلَا تَطْلُبُوا عَوْرَاتِهِمْ فَإِنَّهُ مَنْ طَلَبَ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ طَلَبَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ حَتَّى يَفْضَحَهُ فِي بَيْتِهِ
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندوں کو نہ تکلیف دو، نہ ان کو عار دلاؤ اور نہ ان کے عیوب تلاش کرو، کیونکہ جس نے اپنے بھائی کا عیب تلاش کیا، اللہ تعالیٰ اس کے عیب کے پیچھے پڑ جائے گا حتی کہ وہ اس کو اس کے گھر کے اندر ذلیل کر دے گا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9794]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22402 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22765»
وضاحت: فوائد: … اللہ اکبر، کتنی حرمت ہے صاحب ِ اسلام کی، کاش ہمارا مزاج یہ بن جاتا کہ ہم اپنی اصلاح کرتے اور دوسروں کے مثبت پہلو دیکھ کر ان کی قدر کرتے۔

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9795
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا (وَفِي رِوَايَةٍ امْرَأً) اطَّلَعَ بِغَيْرِ إِذْنِكَ فَخَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ مَا كَانَ عَلَيْكَ جُنَاحٌ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی آدمی تیری اجازت کے بغیر تجھ پر جھانکتا ہے اور تو اس کو کنکری مار کر اس کی آنکھ کو پھوڑ دیتا ہے تو تجھ پر کوئی گناہ نہیں ہو گا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9795]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6902، ومسلم: 2158، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7313 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7311»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 6902
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9796
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَفَقَأُوا عَيْنَهُ فَلَا دِيَةَ لَهُ وَلَا قِصَاصَ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی کے گھر میں ان کی اجازت کے بغیر جھانکے اور وہ اس کی آنکھ پھوڑ دیں تو اس کے لیے دیت ہو گی نہ قصاص۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9796]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8985»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8985
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9797
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ فَاطَّلَعَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَأَهْوَى إِلَيْهِ بِمِشْقَصٍ مَعَهُ فَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر میں تشریف فرما تھے، ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جھانکنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھلکا لے کر اس کی طرف جھکے، لیکن وہ پیچھے ہٹ گیا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9797]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6889، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12055 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12078»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 6889
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9798
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَنَافَسُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بدگمانی سے بچو، پس بیشک بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے، جاسوسی نہ کرو، ٹوہ میں نہ لگ جاؤ، آپس میں بغض نہ رکھو، باہمی قطع تعلقی اور دشمنی سے بچو، مقابلہ بازی میں نہ پڑو اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9798]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10078 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10080»
وضاحت: فوائد: … مسلمانوں اور مومنوں کا اللہ تعالیٰ نے ایک ہی رشتہ بیان کیا ہے کہ وہ آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہٰذا یہ بھائی چارہ قائم رہنا چاہیے اور ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ دوسرے مسلمان کا خیر خواہ بنے اور اس کے لیے دل میں وسعت پیدا کرے۔

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9799
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ حُسْنَ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ الْعِبَادَةِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اچھا گمان رکھنا حسنِ عبادت میں سے ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9799]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، قاله زبير علي زئي، أخرجه ابوداود: 4993، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7956 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7943»
وضاحت: فوائد: … مسلمان بھائیوں کے متعلق خواہ مخواہ برے گمان رکھنا اور اس پر اپنے معاملات کی بنیاد رکھنا گناہ کی بات ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ مسلمان از خود تہمت اور شبہے کے مواقع سے دور رہے اور کسی کو برا گمان کا موقع نہ دے۔

الحكم على الحديث: اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں