الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيْبِ مِنَ الْحِرْصِ عَلَى الْمَالِ
مال کی حرص کرنے سے ڈرانے کا بیان
حدیث نمبر: 9811
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَسْأَلُهُ فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى رَأْسِهِ مَرَّةً وَإِلَى رِجْلَيْهِ أُخْرَى هَلْ يَرَى عَلَيْهِ مِنَ الْبُؤْسِ شَيْئًا ثُمَّ قَالَ لَهُ عُمَرُ كَمْ مَالُكَ قَالَ أَرْبَعُونَ مِنَ الْإِبِلِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ ذَهَبٍ لَابْتَغَى الثَّالِثَ وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ فَقَالَ عُمَرُ مَا هَذَا فَقُلْتُ هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ قَالَ فَمُرْ بِنَا إِلَيْهِ قَالَ فَجَاءَ إِلَى أُبَيٍّ فَقَالَ مَا يَقُولُ هَذَا قَالَ أُبَيٌّ هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفَأُثْبِتُهَا قَالَ فَأَثْبِتْهَا
۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی سوال کرنے کے لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، آپ کبھی اس کے سر کی طرف دیکھتے اور کبھی پاؤں کی طرف، آپ اس پر غربت کی کوئی علامت دیکھنا چاہتے تھے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس آدمی سے کہا: تیرے پاس کتنا مال ہے؟ اس نے کہا: جی چالیس اونٹ ہیں۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا کہ اگر ابن آدم کے پاس سونے کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری تلاش کرے گا اور مٹی ہی ہے، جو ابن آدم کے پیٹ کو بھر دیتی ہے، البتہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تم کیا بیان کر رہے ہو؟ میں نے کہا: سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھے ایسے ہی پڑھایا ہے، انھوں نے کہا: اس کو ہمارے پاس آنے کا حکم دو، پس سیدنا ابی رضی اللہ عنہ آ گئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تمہارے حوالے سے یہ کیا کہتے ہیں؟ سیدناابی نے کہا: جی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایسے ہی پڑھایا تھا، انھوں نے کہا: تو کیا میں ان الفاظ کو ثابت کر دوں؟ انھوں نے کہا: جی کر دو۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9811]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21111 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21428»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 9812
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مَالًا لَأَحَبَّ أَنَّ لَهُ إِلَيْهِ مِثْلَهُ وَلَا يَمْلَأُ نَفْسَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَلَا أَدْرِي أَمِنَ الْقُرْآنِ هُوَ أَمْ لَا
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر ابن آدم کے پاس مال کی ایک وادی ہو تو وہ پسند کرے گا کہ اس کو اس طرح کی ایک اور وادی مل جائے اور مٹی ہی ہے جو ابن آدم کے نفس کو بھر سکتی ہے، البتہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہے۔ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: مجھے یہ علم نہ ہو سکا کہ آیایہ قرآن مجید کا حصہ ہے یا نہیں۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9812]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6436، 6437، ومسلم: 1049، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3501 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3501»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 6436
حدیث نمبر: 9813
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ شَيْئًا إِذَا دَخَلَ الْبَيْتَ قَالَتْ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْبَيْتَ تَمَثَّلَ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ فَمَهُ إِلَّا التُّرَابُ وَمَا جَعَلْنَا الْمَالَ إِلَّا لِإِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَيَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گھر تشریف لاتے تو یہ بات بیان فرماتے: اگر آدم کے بیٹے کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری تلاش کرے گا، مٹی ہی ہے، جو اس کے منہ کو بھر سکتی ہے، اور ہم نے مال تو اس لیے بنایا ہے کہ نماز قائم کی جائے اور زکوۃ ادا کی جائے اور اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9813]
تخریج الحدیث: «ضعيف الا قوله صلي الله عليه وآله وسلم: لَوْ كَانَ لِاِبْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ، لََابْتَغٰي وَادِيًا ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَاُ فَمَهُ اِلَّا التُّرْابُ فانه صحيح بالشواھد، مجالد ضعيف، أخرجه البيھقي بي شعب الايمان: 10280، والبزار في مسنده: 3640، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24276 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24780»
الحكم على الحديث: ضعيف الا قوله صلي الله عليه وآله وسلم : لَوْ كَانَ لِاِبْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ
حدیث نمبر: 9814
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَلَا أَدْرِي أَشَيْءٌ نَزَلَ عَلَيْهِ أَمْ شَيْءٌ يَقُولُهُ وَهُوَ يَقُولُ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى لَهُمَا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کچھ فرماتے ہوئے سنتا تھا، لیکن میں یہ نہیں جانتا تھا کہ آیایہ چیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی طرف کہہ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر ابن آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کو تلاش کرے گا، اور مٹی ہی ہے جو ابن آدم کا پیٹ بھر سکتی ہے، البتہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والی کی توبہ قبول کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9814]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1048، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12228 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12253»
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 1048
حدیث نمبر: 9815
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ مِنْ نَخْلٍ تَمَنَّى مِثْلَهُ ثُمَّ تَمَنَّى مِثْلَهُ حَتَّى يَتَمَنَّى أَوْدِيَةً وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر ابن آدم کے پاس کھجور کے درختوں کی ایک وادی ہو تو وہ اس طرح کی ایک اور وادی کی تمنا کرے گا، پھر ایک اور وادی کی خواہش کرنے لگے گا، یہاں تک کہ اس میں کئی وادیوں کی خواہش پیدا ہو جائے گی، بس مٹی ہی ہے، جو ابن آدم کا پیٹ بھر سکتی ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9815]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البزار: 3636، وابويعلي: 1899، وابن حبان: 3232، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14665 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14720»
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 9816
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقَدْ كُنَّا نَقْرَأُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ لَابْتَغَى إِلَيْهِمَا آخَرَ وَلَا يَمْلَأُ بَطْنَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ
۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں اس چیز کی بھی تلاوت کرتے تھے: اگر ابن آدم کے پاس سونے اور چاندی کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کی تلاش شروع کر دے گا، بس مٹی ہی ہے جو ابن آدم کا پیٹ بھر سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9816]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 5032، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19280 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19495»
وضاحت: فوائد: … انسان ہمیشہ مزید کی تلاش میں رہتا ہے اور قناعت نہیں کرتا، اگر دنیوی وسیع رزق کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا خوف اور پرہیزگاری ملی ہوئی ہو اور مال و دولت کے شرعی تقاضوں کو پورا کیا جا رہا ہو تو پھر غِنٰی میں کوئی حرج نہیں ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۹۳۳۱)۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح
حدیث نمبر: 9817
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشَّيْخُ يَكْبَرُ وَيَضْعَفُ جِسْمُهُ وَقَلْبُهُ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَيْنِ طُولِ الْعُمْرِ وَالْمَالِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بزرگ عمر رسیدہ ہو رہا ہوتا ہے اور اس کا جسم کمزور ہو رہا ہوتا ہے، لیکن ابھی تک اس کا دل دو چیزوں کی محبت کے سلسلے میں جوان ہوتا ہے، لمبی عمر اور مال۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9817]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه بنحوه ومختصرا منه البخاري: 6420، ومسلم: 1046، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8422 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8403»
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 9818
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَتَبْقَى مِنْهُ اثْنَتَانِ الْحِرْصُ وَالْأَمَلُ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم ادھیڑ عمری میں پہنچ جاتا ہے اور ابھی تک اس کی دو چیزیں باقی ہوتی ہیں، حرص اور امید۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9818]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6421، ومسلم: 1047، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12142 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12166»
وضاحت: فوائد: … ادھیڑ عمری میں بھییہ شعور نہیں آتا کہ دنیائے فانی سے روانگی کا وقت بالکل قریب آ چکا ہے، لہٰذا ذکر و اذکار اور استغفار میں مشغول ہو جانا چاہیے، بس دنیا کی طرف سے ملنے والا پروٹوکول اتنا لذیذ ہوتا ہے کہ بڑھاپے میں بھی اس کا چسقا نہیں بھول پاتا۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 6421
حدیث نمبر: 9819
عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلَا فِي غَنَمٍ أَفْسَدَا لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِينِهِ
۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر دو بھیڑیئے بکریوں میں چھوڑ دیئے جائیں تو وہ ان کا اتنا نقصان نہیں کرتے، جتنا بندے کے مال اور شرف پر حریص ہونے سے اس کے دین کا نقصان ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9819]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الترمذي: 2376، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15784 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15876»
وضاحت: فوائد: … مال اور شرف کی حرص بندے کے دین میں فساد برپا کر دیتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ جائز طریقے سے دنیوی مال و دولت حاصل کرنے کی کوشش کرے اور اپنے اندر اتنی عاجزی و انکساری پیدا کر لے کہ وہ اس چیز کا طلبگار نہ رہے کہ لوگ اس کی تعظیم کریں۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح
حدیث نمبر: 9820
عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَصْرَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ مَاتَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَرَكَ دِينَارًا أَوْ دِرْهَمًا فَقَالَ كَيَّتَانِ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل صفہ میں سے ایک آدمی فوت ہو گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی گئی کہ اے اللہ کے رسول! وہ تو ایک دیناریا ایک درہم چھوڑ کر فوت ہوا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ آگ کے دو داغ ہیں، تم خود اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9820]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1155 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1155»
وضاحت: فوائد: … جہاں میراث کے قوانین مقرر ہیں، وہاں قریب الموت آدمی کے لیےیہ حد بندی بھی کر دی گئی ہے کہ وہ اپنے مال کے ایک تہائی حصہ سے زیادہ وصیت نہیں کر سکتا ہے، اگر وہ اس مقدار سے زیادہ وصیت کرتا ہے تو اسے ردّ کر دیا جائے گا اور مال اس کے ورثا ء میں تقسیم کیا جائے گا، نیز شریعت کی روشنی میں کسی کو یہ حق بھی حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنے کسی وارث کے حق میں وصیت کرے۔
تو پھر اس حدیث کا کیا مطلب ہوا؟ جواباً شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ رقمطراز ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس آدمی کے بارے میں
دو تین دیناروں کی وجہ سے اتنی سخت وعید بیان فرمائی ہے، معلوم ایسے ہوتا ہے کہ اس وعید کا بیچ میںکوئی اور سبب ہو گا، اس کا اظہار صرف دیناروں کی بنا پر نہیں کیا گیا، کیونکہ اہل علم کا اتفاق ہے کہ میت مال کی اتنی مقدار چھوڑ جانے کی وجہ سے آگ کا حقدار نہیں ٹھہرتا ہے۔ آپ خود غور کریں کہ ایک طرف تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ترکہ چھوڑ جانے کی رغبت دلاتے ہوئے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو فرمایا: اگر تو (اپنے ترکہ کے ذریعے) اپنے وارثوں کو غنی کر دے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تو ان کو اس حال میں چھوڑ جائے کہ وہ لوگوں کے سامنے دست ِ سوال پھیلاتے پھریں۔ (بخاری، مسلم)
اسی طرح جب نجدی نے زکوۃ کا مسئلہ سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: کیا زکوۃ کے علاوہ بھی میرے مال میںکوئی حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، ہاں اگر تم نفلی طور پر صدقہ کرنا چاہو (تو کر سکتے ہو)۔ (بخاری، مسلم) اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ مالدار زکوۃ کی ادائیگی کے بعد مال اپنے پاس رکھ سکتا ہے اور اسی حالت میں اس کو موت بھی آسکتی ہے۔
اس قسم کی بہت ساری احادیث ہیں جو زندگی میں مال و دولت جمع کرنے اور صاحب ِ مال کے فوت ہونے کے بعد اس کو اس کے وارثوں میں تقسیم کر دینے پر دلالت کرتی ہیں۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں ایک باب یہ قائم کیا ہے: بَابُ مَنْ اَدَّیٰ زَکَاتَہٗفَلَیْسَ بِکَنْزٍ؛ لِقَوْلِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((لَیْسَ فِیْمَا دُوْنَ خَمْسَۃِ اَوْسُقٍ صَدَقَۃٌ …)) … زکوۃ کی ادائیگی کے بعد مال وہ خزانہ نہیں رہتا (جس کی مذمت کی گئی ہے) کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ وسق سے کم غلہ پر زکوۃ لاگو نہیں ہوتی …
اس بحث کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ ممکن ہے کہ اِس آدمی نے مال سے متعلقہ حقوق کی ادائیگی صحیح طور پر نہ کی ہو، مثلا اہل و عیال پر خرچ کرنا، بھوکے کو کھانا کھلانا، ننگے کو لباس پہنانا، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ آدمی مال کے باوجود فقر و فاقے کا اظہار کرتا ہو، جیسا کہ علقمہ مزنی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے، وہ کہتے ہیں: اہل صفہ، مسجد میں رات گزارتے تھے، ان میں سے ایک آدمی فوت ہو گیا، جب اس کا ازار کھولا گیا تواس میں سے دو دینار نکلے، جن کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو داغ ہیں۔ (مصنف عبد الرزاق: ۱/ ۴۲۱/ ۱۶۴۹)
اور اس احتمال کا بھی امکان ہے کہ یہ شخص اپنے مال کو بڑھانے کے لیے لوگوں سے سوال کرتا ہو۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ (صحیحہ: ۳۴۸۳)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ مال سے متعلقہ تمام حقوق ادا کرے اور حلال ذرائع سے مال جمع کرے، وگرنہ وہ اس وعید کا مستحق قرار پائے گا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اس حدیث میں بیان کی گئی وعید کا مطلب یہ ہو کہ ہمیں صدقہ و خیرات کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ ایک دینار میں ساڑھے چار ماشے سونا ہوتا ہے۔
تو پھر اس حدیث کا کیا مطلب ہوا؟ جواباً شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ رقمطراز ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس آدمی کے بارے میں
دو تین دیناروں کی وجہ سے اتنی سخت وعید بیان فرمائی ہے، معلوم ایسے ہوتا ہے کہ اس وعید کا بیچ میںکوئی اور سبب ہو گا، اس کا اظہار صرف دیناروں کی بنا پر نہیں کیا گیا، کیونکہ اہل علم کا اتفاق ہے کہ میت مال کی اتنی مقدار چھوڑ جانے کی وجہ سے آگ کا حقدار نہیں ٹھہرتا ہے۔ آپ خود غور کریں کہ ایک طرف تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ترکہ چھوڑ جانے کی رغبت دلاتے ہوئے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو فرمایا: اگر تو (اپنے ترکہ کے ذریعے) اپنے وارثوں کو غنی کر دے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تو ان کو اس حال میں چھوڑ جائے کہ وہ لوگوں کے سامنے دست ِ سوال پھیلاتے پھریں۔ (بخاری، مسلم)
اسی طرح جب نجدی نے زکوۃ کا مسئلہ سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: کیا زکوۃ کے علاوہ بھی میرے مال میںکوئی حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، ہاں اگر تم نفلی طور پر صدقہ کرنا چاہو (تو کر سکتے ہو)۔ (بخاری، مسلم) اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ مالدار زکوۃ کی ادائیگی کے بعد مال اپنے پاس رکھ سکتا ہے اور اسی حالت میں اس کو موت بھی آسکتی ہے۔
اس قسم کی بہت ساری احادیث ہیں جو زندگی میں مال و دولت جمع کرنے اور صاحب ِ مال کے فوت ہونے کے بعد اس کو اس کے وارثوں میں تقسیم کر دینے پر دلالت کرتی ہیں۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں ایک باب یہ قائم کیا ہے: بَابُ مَنْ اَدَّیٰ زَکَاتَہٗفَلَیْسَ بِکَنْزٍ؛ لِقَوْلِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((لَیْسَ فِیْمَا دُوْنَ خَمْسَۃِ اَوْسُقٍ صَدَقَۃٌ …)) … زکوۃ کی ادائیگی کے بعد مال وہ خزانہ نہیں رہتا (جس کی مذمت کی گئی ہے) کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ وسق سے کم غلہ پر زکوۃ لاگو نہیں ہوتی …
اس بحث کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ ممکن ہے کہ اِس آدمی نے مال سے متعلقہ حقوق کی ادائیگی صحیح طور پر نہ کی ہو، مثلا اہل و عیال پر خرچ کرنا، بھوکے کو کھانا کھلانا، ننگے کو لباس پہنانا، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ آدمی مال کے باوجود فقر و فاقے کا اظہار کرتا ہو، جیسا کہ علقمہ مزنی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے، وہ کہتے ہیں: اہل صفہ، مسجد میں رات گزارتے تھے، ان میں سے ایک آدمی فوت ہو گیا، جب اس کا ازار کھولا گیا تواس میں سے دو دینار نکلے، جن کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو داغ ہیں۔ (مصنف عبد الرزاق: ۱/ ۴۲۱/ ۱۶۴۹)
اور اس احتمال کا بھی امکان ہے کہ یہ شخص اپنے مال کو بڑھانے کے لیے لوگوں سے سوال کرتا ہو۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ (صحیحہ: ۳۴۸۳)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ مال سے متعلقہ تمام حقوق ادا کرے اور حلال ذرائع سے مال جمع کرے، وگرنہ وہ اس وعید کا مستحق قرار پائے گا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اس حدیث میں بیان کی گئی وعید کا مطلب یہ ہو کہ ہمیں صدقہ و خیرات کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ ایک دینار میں ساڑھے چار ماشے سونا ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث: حديث حسن لغيره