الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْتَرْهِيْبِ مِنْ سَبِّ الْمُسْلِمِ وَقِتَالِهِ وَأَنَّ إِثْمَ ذَلِكَ عَلَى الْبَادِيءِ مَالَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ
مسلمان کو گالی دینے اور اس سے قتال کرنے سے ترہیب کا بیان اور یہ وضاحت کہ اس چیز کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے
حدیث نمبر: 10126
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي زُبَيْدٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي وَائِلٍ أَنْتَ سَمِعْتَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑائی کرنا کفر ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمَدْحِ وَالدَّمِّ/حدیث: 10126]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 48، ومسلم: 64، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3647 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3647»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10127
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سِبَابُ الْمُسْلِمِ أَخَاهُ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ وَحُرْمَةُ مَالِهِ كَحُرْمَةِ دَمِهِ
۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کا اپنے بھائی کو برا بھلا کہنا فسق اور اس سے لڑائی کرنا کفر ہے اور مسلمان کی حرمت اس کے خون کی حرمت کی طرح ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمَدْحِ وَالدَّمِّ/حدیث: 10127]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابويعلي: 5119، والطيالسي: 306، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4262 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4262»
وضاحت: فوائد: … یہ احادیث ِ ِ مبارکہ ان لوگوں کے لیے سخت وعید ہیں کہ جن کی زبانیں فحش گوئی و یاوہ گوئی، بدکلامی و بد زبانی، سب و شتم اور گالی گلوچ کی عادی بن چکی ہیں، جن کو کسی کے بارے میں کوئی پھکڑ کہنے سے پہلے سوچنے کی زحمت نہیں ہوتی۔ مثلا ماں بہن کی گالی دینا، حرامی کہنا، بے غیرت کہنا، لعنتی کہنا اور برے القاب سے پکارنا، وغیرہ۔ ایسے لوگ فاسق اور فاجر ہیں۔
حافظ ابن حجرؒنےکہا: کفرکااطلاقکرناسختی کا انداز ہے، جس کی غرض و غایت سامع کو ایسا اقدام کرنے سے اجتناب کرنے پر آمادہ کرنا ہے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ کفر کا اطلاق تشبیہ کے طور پر کیا گیا ہے، کیونکہ دراصل ایسا کرنا کافروں کا کام ہے۔ اس حدیث ِ مبارکہ کا ایک خاص سبب بھی بیان کیا گیا ہے، جیسا امام بغویؒ اور امام طبرانیؒبیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمرو بن نعمان بن مقرن مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انصاریوںکی ایک مجلس میں تشریف لے گئے، ان میں ایک ایساانصاری آدمی بھی تھا، جو بدزبانی اور سب و شتم کرنے میں معروف تھا، وہاں پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((سِبَابُ الْمُسْلِمِ أَخَاہُ فُسُوْقٌ، وَقِتَالُہُ کُفْرٌ۔)) … مسلمان کا اپنے بھائی کو گالی دینا فسق ہے اور اُس سے لڑائی کرنا کفر ہے۔ یہ سن کر اس آدمی نے کہا: اللہ کی قسم! آئندہ میں کسی آدمی کو گالی نہیں دوں گا۔ (فتح الباری)
یہ مومن کی قدر و قیمت ہے کہ اس کا مال اور عزت بھی اس کے وجود کی طرح معزز ہیں۔
حافظ ابن حجرؒنےکہا: کفرکااطلاقکرناسختی کا انداز ہے، جس کی غرض و غایت سامع کو ایسا اقدام کرنے سے اجتناب کرنے پر آمادہ کرنا ہے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ کفر کا اطلاق تشبیہ کے طور پر کیا گیا ہے، کیونکہ دراصل ایسا کرنا کافروں کا کام ہے۔ اس حدیث ِ مبارکہ کا ایک خاص سبب بھی بیان کیا گیا ہے، جیسا امام بغویؒ اور امام طبرانیؒبیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمرو بن نعمان بن مقرن مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انصاریوںکی ایک مجلس میں تشریف لے گئے، ان میں ایک ایساانصاری آدمی بھی تھا، جو بدزبانی اور سب و شتم کرنے میں معروف تھا، وہاں پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((سِبَابُ الْمُسْلِمِ أَخَاہُ فُسُوْقٌ، وَقِتَالُہُ کُفْرٌ۔)) … مسلمان کا اپنے بھائی کو گالی دینا فسق ہے اور اُس سے لڑائی کرنا کفر ہے۔ یہ سن کر اس آدمی نے کہا: اللہ کی قسم! آئندہ میں کسی آدمی کو گالی نہیں دوں گا۔ (فتح الباری)
یہ مومن کی قدر و قیمت ہے کہ اس کا مال اور عزت بھی اس کے وجود کی طرح معزز ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10128
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَى الْبَادِئِ مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو گالی گلوچ کرنے والے جو کچھ کہیں گے، سارا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہیں کرے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمَدْحِ وَالدَّمِّ/حدیث: 10128]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2587، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7205 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7204»
وضاحت: فوائد: … ان دو افراد کے جھگڑے کا گناہ ابتدا کرنے والے کے کھاتے میں جائے گا، کیونکہ وہ اس برائی کا سبب بنا ہے، ہاں جب مظلوم ظالم سے بڑھ کر زیادتی کرے گا تو وہ اپنی زیادتی کا خود ذمہ دار ہو گا، مظلوم کو انتقام لینے کا حق تو ہے، لیکن ضروری ہے کہ وہ انتقام اس ظلم سے بڑھ کر نہ ہو، جس اس پر کیا گیا، وگرنہ مظلوم بھی ظالم قرار پائے گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10129
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَمْشِيَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ بِالسَّلَاحِ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَحَدُكُمْ لَعَلَّ الشَّيْطَانَ يَنْزِعُ فِي يَدِهِ فَيَقَعُ فِي حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی ہتھیار لے کر ہر گز اپنے بھائی کی طرف نہ جائے، کیونکہ وہ اس چیز کو نہیں جانتا کہ ہو سکتا ہے کہ شیطان اس کے ہاتھ سے کھینچ لے اور اس طرح وہ آگ کے گڑھے میں گر جائے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمَدْحِ وَالدَّمِّ/حدیث: 10129]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7072، ومسلم: 2617، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8212 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8197»
وضاحت: فوائد: … جو چیز برائی اور زیادتی کا سبب بن سکتی ہے، سرے سے اس سے باز رہنے کی تلقین کی گئی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10130
عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي يَشْتُمُنِي وَهُوَ دُونِي عَلَيَّ بَأْسٌ أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهُ قَالَ الْمُسْتَبَّانِ شَيْطَانَانِ يَتَهَاذَيَانِ وَيَتَكَاذَبَانِ (وَفِي لَفْظٍ) يَتَكَاذَبَانِ وَيَتَهَاتَرَانِ
۔ سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری قوم کا ایک آدمی مجھے برا بھلا کہتا ہے، جبکہ وہ مجھ سے کم مرتبہ آدمی ہے، اب اگر میں اس سے انتقام لوں تو کیا مجھ پر کوئی حرج ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گالی گلوچ کرنے والے دو افراد شیطان ہیں، وہ بیہودہ باتیں کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں۔ ایک روایت میں ہے: وہ جھوٹ بولتے ہیں اور ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمَدْحِ وَالدَّمِّ/حدیث: 10130]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابن حبان: 5726، والطبراني في الكبير: 17/ 1001، والطيالسي: 1080، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17483 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17622»
وضاحت: فوائد: … جھگڑا ایک ایسا شیطانی معاملہ ہے کہ جو بڑھتا چلا جاتا ہے، ایک بہن کی سناتا ہے، دوسرا ماں کی سنا دیتا ہے، ایک تھپڑ مارتا ہے، دوسرا پتھر پھینک دیتاہے، ایک دو سناتا ہے، دوسرا چار سناتا ہے، جھگڑا رکنے کا نام نہیں لیتا، قتل اور بڑی بڑی زیادتیوں جیسے جرائم کی ابتدا جھگڑے سے ہوتی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10131
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِثْمُ الْمُسْتَبَّيْنِ مَا قَالَا عَلَى الْبَادِئِ حَتَّى يَعْتَدِيَ الْمَظْلُومُ أَوْ إِلَّا أَنْ يَعْتَدِيَ الْمَظْلُومُ
۔ سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گالی گلوچ کرنے والے دو افراد جو کچھ کہیں گے، ان کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمَدْحِ وَالدَّمِّ/حدیث: 10131]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الطبراني في الكبير: 17/ 1004، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18341 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18531»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10132
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَرْمِي رَجُلٌ رَجُلًا بِالْفِسْقِ أَوْ يَرْمِيهِ بِالْكُفْرِ إِلَّا ارْتَدَّتْ عَلَيْهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ صَاحِبُهُ كَذَلِكَ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمَدْحِ وَالدَّمِّ/حدیث: 10132]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه تامّا ومقطّعا مسلم: 61، وابن ماجه: 2319، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21571 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21904»
وضاحت: سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10133
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَبَّ رَجُلٌ رَجُلًا عِنْدَهُ قَالَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ الْمَسْبُوبُ يَقُولُ عَلَيْكَ السَّلَامُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّ مَلَكًا بَيْنَكُمَا يَذُبُّ عَنْكَ كُلَّمَا شَتَمَكَ هَذَا قَالَ لَهُ بَلْ أَنْتَ وَأَنْتَ أَحَقُّ بِهِ وَإِذَا قَالَ لَهُ عَلَيْكَ السَّلَامُ قَالَ لَا بَلْ لَكَ أَنْتَ أَحَقُّ بِهِ
۔ سیدنا نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو برا بھلا کہا، جبکہ اس نے جواباً کہا: تجھ پر سلامتی ہو، یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! بیشک تمہارے درمیان ایک فرشتہ ہے، جو تیری طرف سے دفاع کرتا ہے، وہ آدمی جب بھی تجھے برا بھلا کہتا ہے تو وہ فرشتہ اس کو کہتا ہے: بلکہ وہ تو خود ہے اور تو ہی اس گالی کا زیادہ حقدار ہے، اور جب مظلوم کہتا ہے: تجھ پر سلامتی ہو، تو فرشتہ کہتا ہے: نہیں، بلکہ یہ سلامتی تیرے لیے ہے اور تو خود ہی اس کا زیادہ مستحق ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمَدْحِ وَالدَّمِّ/حدیث: 10133]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23745 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24146»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10134
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا هَجَانَا الْمُشْرِكُونَ شَكَوْنَا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قُولُوا لَهُمْ كَمَا يَقُولُونَ لَكُمْ قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نُعَلِّمُهُ إِمَاءَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ
۔ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب مشرکوں نے ہماری ہجو کی اور ہم نے اس چیز کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جتنا کچھ وہ کہتے ہیں، اتنا کچھ تم بھی ان کو کہہ دیا کرو۔ پھر ہم نے اہل مدینہ کی لونڈیوں کووہ چیزیں سکھائیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمَدْحِ وَالدَّمِّ/حدیث: 10134]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شريك النخعي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18314 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18504»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 10135
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَتُؤْذُوا الْأَحْيَاءَ
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مردوں کو برا بھلا نہ کہو، اس طرح تم زندگان کو تکلیف دو گے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمَدْحِ وَالدَّمِّ/حدیث: 10135]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 1982، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18210 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18397»
وضاحت: فوائد: … وفات پا جانے والے لوگ اپنے انجام تک پہنچ جاتے ہیں، اس لیے اگر ان کا تذکرہ ٔ خیر نہ کیا جائے تو کم از کم ان کے معائب و نقائص بیان کرنے سے باز رہنا چاہئے۔
الحكم على الحديث: صحیح