الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْتَرْهِيْبِ مِنْ سَبِّ الْمُسْلِمِ وَقِتَالِهِ وَأَنَّ إِثْمَ ذَلِكَ عَلَى الْبَادِيءِ مَالَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ
مسلمان کو گالی دینے اور اس سے قتال کرنے سے ترہیب کا بیان اور یہ وضاحت کہ اس چیز کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے
حدیث نمبر: 10135
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَتُؤْذُوا الْأَحْيَاءَ
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مردوں کو برا بھلا نہ کہو، اس طرح تم زندگان کو تکلیف دو گے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10135]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 1982، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18210 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18397»
وضاحت: فوائد: … وفات پا جانے والے لوگ اپنے انجام تک پہنچ جاتے ہیں، اس لیے اگر ان کا تذکرہ ٔ خیر نہ کیا جائے تو کم از کم ان کے معائب و نقائص بیان کرنے سے باز رہنا چاہئے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10135 in Urdu