🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

23. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخمَاسِيَّاتِ
پانچ پانچ امور کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10001
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ عَلَى أُمَّتِي الْخَمْرَ وَالْمَيْسِرَ وَالْمِزْرَ وَالْكُوبَةَ وَالْقِنِّينَ وَزَادَنِي صَلَاةَ الْوِتْرِ قَالَ يَزِيدٌ أَحَدُ الرُّوَاةِ الْقِنِّينُ الْبَرَابِطُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت پر شراب، جوا، جو یا گیہوں کی شراب، نرد یا شطرنج اور باجے کو حرام قرار دیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے وتر کی صورت میں ایک زائد نماز دی ہے۔ یزید راوی نے کہا: قِنِّیْن سے مراد بَرْبَط یعنی باجہ ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 10001]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، فرج بن فضالة ضعيف، وابراهيم بن عبد الرحمن مجھول، وابوه، في حديثه مناكير، قاله الامام البخاري، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6547 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6547»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10002
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا يَزِيدُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَتِهِ وَلَا تَسْأَلُ امْرَأَةٌ طَلَاقَ أُخْتِهَا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شہری دیہاتی کے لیے سودا نہ کرے، بیع نجش نہ کرو، کوئی آدمی اپنے بھائی کے سودے پر زیادہ قیمت نہ لگائے، کوئی شخص اپنے بھائی کی منگنی پر پیغامِ نکاح نہ بھیجے اور کوئی عورت اپنے بہن کی طلاق کا سوال نہ کرے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 10002]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2160، ومسلم: 1413، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7700 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7686»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10003
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْرِقُ سَارِقٌ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَزْنِي زَانٍ حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَشْرَبُ الشَّارِبُ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ يَعْنِي الْخَمْرَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ وَلَا يَنْتَهِبُ أَحَدُكُمْ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ إِلَيْهَا الْمُؤْمِنُونَ أَعْيُنَهُمْ فِيهَا وَهُوَ حِينَ يَنْتَهِبُهَا مُؤْمِنٌ وَلَا يَغُلُّ أَحَدُكُمْ حِينَ يَغُلُّ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَإِيَّاكُمْ إِيَّاكُمْ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب چور چوری کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا، جب زانی زنا کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا، جب شرابی شراب پیتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا، جب کوئی آدمی بڑی مقدار میں لوٹ مار کرتا ہے اور مؤمن لوگ اپنی نگاہیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں تو وہ اس وقت مؤمن نہیں ہوتا اور جب کوئی خائن خیانت کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا، پس تم ان امور سے بچو، ان امور سے بچو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 10003]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 57، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8202 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8187»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10004
عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَرْيَةً مِنْ قُرَى الْمَغْرِبِ يُقَالُ لَهَا جَرْبَةُ فَقَامَ فِينَا خَطِيبًا فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي لَا أَقُولُ فِيكُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَامَ فِينَا يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْقِيَ مَاءَهُ زَرْعَ غَيْرِهِ يَعْنِي إِتْيَانَ الْحُبَالَى مِنَ السَّبَايَا وَأَنْ يُصِيبَ امْرَأَةً ثَيِّبًا مِنَ السَّبْيِ حَتَّى يَسْتَبْرِئَهَا يَعْنِي إِذَا اشْتَرَاهَا وَأَنْ يَبِيعَ مَغْنَمًا حَتَّى يُقْسَمَ وَأَنْ يَرْكَبَ دَابَّةً مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَعْجَفَهَا رَدَّهَا فِيهِ وَأَنْ يَلْبَسَ ثَوْبًا مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَخْلَقَهُ رَدَّهُ فِيهِ
۔ حنش صنعانی کہتے ہیں: ہم نے سیدنا رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ مغرب کی سمت والی بستیوں میں سے جربہ نامی بستی کے ساتھ جہاد کیا، وہ ہم میں خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور کہا: لوگو! میں تم میں وہی بات کروں گا، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ حنین والے دن ہم میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے فرد کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنا پانی دوسرے کی کھیتی کو پلائے، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد حاملہ قیدی خواتین سے جماع کرنا تھا، نیز کسی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ استعمال شدہ قیدی خاتون خریدنے کے بعد استبرائے رحم سے پہلے اس سے جماع کرے، تقسیم سے پہلے غنیمت کا مال بیچ دے،مسلمانوں کے مالِ فی ٔ میں سے کسی جانور پر سوار ہو جائے، یہاں تک کہ جب اس کو تھکا دے تو واپس کر دے اور وہ مسلمانوں کے مال غنیمت میں سے کوئی کپڑا پہن لے اور پھر بوسیدہ کر کے اس کو واپس کر دے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 10004]
تخریج الحدیث: «صحيح بشواھده، أخرجه ابوداود: 2159، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16997 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17122»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10005
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَرَوْحٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ وَلَا تَحْتَبِيَنَّ فِي إِزَارٍ وَاحِدٍ وَلَا تَأْكُلْ بِشِمَالِكَ وَلَا تَشْتَمِلِ الصَّمَّاءَ وَلَا تَضَعْ إِحْدَى رِجْلَيْكَ عَلَى الْأُخْرَى إِذَا اسْتَلْقَيْتَ قُلْتُ لِأَبِي الزُّبَيْرِ أَوَضْعُهُ رِجْلَهُ عَلَى الرُّكْبَةِ مُسْتَلْقِيًا قَالَ نَعَمْ قَالَ أَمَّا الصَّمَّاءُ فَهِيَ إِحْدَى اللِّبْسَتَيْنِ تَجْعَلُ دَاخِلَةَ إِزَارِكَ وَخَارِجَهُ عَلَى إِحْدَى عَاتِقَيْكَ قُلْتُ لِأَبِي الزُّبَيْرِ فَإِنَّهُمْ يَقُولُونَ لَا يَحْتَبِي فِي إِزَارٍ وَاحِدٍ مُفْضِيًا قَالَ كَذَلِكَ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ لَا يَحْتَبِي فِي إِزَارٍ وَاحِدَةٍ قَالَ حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ عَمْرٌو لِي مُفْضِيًا
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک جوتے میں نہ چل، ایک ازار میں گوٹھ نہ مار، بائیں ہاتھ سے نہ کھا، گونگی بکل نہ مار اور جب چت لیٹا ہوا ہو تو ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر نہ رکھ۔ ابن جریج کہتے ہیں: میں نے ابو زبیر سے کہا: اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی لیٹ کر اپنا پاؤں دوسرے گھٹنے پر رکھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ پھر انھوں نے کہا: گونگی بکل ایک لباس ہے، جس میں ازار کا اندرونی اور بیرونی حصہ ایک کندھے پر رکھ دیا جاتا ہے۔ ابن جریج کہتے ہیں: میں نے پھر ابو زبیر سے کہا: لوگ تو یہ کہہ کہتے ہیں کہ ایک ازار میں اس وقت گوٹھ نہیں مارنا چاہیے، جب بے پردگی ہو رہی ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح سنا ہے کہ آدمی ایک ازار میں گوٹھ نہ مارے۔ حجاج نے ابن جریج سے روایت کیا کہ عمرو کے الفاظ یہ ہے کہ گوٹھ اس وقت منع ہے، جب شرمگاہ نظر آ رہی ہو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 10005]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرج المرفوع منه مسلم: 2099، وأخرجه مختصرا ابوداود: 4865، والترمذي: 2766، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14178 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14227»
وضاحت: فوائد: … اِشْتِمَالُ الصَّمَّائ سے کیا مراد ہے؟ حافظ ابن حجر نے کہا: اہلِ لغت کہتے ہیں: کسی شخص کا ایک کپڑے کو اپنے جسم پر اس طرح لپیٹنا کہ نہ تو وہ اس سے کسی جانب کو بلند کرتا ہو اور نہ ہی اتنی جگہ باقی ہو کہ اس کا ہاتھ نکل سکے۔ ابن قتیبہ نے کہا: صمّائ کی وجہ تسمیہیہ ہے کہ اس کی صورت تمام سوراخوں کو بند کر دیتی ہے، اس طرح وہ سخت چٹان کی طرح ہو جاتی ہے، جس میں کوئی سوراخ نہیں ہوتا۔
جبکہ فقہا نے کہا: آدمی اپنے جسم پر کپڑا لپیٹے اور پھر اس کا ایک کنارہ اٹھا کر کندھے پر رکھ دے اور اس طرح اس کی شرم گاہ ننگی ہونے لگے۔ (فتح الباری: ۱/ ۶۲۹) سنن ابی داود (۴۰۸۰) کی روایت سے اس معنی کی تائید ہوتی ہے، اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لباس کی دو قسموں سے منع کیا ہے: آدمی کا اس طرح گوٹھ مارنا کہ اوپر سے اس کی شرمگاہ ننگی ہو رہی ہو اور اس طرح کپڑا پہننا کہ ایک جانب ننگی رہ جائے اور کپڑا کندھے پر ڈال دے۔
اگرچہ اس حدیث کے ایک راوی سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی تعریف، فقہاء کی تعریف سے ملتی جلتی ہے، لیکن علامہ عظیم آبادی کہتے ہیں: لفظ صَمّائ کو سامنے رکھا جائے تو اس معنی کی گنجائش نہیں ملتی، اصمعی کا بیان کردہ معنی اس لفظ کے زیادہ قریب ہے، وہ کہتے ہیں: آدمی کا ایک کپڑے سے اپنا سارا جسم اس طرح ڈھانپ لینا کہ ہاتھ نکالنے کے لیے بھی کوئی سوراخ نہ بچے اور اس طرح وہ اپنے ہاتھوں سے موذی چیزوں سے دفاع نہ کر سکے۔ (عون المعبود: ۱/ ۱۱۲۲)
سابقہ بیان سے معلوم ہوا کہ فقہاء والی تعریف کی تائید حدیث اور حدیث کے راوی سے ہو رہی ہے تو یہ معنی مراد لینے میں بھی کوئی قباحت نہیں۔ گویا اشتمال صمائ کے دونوں معانی درست ہیں۔ اگر ترجیح دینی ہی ہے تو حدیث سے تائید شدہ معنی کو اولیٰ قرار دینا چاہیے۔ (عبداللہ رفیق)
حبوہ (گوٹھ مارنا): سرین کے بل بیٹھ کر گھٹنے کھڑے کر کے ان کے گرد سہارا لینے کے لیے دونوں ہاتھ باندھ لینایا کمر اور گھٹنوں کے گردکپڑا باندھنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود اس انداز میں بیٹھ جایاکرتے تھے، اس لیے ایسے انداز میں بیٹھنا جائز ہے، بشرطیکہ بیٹھنے والا ننگا نہ ہو رہا ہو، جیسا کہ اس حدیث سے بھی معلوم ہو رہا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں