🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

19. بَابُ مَا جَاءَ فِي الثَّلَاثِيَّاتِ
تین تین امور کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9966
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَسْتَقْبِلُوا وَلَا تُحَفِّلُوا وَلَا يَنْعِقْ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قضائے حاجت کے وقت قبلہ رخ نہ ہوا کرو، (دھوکہ دینے کے لیے جانوروں کا) دودھ نہ روکا کرو اور بکریوں کے چرواہوں کی طرح ایک دوسرے کو آواز نہ دیا کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9966]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 1268، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2313 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2313»
وضاحت: فوائد: … آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ سنجیدگی اور وقار کے ساتھ بولنا چاہیے، چیخنے اور اونچی اونچی آوازیں دینے سے بچنا چاہیے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاقْصِدْ فِیْ مَشْیِکَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِکَ اِنَّ اَنْکَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۔} … اور اپنی چال میں میانہ روی رکھ اور اپنی آواز کچھ نیچی رکھ، بے شک سب آوازوں سے برییقینا گدھوں کی آواز ہے۔ (سورۂ لقمان: ۱۹)

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9967
عَنْ سَهْلٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ لِلَّهِ عِبَادًا لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ قِيلَ لَهُ مَنْ أُولَئِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مُتَبَرٍّ مِنْ وَالِدَيْهِ رَاغِبٌ عَنْهُمَا وَمُتَبَرٍّ مِنْ وَلَدِهِ وَرَجُلٌ أَنْعَمَ عَلَيْهِ قَوْمٌ فَكَفَرَ نِعْمَتَهُمْ وَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ
۔ سہل اپنے باپ سیدنا معاذبن انس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے ایسے بندے بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ ان سے کلام کرے گا، نہ ان کو پاک کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے والدین سے براء ت اور بے رغبتی کا اظہار کرنے والا، اپنی اولاد سے بری ہونے والا اور وہ آدمی کہ بعض لوگوں نے اس پر انعام کیا، لیکن اس نے ان کی نعمت کی ناشکری کی اور ان سے براء ت کا اظہار کیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9967]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضعف زبان بن فائد وسھل في رواية زبان عنه، ورشدين ايضا ضعيف، أخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 437، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15636 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15721»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9968
عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِنْ أَعْتَى النَّاسِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ أَوْ طَلَبَ بِدَمِ الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ أَوْ بَصَّرَ عَيْنَيْهِ فِي النَّوْمِ مَا لَمْ تُبْصِرْ
۔ سیدنا ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر سب سے بڑا سرکش وہ ہے، جو غیر قاتل کو قتل کر دے، یا اہل اسلام سے جاہلیت والے خون کا مطالبہ کرے، یا اپنے آنکھوں کو نیند میں وہ کچھ دکھائے، جو انھوں نے دیکھا نہ ہو (یعنی جھوٹے خواب بیان کرے)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9968]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الرحمن بن اسحاق المدني فيه كلام من جھة حفظه، وقال البخاري: ليس ممن يعتمد علي حفظه اذا خالف من ليس بدونه، أخرجه الطبراني في الكبير:، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16378 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16491»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9969
عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا رُوَيْفِعُ لَعَلَّ الْحَيَاةَ سَتَطُولُ بِكَ فَأَخْبِرِ النَّاسَ أَنَّهُ مَنْ عَقَدَ لِحْيَتَهُ أَوْ تَقَلَّدَ وَتَرًا أَوِ اسْتَنْجَى بِرَجِيعِ دَابَّةٍ أَوْ عَظْمٍ فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ بَرِيءٌ (وَفِي لَفْظٍ) فَقَدْ بَرِيءَ مِمَّا أَنْزَلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے رویفع! ممکن ہے کہ تیری زندگی لمبی ہو جائے، پس لوگوں کو بتلانا کہ جس نے اپنی داڑھی کو گرہ لگائی،یا تانت کا قلادہ ڈالا، یا جانور کی لیدیا ہڈی سے استنجاء کیا تو محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بری ہو جا ئے گا۔ ایک روایت میں ہے: ایسا شخص اس چیز سے بری ہو جائے گا، جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9969]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه النسائي: 8/ 135، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16995 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17120»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9970
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَقَوَّلَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ وَمَنِ اسْتَشَارَهُ أَخُوهُ الْمُسْلِمُ فَأَشَارَ عَلَيْهِ بِغَيْرِ رُشْدٍ فَقَدْ خَانَهُ وَمَنْ أَفْتَى بِفُتْيَا غَيْرِ ثَبْتٍ فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے میری طرف وہ بات منسوب کی، جو میں نے نہیں کہی، وہ آگ سے اپنا ٹھکانہ تیار کر لے، جس سے اس کے مسلمان بھائی نے مشورہ طلب کیا، لیکن اس نے عقل اور راست روی کے بغیر اس کو مشورہ دے دیا، پس اس نے اس سے خیانت کی اور جس نے تحقیق کے بغیر فتوی دیا، پس اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہو گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9970]
تخریج الحدیث: «حسن، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 3657، وابن ماجه: 53، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8266 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8249»
وضاحت: فوائد: … مشورہ اور فتوی دینے والے افراد کو متنبہ رہنا چاہیے، صرف وہ مشورہ دیا جائے، جس میں مسلمان کے لیے خیر و بھلائی ہو اور مکمل تحقیق، محنت اور یقینیا ظن غالب کے بعد شریعت سے متعلقہ امور کا فتوی دیا جائے۔

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9971
عَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا وَعَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ وَأَنْ يَمْنَعَ الرَّجُلُ جَارَهُ أَنْ يَضَعَ خَشَبَةً فِي حَائِطِهِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ آدمی کھڑے ہو کر پانی پئے، مشکیزے کے منہ سے پانی پئے اور اس سے کہ آدمی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار پر لکڑی رکھنے سے منع کرے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9971]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الصحيح، أخرجه البيھقي: 6/ 68، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8317 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8317»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط الصحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9972
عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْفِرَى أَنْ يُدْعَى الرَّجُلُ إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ يُرِيَ عَيْنَيْهِ فِي الْمَنَامِ مَا لَمْ تَرَيَا أَوْ يَقُولَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ) )
۔ سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ آدمی غیر باپ کی طرف منسوب ہو یا اپنی آنکھوں کو وہ کچھ دکھائے، جو انھوں نے نہ دیکھا ہو(یعنی جھوٹے خواب بیان کرے)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ایسی بات منسوب کرے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ فرمائی ہو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9972]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3509، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16980 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17105»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3509
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9973
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي لَيْثٍ قَالَ أَشْهَدُ عَلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ شُعْبَةُ أَوْ قَالَ عِمْرَانُ أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنِ الْحَنَاتِمِ أَوْ قَالَ الْحَنْتَمِ وَفِي لَفْظٍ عَنِ الشُّرْبِ فِي الْحَنَاتِمِ وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہرے رنگ کے گھڑوں میں پینے سے، سونے کی انگوٹھی سے اور ریشم سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9973]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه مقطعا الترمذي: 1738، والنسائي: 8/ 170، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19838 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20077»
وضاحت: فوائد: … حرمت ِ شراب کے وقت ہرے رنگ کے گھڑوں اور دیگر برتنوں کو استعمال کرنے سے عارضی طور پر منع کیا گیا تھا، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قسم کے برتنوں کے استعمال کی اجازت دے دی تھی۔

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9974
عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ( (لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَنْظُرَ فِي جَوْفِ بَيْتِ امْرِئٍ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ فَإِنْ نَظَرَ فَقَدْ دَخَلَ وَلَا يَؤُمُّ قَوْمًا فَيَخْتَصَّ نَفْسَهُ بِدُعَاءٍ دُونَهُمْ فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ خَانَهُمْ وَلَا يُصَلِّي وَهُوَ حَقِنٌ حَتَّى يَتَخَفَّفَ) )
۔ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اجازت لیے بغیر کسی آدمی کے گھرکے اندر دیکھے، اگر وہ وہ دیکھتا ہے تو اس کا معنی یہ ہو گا کہ وہ داخل ہو گیا ہے، نیز کوئی آدمی لوگوں کو اس طرح امامت نہ کروائے کہ دعا صرف اپنے نفس کے لیے کرتا رہے، پس اگر وہ اس طرح کرے گا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس نے ان سے خیانت کی ہے اور کوئی آدمی اس حال میں نماز نہ پڑھے کہ وہ پیشاب پائخانہ کو روک رہا ہو، اسے چاہیے کہ پہلے قضائے حاجت سے فارغ ہو جائے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9974]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قصة دعاء الامام لنفسه، فانه تفرد بھا يزيد بن شريح الحضرمي، وھو يعتبر به في المتابعات والشواھد، أخرجه ابوداود: 90، والترمذي: 357، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22415 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22779»
وضاحت: فوائد: … نظر کی وجہ سے ہی بلا اجازت کسی کے گھر میں داخل ہونے سے منع کیا گیا ہے، اس لیے دوسرے کے گھروں میں جھانکنا اور سوراخوں سے دیکھنا منع ہے۔

الحكم على الحديث: صحيح لغيره دون قصة دعاء الامام لنفسه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں