🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

16. بابُ مَا جَاءَ فِي الْأَجَلِ وَالْأَمَلِ
موت اور امید کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9824
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ خَطَّ خَطًّا مُرَبَّعًا وَخَطَّ خَطًّا وَسَطَ الْخَطِّ الْمُرَبَّعِ وَخُطُوطًا إِلَى جَنْبِ الْخَطِّ الَّذِي وَسَطَ الْخَطِّ الْمُرَبَّعِ وَخَطٌّ خَارِجٌ مِنَ الْخَطِّ الْمُرَبَّعِ قَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا هَذَا قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ هَذَا الْإِنْسَانُ الْخَطُّ الْأَوْسَطُ وَهَذِهِ الْخُطُوطُ الَّتِي جَنْبَهُ الْأَعْرَاضُ تَنْهَشُهُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ إِنْ أَخْطَأَ هَذَا أَصَابَهُ هَذَا وَالْخَطُّ الْمُرَبَّعُ الْأَجَلُ الْمُحِيطُ بِهِ وَالْخَطُّ الْخَارِجُ الْأَمَلُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لکیریں لگا کر ایک مربع شکل بنائی، اس شکل کے درمیان میں ایک خط لگایا اور پھر اس کے ساتھ اور شکل کے اندر ہی کئی لکیریں لگائی اور ایک لکیر اس مربع کے باہر لگائی اور پھر فرمایا: کیا تم لوگ جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: درمیان میں لگی ہوئی یہ لکیر انسان ہے، اس کے ساتھ لگی ہوئییہ لکیریںبیماریاں ہیں، جو اس کو ہر مقام پر نوچنے کی کوشش کرتی ہیں، اگر ایک اپنے نشانے سے گھس جاتی ہے تو دوسری لگ جاتی ہے،یہ مربع شکل میں لگے ہوئے خطوط انسان کی موت ہے، جو اس کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور اس شکل سے باہر لگی ہوئی لکیر انسان کی امید ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9824]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6417، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3652 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3652»
وضاحت: فوائد: … آدمی کو قناعت پسند ہونا چاہیے، محنت مزدوری کے بعد جو مل جائے اس پر صابر اور شاکر رہے اور بیشک مزید کی کوشش کرے، دنیوی تعلیم حاصل کرے، اچھی نوکری کے لیے تگ و دو کرے، لیکن دینی تعلیمات اور اسلامی حدود کا پابند بن کر۔ ایسی حرص اور لالچ غالب نہ آجائے کہ بس دنیا کی بہتری ہی کی فکرکا ہو کر رہ جائے۔
دو تین مثالوں پر غور کریں: آج کل بچوں کی دنیوی تعلیم پر انتہائی توجہ دی جا رہی ہے اور اس سے متعلقہ تمام تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں، لیکن دین کے معاملے میں انتہائی غفلت برتی جا رہی ہے اور اس کا ایک تقاضا بھی پورا نہیں کیا جا رہا، مسلمان بچے کا والدین پر عائد ہونے والا سب سے بڑا فرض نماز کی تعلیم دینا ہے، لیکن افسوس کہ تمام والدین نہ صرف اس فرض کی ادائیگی سے غافل ہیں، بلکہ سرے سے ان کو کوئی فکر ہی نہیں ہے۔ اسی طرح بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ کاروبار میں عملی طور پر اضافہ کرتے ہیں، کوٹھیاں بنا رہے ہیں، گاڑیاں خرید رہے ہیں، لیکن جب ان سے حج اور عمرے جیسی ذمہ داری کی بات کی جاتی ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں جی ہم پر بڑی ذمہ داریاں ہیں، بچوں کی شادیاں کرنی ہیں، فلاں بھتیجا، فلاں بھانجی کا خرچ بھی ہمارے ذمے ہے۔ ایسے والدین اور کاروباری،یہ سب شریعت کے چور ہیں۔
مسلمان کو چاہیے کہ وہ دین اور دنیا دونوںکے بارے میں اعتدال اور میانہ روی اختیار کرے، وہ کمائی کرے، لیکن
آمدنی کے تقاضوں کو بھی ذہن نشین رکھے، اپنی اولاد کے لیے دنیوی تعلیم کی کوشش کرے، لیکن اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ اولاد کے بارے میں دین کی فکر نہ کی جائے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 6417
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9825
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَرَزَ بَيْنَ يَدَيْهِ غَرْزًا ثُمَّ غَرَزَ إِلَى جَنْبِهِ آخَرَ ثُمَّ غَرَزَ الثَّالِثَ فَأَبْعَدَهُ ثُمَّ قَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا هَذَا قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ هَذَا الْإِنْسَانُ وَهَذَا أَجَلُهُ وَهَذَا أَمَلُهُ يَتَعَاطَى الْأَمَلَ يَخْتَلِجُهُ الْأَجَلُ دُونَ ذَلِكَ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سامنے ایک چیز گاڑی، پھر اس کے پہلو میں ایک دوسری چیز گاڑ دی اور اس سے ذرا دو ر کر کے تیسری چیز گاڑ دی اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ انسان ہے، اس کے ساتھ گڑی ہوئی یہ چیز اس کی موت ہے اور وہ دور گڑی ہوئی اس کی امید ہے، ابھی تک وہ اپنی امید کے درپے ہوتا ہے کہ اس سے پہلے ہی موت اس کو اچک لیتی ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9825]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11132 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11149»

الحكم على الحديث: اسناده جيّد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9826
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ أَصَابَعَهُ فَوَضَعَهَا عَلَى الْأَرْضِ فَقَالَ هَذَا ابْنُ آدَمَ ثُمَّ رَفَعَهَا خَلْفَ ذَلِكَ قَلِيلًا وَقَالَ هَذَا أَجَلُهُ ثُمَّ رَمَى بِيَدِهِ أَمَامَهُ قَالَ وَثَمَّ أَمَلُهُ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلیاں جمع کیں اور ان کو زمین پر رکھا اور فرمایا: یہ ابن آدم ہے۔ پھر اپنی انگلیوں کو تھوڑا سا اٹھایا اور فرمایا: یہ اس کی موت ہے۔ اور پھر اپنے ہاتھ کو اپنے سامنے پھینک کر فرمایا: اور یہاں اس کی امیدیں ہیں۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9826]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6418، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12238 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12263»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 6418
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9827
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَامِلَهُ فَنَكَتَهُنَّ فِي الْأَرْضِ فَقَالَ هَذَا ابْنُ آدَمَ وَقَالَ بِيَدِهِ خَلْفَ ذَلِكَ وَقَالَ هَذَا أَجَلُهُ قَالَ وَأَوْمَأَ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ وَثَمَّ أَمَلُهُ ثَلَاثَ مِرَارٍ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پوروں کو جمع کیا اور ان سے زمین میں کریدا اور فرمایا: یہ ابن آدم ہے۔ پھر اس سے ذرا پیچھے ہاتھ رکھا اور فرمایا: یہ اس کی موت ہے۔ پھر اپنے سامنے اشارہ کیا اور فرمایا: اور وہاں تک اس کی امیدیں ہیں۔ تین دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے کیا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9827]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12414»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12414
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9828
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ ثَلَاثَ حَصَيَاتٍ فَوَضَعَ وَاحِدَةً ثُمَّ وَضَعَ أُخْرَى بَيْنَ يَدَيْهِ وَرَمَى بِالثَّالِثَةِ فَقَالَ هَذَا ابْنُ آدَمَ وَهَذَا أَجَلُهُ وَذَلِكَ أَمَلُهُ الَّتِي رَمَى بِهَا
۔ (تیسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین کنکریاں لیں، ان میں ایک کو نیچے رکھا، دوسری کو اپنے سامنے رکھا اور تیسری کو پھینک دیا اور پھر فرمایا: یہ ابن آدم ہے اور اس کے ساتھ ہی یہ اس کی موت پڑی ہوئی ہے اور جس کنکری کو پھینک دیا گیا ہے، وہ اس کی امیدیں ہیں۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9828]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13831»
وضاحت: فوائد: … خلاصۂ کلام یہ ہے کہ آدمی جس وقت سے گزر رہا ہے، اس کے جائز تقاضوں کے مطابق کوشش کرے اور محنت جاری رکھے اور اسلامی تعلیمات کے تقاضے متاثر نہ ہونے دے، وگرنہ برکت اٹھ جائے گی۔
ذہن نشین کر لیں کہ مسلمان کا اصل سرمایہ دین ہے، مال و دولت اور حکومت و مملکت تو کافروں کو بھی مل جاتے ہیں، ہاں ہاں مسلم مملکت بلکہ خلافت کا قیام ضروری ہے، فوج، پولیس، سائنسدان، انجینیئر، ڈاکٹر، فیکٹریاں، صنعتیں، تعلیمی ادارے، وغیرہ وغیرہ … عصر حاضر کے مطابق ان سب چیزوں کا اہتمام ضروری ہے، لیکنیہ سب امور وقت کی ضرورت کے مطابق ہیں، اصل سرمایہ دین ہے، باقی سب فروعات ہیں، مجبوری میں فروعات کے بغیر گزارہ ممکن ہے، اصل کے بغیرگزارہ نہیں ہو سکتا ہے، وگرنہ دائمی زندگی کا خسارہ لازم آئے گا۔

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13831
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں