🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

20. فَصْلٌ مِنْهُ فِي الثلاثِيَّاتِ الْمَبْدُونَةِ بِعَدَدِ
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9975
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (ثَلَاثَةٌ قَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْجَنَّةَ مُدْمِنُ الْخَمْرِ وَالْعَاقُّ وَالدَّيُّوثُ الَّذِي يُقِرُّ فِي أَهْلِهِ الْخَبَثَ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین افراد ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان پر جنت کو حرام قرار دیا ہے، شراب پر ہمیشگی اختیار کرنے والا، والدین کا نافرمان اور وہ دیوث جو اپنے گھر کے اندر برائی کو برقرار رکھتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9975]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5372 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5372»
وضاحت: فوائد: … اپنے گھر والے افراد کے بارے میں غیرت نہ رکھنے والے کو دیوث کہتے ہیں، دوسرے الفاظ میں دیوث کا معنی بے غیرت ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9976
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (ثَلَاثٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْعَاقُّ وَالِدَيْهِ وَالْمُدْمِنُ الْخَمْرِ وَالْمَرْأَةُ الْمُتَرَجِّلَةُ الْمُتَشَبِّهَةُ بِالرِّجَالِ وَالدَّيُّوثُ وَثَلَاثٌ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْعَاقُّ بِوَالِدَيْهِ وَالْمُدْمِنُ الْخَمْرِ وَالْمَنَّانُ بِمَا أَعْطَى) )
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین افراد نہ جنت میں داخل ہوں گے اور نہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کی طرف دیکھے گا: والدین کا نافرمان، شراب پر ہمیشگی کرنے والے،مردوں سے مشابہت اختیار کرنے والی خاتون اور دیوث اور اللہ تعالیٰ بروز قیامت تین افراد کی طرف نہیں دیکھے گا: والدین کا نافرمان، شراب پر ہمیشگی کرنے والا اور اپنے دیئے پر احسان جتلانے والا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9976]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه النسائي: 5/ 80، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6180 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6180»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9977
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (ثَلَاثٌ إِذَا كُنَّ فِي الرَّجُلِ فَهُوَ الْمُنَافِقُ الْخَالِصُ إِنْ حَدَّثَ كَذَبَ وَإِنْ وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِنِ ائْتُمِنَ خَانَ وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ لَمْ يَزَلْ يَعْنِي فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین خصلتیں ہیں، جب وہ کسی آدمی میں پائی جائیں گی تو وہ خالص منافق ہو گا، جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو اس کی مخالفت کرے اور جب اس کو امین بنایا جائے تو وہ خیانت کرے، اور جس فرد میں ان میں ایک خصلت ہو گی تو اس میں وہ دراصل نفاق کی خصلت ہو گی،یہاں تک کہ وہ اس کو ترک کر دے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9977]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6879 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6879»
وضاحت: فوائد: … ان تین برائیوں کا تعلق منافقوں کے اعمال سے ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9978
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (ثَلَاثٌ مِنْ عَمَلِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَتْرُكُهُنَّ أَهْلُ الْإِسْلَامِ النِّيَاحَةُ وَالِاسْتِسْقَاءُ بِالْأَنْوَاءِ) ) وَكَذَا قُلْتُ لِسَعِيدٍ وَمَا هُوَ قَالَ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ يَا آلَ فُلَانٍ يَا آلَ فُلَانٍ يَا آلَ فُلَانٍ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اہل جاہلیت کے تین امور ہیں، اہل اسلام بھی ان کو ترک نہیں کریں گے، نوحہ کرنا، ستاروں کے ذریعے بارش طلب کرنا اور اس طرح جاہلیت کی پکار پکارنا کہ اے آلِ فلاں، اے آلِ فلاں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9978]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن حبان: 3141، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7560 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7550»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9979
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ ( (ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَكَّ فِيهِنَّ دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین دعائیں قبول کی جاتی ہیں، ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں ہے، مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا اور والدین کی اپنی اولاد کے حق میں دعا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9979]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابوداود: 1536، والترمذي: 1905، 3448، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8581 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8564»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9980
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (ثَلَاثٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ رَجُلٌ عَلَى فَضْلِ مَاءٍ بِالْفَلَاةِ يَمْنَعُهُ مِنِ ابْنِ السَّبِيلِ وَرَجُلٌ بَايَعَ الْإِمَامَ وَلَا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِدُنْيَا فَإِنْ أَعْطَاهُ مِنْهَا وَفَى لَهُ وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ لَمْ يَفِ لَهُ وَرَجُلٌ بَايَعَ رَجُلًا سِلْعَةً بَعْدَ الْعَصْرِ فَحَلَفَ لَهُ بِاللَّهِ لَأَخَذَهَا بِكَذَا وَكَذَا فَصَدَّقَهُ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نہ تین افراد سے کلام کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ ان کو پاک صاف کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا، ایک وہ آدمی جو کسی بیابان میں زائد پانی پر قبضہ کر لے اور مسافر کو اس سے روک دے، دوسرا وہ آدمی جو صرف دنیا کے لیے حکمران کی بیعت کرے، اگر وہ اس کو دنیوی مال دے تو وہ بیعت کے تقاضے پورا کرتا ہے اور اگر کچھ نہ دے تو وہ پورا نہیں کرتا، تیسرا وہ آدمی جو عصر کے بعد اپنا سامان فروخت کرے اور اس بات پر قسم اٹھائے کہ اس نے یہ سامان اتنی قیمت کا لیا ہے، پس اس سے خریدنے والا اس قسم کی وجہ سے اس کی تصدیق کرے، جبکہ حقیقت میں اس کا معاملہ جھوٹ پر ہو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9980]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2358، ومسلم: 108، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7442 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7435»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2358
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9981
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا قِيلَ وَقَالَ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ وَحَرَّمَ عَلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأْدَ الْبَنَاتِ وَعُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ وَمَنْعَ وَهَاتِ) )
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تین امور کو ناپسند کیا ہے، قیل و قال، کثرت سے سوال کرنا اور مال ضائع کرنا اور اس کے رسول نے تم پر تین چیزوں کو حرام قرار دیا ہے، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا، ماؤں کی نافرمانی کرنا اور روک لینا اور مانگنا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9981]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2408، ومسلم: 593، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18147 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18328»
وضاحت: فوائد: … قیل و قال: اس سے مراد یہ ہے کہ کثرت سے باتیں کی جائیں اور بغیر تحقیق کے لوگوں کی باتیں بیان کی جائیں۔
کثرت سے سوال کرنا: اس کا مفہوم یہ ہے کہ لوگوں سے مال و متاع کا سوال کیا جائے یا غیر ضروری مسائل اور لوگوں کے حالات کے بارے میں پوچھا جائے۔
آجکل گپ شب کے بہانے ان ہی دو چیزوں کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے۔
روک لینا اور مانگنا: اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی پر جس چیز کا خرچ کرنا ضروری ہو، وہ اس کو خرچ نہ کرے اور جس چیز میں اس کا حق نہ ہو، وہ لوگوں سے اس کا سوال کرے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2408
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9982
عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَلَاثٍ فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ سَأَلْنَاهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْنَا أَبَا بَكْرَةَ وَكَانَ مَمْلُوكًا وَأَسْلَمَ قَبْلَنَا فَقَالَ ( (لَا هُوَ طَلِيقُ اللَّهِ ثُمَّ طَلِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) ) ثُمَّ سَأَلْنَاهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَنَا فِي الشِّتَاءِ وَكَانَتْ أَرْضُنَا أَرْضًا بَارِدَةً يَعْنِي فِي الطُّهُورِ فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَنَا فِي الدُّبَّاءِ فَلَمْ يُرَخِّصَ لَنَا فِيهِ
۔ بنو ثقیف کے ایک آدمی سے روایت ہے، وہ کہتا ہے: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تین چیزوں کا سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں کسی ایک میں بھی رخصت نہیں دی، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ آپ ابوبکرہ کو ہمیں لوٹا دیں، وہ غلام تھا اور ہم سے پہلے مسلمان ہو گیا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، وہ تو اللہ تعالیٰ کا اور پھر اس کے رسول کا آزاد شدہ ہے۔ پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوال کیا کہ ہمارے علاقے میں بڑی سردی پڑتی ہے، اس لیے ہمیں طہارت کے بارے میں رخصت دی جائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں رخصت نہ دی، پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ اجازت چاہی کہ ہمیں کدو کا برتن استعمال کرنے کی اجازت دی جائے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس کی بھی رخصت نہ دی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9982]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرج منه قصة ابي بكرة الطحاوي في شرح مشكل الآثار: 4273، وفي شرح معاني الآثار: 3/ 278، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17530 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17671»
وضاحت: فوائد: … جب کافروں کا غلام مسلمان ہو جائے تو وہ آزاد ہو جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعد میں کدو کا برتن استعمال کرنے کی اجازت دے دی تھی، عذر کے وقت غسل اور وضو کے بجائے تیمم کرنا درست ہے، لیکن ان لوگوں کا عذر اس لائق نہیں تھا کہ ان کو یہ رخصت دی جائے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9983
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (ثَلَاثَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ مُدْمِنُ خَمْرٍ وَقَاطِعُ رَحِمٍ وَمُصَدِّقٌ بِالسِّحْرِ وَمَنْ مَاتَ مُدْمِنًا لِلْخَمْرِ سَقَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ نَهْرِ الْغُوطَةِ) ) قِيلَ وَمَا نَهْرُ الْغُوطَةِ قَالَ ( (نَهْرٌ يَجْرِي مِنْ فُرُوجِ الْمُومِسَاتِ يُؤْذِي أَهْلَ النَّارِ رِيحُ فُرُوجِهِمْ) )
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین افراد جنت میں داخل نہیں ہوں گے، شراب پر ہمیشگی کرنے والا، قطع رحمی کرنے والا اور جادو کی تصدیق کرنے والا۔ اور جو آدمی شراب پر ہمیشگی والی حالت پر مرے گا، اللہ تعالیٰ اس کو غوطہ کی نہر سے پلائے گا۔ کسی نے کہا: غوطہ کی نہر سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ زانی عورتوں کی شرمگاہوں سے نکلنے والی نہر ہو گی، ان کی شرمگاہوں کی بدبو جہنمیوں کو تکلیف دے گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9983]
تخریج الحدیث: «قوله منه: ثلاثةلايدخلون الجنة: مدمن خمر، وقاطع رحم، ومصدق بالسحر۔ حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف ابي حريز، أخرجه ابن حبان: 5346، وابويعلي: 7248، والحاكم: 4/ 146، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19569 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19798»

الحكم على الحديث:
قوله منه: ثلاثةلايدخلون الجنة: مدمن خمر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9984
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ) ) قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هُمْ خَسِرُوا وَخَابُوا قَالَ فَأَعَادَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ ( (الْمُسْبِلُ وَالْمُنْفِقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلْفِ الْكَاذِبِ أَوِ الْفَاجِرِ وَالْمَنَّانُ) )
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تین افراد سے نہ کلام کرے گا، نہ ان کو پاک صاف کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں؟یہ تو خسارہ پانے والے اور ناکام ہونے والے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار وہی بات دوہرائی اور پھر فرمایا: کپڑے کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا، جھوٹی قسم اٹھا کر سامان فروخت کرنے والا اور احسان جتلانے والا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9984]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم:106، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:) 21318 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21644»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم:106
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں