🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. بَابُ مَا جَاءَ فِي االتَّرْهِيْبِ مِنَ الشَّعْرِ إِنْ كَانَ فِيهِ فحش أَوْ كَذِبُ أَوِ انْشِغَالُ عَنِ اللَّهِ
بدگوئی اور جھوٹ پر مشتمل اور اللہ تعالیٰ سے دور کر دینے والے شعروں سے ترہیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9936
عَنْ سَعْدٍ يَعْنِي بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا حَتَّى يَرِيهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی کا پیٹ پیپ سے اس قدر بھر جائے کہ وہ اس کو نظر آنے لگے تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے بھرا ہوا ہو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9936]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2258، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1506 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1506»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2258
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9937
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9937]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البخاري: 6155، ومسلم: 2257، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8357 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8357»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9938
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے تو یہ اس کے لیے شعروں سے بھر جانے سے بہتر ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9938]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6154، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4975 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4975»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6154
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9939
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْعَرْجِ إِذْ عَرَضَ شَاعِرٌ يُنْشِدُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُذُوا الشَّيْطَانَ أَوْ أَمْسِكُوا الشَّيْطَانَ لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ہم عرج مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے کہ اچانک ایک شاعر سامنے آ گیا، جو شعر گا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پکڑ لو اس شیطان کو، یا فرمایا: روک دو اس شیطان کو، اگر کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے تو وہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ شعروں سے بھر جائے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9939]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2259، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11057 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11072»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے کہ یہ آدمی کافر ہو یا اس کے اشعار قابل مذمت ہوں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2259
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9940
عَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُتَسَامَعُ عِنْدَهُ الشِّعْرُ فَقَالَتْ قَدْ كَانَ أَبْغَضَ الْحَدِيثِ إِلَيْهِ
۔ ابو نوفل سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس شعر سنے جاتے تھے، سیدہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ کلام شعر تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9940]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 722، والطيالسي: 1490، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25020 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25534»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9941
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنَا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ الْبَاهِلِيُّ عَنْ عَاصِمِ بْنِ مَخْلَدٍ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ قَالَ أَبِي ثَنَا الْأَشْيَبُ فَقَالَ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَضَ بَيْتَ شِعْرٍ بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةُ تِلْكَ اللَّيْلَةِ
۔ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے نمازِ عشا کے بعد دو مصرعوں کا شعر مرتب دیا، اس کی اس رات کی نماز قبول نہیں ہو گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9941]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، قزعة بن سويد شبه المتروك، عاصم بن مخلد شيخ مجھول، أخرجه البزار: 2094، والطبراني في الكبير: 7133، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17134 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17264»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں ان اشعار کی مذمت کی گئی ہے، جو بیہودہ، بے مقصد اور لایعنی ہوں، کیونکہ اچھے اشعار کو شریعت میں سراہا گیا ہے نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں اچھے اشعار پڑھے جاتے رہے ہیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی اشعار پڑھے ہیں۔
امام نووی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اس حدیث ِ مبارکہ کو اس شخص پر محمول کیا جائے گا جس نے اپنی توجہ اشعار پر مرکوز کر رکھی ہو اور قرآن و حدیث سے غافل ہو گیا ہے۔
امام قرطبی نے کہا: جس شخص پر شعری کلام غالب آ جائے تو اسے عام قوانین و ضوابط کے مطابق موردِ طعن و مذمت ٹھہرنا پڑتا ہے۔ … …
امام ابو عبیدہ قاسم بن سلام نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشعار کی معمولی مقدار کی رخصت دی ہے، کیونکہ اس حدیث کییہ توجیہ بیان کرنا مناسب ہے کہ اس کا تعلق اس شخص سے ہے جو شعروں کا ہی ہو کر رہ جائے اور قرآن مجید اور اللہ تعالیٰ کے ذکرو اذکار سے غافل ہو جائے۔ اگر کوئی شخص قرآن کریم اور دوسرے شرعی علوم سے متصف ہو اور اس کے پاس کچھ اشعار بھی ہوں تو وہ اس حدیث کا مصداق نہیں بن سکتا۔ (صحیحہ: ۳۳۶)
دراصل کوئی کلام نثر یا شعر ہونے کی وجہ سے قابل تعریفیا قابل مذمت نہیں ہوتا، بلکہ اس کے اچھا یا برا ہونے کا دارومدار اس میں بیان کئے گئے مفہوم پر ہے، جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((الشِّعْرُ بِمَنْزِلَۃِ الْکَلَامِ، حَسَنُہُ کَحَسَنِ الْکَلَامِ، وَقَبِیْحُہُ کَقَبِیْحِ الْکَلَامِ۔)) … اشعار، عام (نثر) کلام کی طرح ہیں،یعنی اچھے اشعار، اچھے کلام کی طرح ہیں اور برے اشعار، برے کلام کی طرح۔
(دارقطنی: ۴۹۰، صحیحہ: ۴۴۷)
جس کلام میں دوسروں کی توہین کی گئی ہو، فتنہ و فساد کی آگ بھڑکائی گئی ہو، شرک و بدعت کو فروغ دیا گیا ہو یا اس میں کسی انداز میں شریعت کے اصولوں کی مخالفت کی گئی ہو، تو وہ کلام قابل مذمت ہو گا، وہ شعر ہو یا نثر ہو۔
اس کے برعکس جو کلام اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا پر مشتمل ہو، اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصافِ حمیدہ کا بیان ہو،اس میں نیکی کی ترغیب اور برائی سے نفرت دلائی گئی ہو یا وہ کسی انداز میں شریعت کے اصولوں کی موافقت کر رہا ہو، تو وہ کلام قابل تعریف ہو گا، وہ شعروں کی صورت میں ہو یا نثر کی صورت میں، بہرحال اشعار کی کثرت سے اجتناب کرنا چاہیے، ضرورت پڑے تو اچھے اشعار پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں