الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّبَاعِيَّاتِ
چار چار امور کا بیان
حدیث نمبر: 9990
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يُوَقِّرِ الْكَبِيرَ وَيَرْحَمِ الصَّغِيرَ وَيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ہم میں سے نہیں ہے، جو بڑے کی عزت نہ کرے، چھوٹے پر شفقت نہ کرے، نیکی کا حکم نہ دے اور برائی سے منع نہ کرے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9990]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 1921، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2329 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2329»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9991
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَدْ ضَادَّ اللَّهَ فِي أَمْرِهِ وَمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَلَيْسَ بِالدِّينَارِ وَلَا بِالدِّرْهَمِ وَلَكِنَّهَا الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ وَمَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَهُوَ يَعْلَمُهُ لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ وَمَنْ قَالَ فِي مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ أَسْكَنَهُ اللَّهُ رَدْغَةَ الْخَبَالِ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی سفارش، اللہ تعالیٰ کی کسی حد کے لیے رکاوٹ بن گئی، اس نے اللہ کے حکم کی مخالفت کی، جو آدمی مقروض ہو کر مرا، تو (وہ یاد رکھے کہ) روزِ قیامت درہم و دینار کی ریل پیل نہیں ہو گی، وہاں تو نیکیوں اور برائیوں کا تبادلہ ہو گا۔ جس نے دیدہ دانستہ باطل کے حق میں جھگڑا کیا وہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے غیظ و غضب میں رہے گا جب تک باز نہیں آتا۔ جس نے مومن پر ایسے جرم کا الزام لگایا جو اس میں نہیں پایا جاتا اسے رَدْغَۃُ الْخَبَال (جہنمیوں کے پیپ) میں روک لیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ اس بات سے نکل آئے، جو اس نے کہی ہو گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9991]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الحاكم: 2/27، والبيھقي: 6/ 82، وأخرجه ابوداود: 3597 دون قوله: ومن مات وعليه دين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5385 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5385»
وضاحت: فوائد: … مسلمان سے بتقاضۂ بشریت غلطی ہو جانا ممکن ہے اور یہ چیز زیادہ قابل جرح بھی نہیں ہے، کیونکہ نیکیوں کے ذریعےیا توبہ کرنے سے اس کا اثر ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے قانون کو توڑنے کے درپے ہو جانا بغاوت ہے اور بغاوت کو کوئی بھی برداشت نہیں کرتا۔ اگر کسی مجرم کا معاملہ عدالت میں پہنچ چکا ہو اور اس پر حدّ نافذ کرنے کا فیصلہ کیا جا چکا ہو تو کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس کی حدّ کے سامنے روڑے اٹکائے۔ یہی معاملہ اس جھگڑے کا ہے، جس کی بابت جھگڑنے والے کو پتہ ہو کہ وہ باطل پر ہے، لیکن پھر بھی اپنی انانیت کے دفاع کا بھوت سوار کر کے یا کسی اور مقصد کے پیشِ نظر لڑائی جاری رکھے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 9992
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ أَنْ يَنْكِحَ الْمَرْأَةَ بِطَلَاقِ أُخْرَى وَلَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَبِيعَ عَلَى بَيْعِ صَاحِبِهِ حَتَّى يَذَرَهُ وَلَا يَحِلُّ لِثَلَاثَةِ نَفَرٍ يَكُونُوا بِأَرْضِ فَلَاةٍ إِلَّا أَمَّرُوا عَلَيْهِمْ أَحَدَهُمْ وَلَا يَحِلُّ لِثَلَاثَةِ نَفَرٍ يَكُونُوا بِأَرْضِ فَلَاةٍ يُنَاجِيَ اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ حلال نہیں ہے کہ مرد ایک بیوی کو طلاق دے کر دوسری سے شادی کرے، نہ یہ حلال ہے کہ آدمی اپنے ساتھی کے سودے پر سودا کرے، یہاں تک کہ وہ ساتھی اس سودے کو چھوڑ دے، کسی ویرانے میں موجود تین افراد کے لیے حلال نہیں ہے، الا یہ کہ وہ اپنے میں سے ایک آدمی کو امیر بنا دیں، اسی طرح جب کسی بیاباں میں تین افراد ہوں تو دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9992]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6647 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6647»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9993
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ وَلَا مَنَّانٌ وَلَا وَلَدُ زِنْيَةٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: والدین کا نافرمان، شراب پر ہمیشگی کرنے والا، احسان جتلانے والا اور زنا کی اولاد، یہ سارے لوگ جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9993]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله ولا ولد زنية وھذا اسناد ضعيف، علته جابان، أخرجه النسائي في الكبري: 4916،والطيالسي: 2295، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6892 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6892»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره دون قوله ولا ولد زنية وھذا اسناد ضعيف
حدیث نمبر: 9994
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا عَلِيُّ أَسْبِغِ الْوُضُوءَ وَإِنْ شَقَّ عَلَيْكَ وَلَا تَأْكُلِ الصَّدَقَةَ وَلَا تُنْزِ الْحَمِيرَ عَلَى الْخَيْلِ وَلَا تُجَالِسْ أَصْحَابَ النُّجُومِ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے علی! پورا پورا وضو کر، اگرچہ وہ تجھ پر گراں گزرے، صدقہ نہ کھا، گدھے کو گھوڑی پر نہ کدوا اور نجومی لوگوں کی مجلس میں نہ بیٹھ۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9994]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابويعلي: 484، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 582 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 582»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره