🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

13. بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الشَّعْرِ لِمَصْلَحَةِ شَرْعِيَّةٍ
شرعی مصلحت کی خاطر شعروں کے جواز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9942
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اهْجُوا الْمُشْرِكِينَ بِالشِّعْرِ إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ كَأَنَّمَا يَنْضَحُوهُمْ بِالنَّبْلِ
۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شعروں کے ذریعے مشرکوں کی ہجو کرو، بیشک مؤمن اپنے نفس اور مال سے جہا د کرتا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے! گویا کہ یہ شاعر ان پر تیر پھینک رہے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9942]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البيھقي: 10/ 239، وابن حبان: 5786، والطبراني في الكبير: 19/ 151، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15796 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15889»

الحكم على الحديث: اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9943
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَنْزَلَ فِي الشِّعْرِ مَا أَنْزَلَ فَقَالَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِسَيْفِهِ وَلِسَانِهِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَكَأَنَّمَا تَرْمُونَهُمْ بِهِ نَضْحَ النَّبْلِ
۔ (دوسری سند) انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: بیشک اللہ تعالیٰ شعروں کے بارے میں جوکچھ نازل کرنا تھا، وہ تو کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک مؤمن اپنی تلوار اور زبان کے ساتھ جہاد کرتا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے! گویا کہ تم ان پر تیر برسا رہے ہو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9943]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27716»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27716
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9944
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ حَيْنَ أَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي الشِّعْرِ مَا أَنْزَلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدْ أَنْزَلَ فِي الشِّعْرِ مَا قَدْ عَلِمْتَ وَكَيْفَ تَرَى فِيهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِسَيْفِهِ وَلِسَانِهِ
۔ (تیسری سند) سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے شعروں کے بارے میں (مذمت والی آیات) نازل کیں تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اللہ تعالیٰ نے شعروں کے بارے میں جو کچھ نازل کیا ہے، آپ اس کو جانتے ہیں، اب آپ کا ان کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک مؤمن اپنی تلوار اور زبان، دونوں کے ذریعے جہاد کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9944]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15877»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15877
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9945
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک بعض شعر دانائی پر مشتمل ہوتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9945]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري، أخرجه ابوداود: 5010، وابن ماجه: 3755، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21154 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21472»
وضاحت: فوائد: … یعنی بعض اشعار سچے ہوتے ہیں اور حق کے مطابق اور واقعہ کے موافق ہوتے ہیں۔

الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9946
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا وَمِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا (وَفِي لَفْظٍ) وَإِنَّ مِنَ الْقَوْلِ سِحْرًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک بعض شعر حکمت و دانائی والے ہوتے ہیں اور بعض بیان جادو جیسا اثر رکھتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9946]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2859 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2859»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9947
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا أُبَالِي مَا أَتَيْتُ وَمَا رَكِبْتُ إِذَا أَنَا شَرِبْتُ تِرْيَاقًا وَتَعَلَّقْتُ تَمِيمَةً أَوْ قُلْتُ الشِّعْرَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِي
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب میں تریاق پی لوں گا اور تمیمہ لٹکا لوں گا یا اپنی طرف سے شعر کہہ لوں گا تو پھر میں اس چیز کی کوئی پرواہ نہیں کروں گا کہ میں کدھر جا رہا ہوں اور کس چیز پر سوار ہو رہا ہوں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9947]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبدالرحمن بن رافع التنوخي، قال البخاري: في حديثه مناكير، أخرجه ابوداود: 3869، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7081 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7081»
وضاحت: فوائد: … تریاق وہ معجون اور دوا ہوتی ہے، جو زہر کے اثر کو ختم کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے، اس کی مختلف قسمیں ہوتی ہے، بعض قسموں میں سانپ کا گوشت اور شراب وغیرہ بھی استعمال کیے جاتے ہیں اور بعض قسموں میں صرف جائز چیزیں مستعمل ہوتی ہیں۔
اس باب کی احادیث سے ثابت ہوا کہ جنگ کے موقع پر اور حکمت و دانائی والے اشعار پڑھنا جائز ہیں۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں