🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. بابُ مَا جَاءَ فِي خَلْقِ الْمَلَائِكَةِ
فرشتوں کی تخلیق کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10267
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ نَزَلَ إِلَيْهِ مَلَائِكَةٌ مِنَ السَّمَاءِ بِيضُ الْوُجُوهِ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الشَّمْسُ مَعَهُمْ كَفَنٌ مِنْ أَكْفَانِ الْجَنَّةِ وَحَنُوطٌ مِنْ حَنُوطِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَجْلِسُوا مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَيَقُولُ أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ اخْرُجِي إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ قَالَ فَتَخْرُجُ تَسِيلُ كَمَا تَسِيلُ الْقَطْرَةُ مِنْ فِي السِّقَاءِ فَيَأْخُذُهَا فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَأْخُذُوهَا فَيَجْعَلُوهَا فِي ذَلِكَ الْكَفَنِ وَفِي ذَلِكَ الْحَنُوطِ وَيَخْرُجُ مِنْهَا كَأَطْيَبِ نَفْحَةِ مِسْكٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ قَالَ فَيَصْعَدُونَ بِهَا فَلَا يَمُرُّونَ يَعْنِي بِهَا عَلَى مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا مَا هَذَا الرُّوحُ الطَّيِّبُ فَيَقُولُونَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ بِأَحْسَنِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانُوا يُسَمُّونَهُ بِهَا فِي الدُّنْيَا حَتَّى يَنْتَهُوا بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَسْتَفْتِحُونَ لَهُ فَيُفْتَحُ لَهُمْ فَيُشَيِّعُهُ مِنْ كُلِّ سَمَاءٍ مُقَرَّبُوهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي تَلِيهَا حَتَّى يُنْتَهَى بِهَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ اكْتُبُوا كِتَابَ عَبْدِي فِي عِلِّيِّينَ وَأَعِيدُوهُ إِلَى الْأَرْضِ فَإِنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ وَمِنْهَا أُخْرِجُهُمْ تَارَةً أُخْرَى قَالَ فَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ فَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ مَنْ رَبُّكَ فَيَقُولُ رَبِّيَ اللَّهُ فَيَقُولَانِ مَا دِينُكَ فَيَقُولُ دِينِيَ الْإِسْلَامُ الْحَدِيثَ
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک بندہ جب دنیا سے آخرت کی طرف جانے کی حالت میں ہوتا ہے تو اس کی طرف آسمان سے فرشتے نازل ہوتے ہیں، ان کے چہرے سورج کی طرح سفید ہوتے ہیں، ان کے پاس جنت کے کفنوں میں سے ایک کفن اور جنت کی خوشبوؤں میں سے خوشبو ہوتی ہے، وہ تاحد نگاہ اس آدمی کے پاس بیٹھ جاتے ہیں، پھر ملک الموت علیہ السلام آتا ہے اور اس کے سر کے پاس بیٹھ کر کہتا ہے: اے پاکیزہ نفس! نکل اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور خوشنودی کی طرف، پس اس طرح بہہ کر نکلتی ہے، جیسے مشکیزے سے پانی کا قطرہ بہتا ہے، پس وہ اس کو پکڑ لیتا ہے، جب وہ اس کو پکڑتا ہے تو دوسرے فرشتے آنکھ جھپکنے کے بقدر بھی اس کو اس کے ہاتھ میں نہیں رہنے دیتے، وہ خود اس کو پکڑ لیتے ہیں اور اس کفن اور خوشبو میں رکھ دیتے ہیں، اس سے روئے زمین پر پائی جانے والی سب سے بہترین کستوری کے جھونکے کی طرح خوشبو آتی ہے، پس وہ فرشتے اس روح کو لے کر چڑھتے ہیں اور فرشتوں کے جس گروہ کے پاس سے گزرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: یہ پاکیزہ روح کون سی ہے؟ وہ کہتے ہیں: یہ فلاں بن فلاں ہے، وہ اس کو بہترین نام کے ساتھ یاد کرتے ہیں، جس کے ساتھ وہ دنیا میں اس کو موسوم کرتے تھے، یہاں تک کہ وہ اس کو آسمان دنیا تک لے جاتے ہیں اور دروازہ کھولنے کا مطالبہ کرتے ہیں، پس ان کے لیے دروزہ کھول دیا جاتا ہے، ہر آسمان کے مقرب فرشتے اس کو الوداع کرنے کے لیے اگلے آسمان تک اس کے ساتھ چلتے ہیں،یہاں تک کہ اس روح کو ساتویں آسمان تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بندے کی کتاب کو علیین میں لکھ دو اور اس کو زمین کی طرف لوٹا دو، کیونکہ میں نے ان کو زمین سے پیدا کیا، اسی میں ان کو لوٹاؤں گا اور اسی سے دوبارہ ان کو نکالوں گا، پس اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دیجاتی ہے، اس کے پس دو فرشتے آتے ہیں اور اس کو بٹھا کر کہتے ہیں: تیرا ربّ کون ہے؟ وہ کہتا ہے: میرا ربّ اللہ ہے، وہ کہتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ خَلْقِ الْعَالَمِ/حدیث: 10267]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 3212، 4753، وأخرجه مختصرا النسائي: 4/ 78، وابن ماجه: 1549، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18534 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18733»
وضاحت: فوائد: … یہ اللہ تعالیٰ کا نظام ہے، مسلمان کو چاہیے کہ وہ نیک بنے تاکہ موت کے وقت رحمت والے فرشتے اس کی روح کو وصول کریں اور اس کا استقبال کریں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10268
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ قَالَ فَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ قَالَ فَتَصْعَدُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَتَثْبُتُ مَلَائِكَةُ النَّهَارِ قَالَ وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ قَالَ فَتَصْعَدُ مَلَائِكَةُ النَّهَارِ وَتَثْبُتُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ قَالَ فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي قَالَ فَيَقُولُونَ أَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَتَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ قَالَ سُلَيْمَانُ يَعْنِي الْأَعْمَشَ أَحَدَ الرُّوَاةِ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ قَالَ فِيهِ فَاغْفِرْ لَهُمْ يَوْمَ الدِّينِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات اور دن کے فرشتے نمازِ فجر اور نمازِ عصر میں جمع ہوتے ہیں، جب وہ نماز ِ فجر میں جمع ہوتے ہیں تو رات کے فرشتے چڑھ جاتے ہیں اور دن کے فرشتے ٹھہر جاتے ہیں، پھر جب عصر کی نماز میںجمع ہوتے ہیں تو دن کے فرشتے چڑھ جاتے ہیں اور رات کے فرشتے ٹھہر جاتے ہیں، پس ان کا ربّ ان سے پوچھتا ہے: تم نے میرے بندوں کو کیسے چھوڑا؟ وہ کہتے ہیں: جب ہم ان کے پاس گئے تھے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور اب جب ہم ان کو چھوڑ کر آئے تو پھر بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے، پس تو ان کو جزا کے دن بخش دینا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ خَلْقِ الْعَالَمِ/حدیث: 10268]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 555، 7429، 7486، ومسلم: 632، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9151 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9140»
وضاحت: فوائد: … کِرَامًا کَاتِبِیْن یعنی نیکیاں اور برائیاں لکھنے والے فرشتے، فجر اور عصر کی نمازوں میں ان کی ڈیوٹیاں تبدیل ہوتی ہیں، ان دونوں نمازوں میں یہ اکٹھے ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے پاس جا کر بندے کی نماز کی شہادت دیتے ہیں، وہ لوگ کتنے بد بخت ہیں، جن کے بارے میں بارگاہِ عالیہ میں یہ شہادت دی جاتی ہو گی کہ وہ نماز سے غیر حاضر تھے اور فلاں فلاں دنیوی کام میں پڑے ہوئے تھے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10269
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الْجِنِّ وَقَرِينُهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ قَالُوا وَإِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَإِيَّايَ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِحَقٍّ
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی نہیں ہے، مگر اس کے ساتھ جنوں میں سے ایک ساتھی اور فرشتوں میں سے ایک ساتھی مقرر کیا گیا ہے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور آپ کے ساتھ بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ بھی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے میری نصرت کی، پس وہ مجھے صرف حق کا ہی حکم دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ خَلْقِ الْعَالَمِ/حدیث: 10269]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2814، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3648 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3648»
وضاحت: فوائد: … فرشتہ نیکی پر آمادہ کرتا ہے اور شیطان برائی پر ابھارتا ہے۔ اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک خصوصیت کا بیان بھی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10270
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَمِعَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا أَهْبَطَهُ اللَّهُ تَعَالَى إِلَى الْأَرْضِ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ أَيْ رَبِّ {أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ} [سورة البقرة: 30] قَالُوا رَبَّنَا نَحْنُ أَطْوَعُ لَكَ مِنْ بَنِي آدَمَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِلْمَلَائِكَةِ هَلُمُّوا مَلَكَيْنِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ حَتَّى يُهْبَطَ بِهِمَا إِلَى الْأَرْضِ فَنَنْظُرُ كَيْفَ يَعْمَلَانِ قَالُوا رَبَّنَا هَارُوتُ وَمَارُوتُ فَأُهْبِطَا إِلَى الْأَرْضِ وَمُثِّلَتْ لَهُمَا الزُّهْرَةُ بِامْرَأَةٍ مِنْ أَحْسَنِ الْبَشَرِ فَجَاءَتْهُمَا فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا فَقَالَتْ لَا وَاللَّهِ حَتَّى تَكَلَّمَا بِهَذِهِ الْكَلِمَةِ مِنَ الْإِشْرَاكِ فَقَالَا وَاللَّهِ لَا نُشْرِكُ بِاللَّهِ أَبَدًا فَذَهَبَتْ عَنْهُمَا ثُمَّ رَجَعَتْ بِصَبِيٍّ تَحْمِلُهُ فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا قَالَتْ لَا وَاللَّهِ حَتَّى تَقْتُلَا هَذَا الصَّبِيَّ فَقَالَا وَاللَّهِ لَا نَقْتُلُهُ أَبَدًا فَذَهَبَتْ ثُمَّ رَجَعَتْ بِقَدَحِ خَمْرٍ تَحْمِلُهُ فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا قَالَتْ لَا وَاللَّهِ حَتَّى تَشْرَبَا هَذَا الْخَمْرَ فَشَرِبَا فَسَكِرَا فَوَقَعَا عَلَيْهَا وَقَتَلَا الصَّبِيَّ فَلَمَّا أَفَاقَا قَالَتِ الْمَرْأَةُ وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُمَا شَيْئًا مِمَّا أَبَيْتُمَا عَلَيَّ إِلَّا قَدْ فَعَلْتُمَا حِينَ سَكِرْتُمَا فَخُيِّرَا بَيْنَ عَذَابِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَاخْتَارَا عَذَابَ الدُّنْيَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو زمین کی طرف اتارا تو فرشتوں نے کہا: کیا تو اس زمین میں اس کوآباد کرے گا جو اس میں فساد برپا کرے گا اور خون بہائے گا، جبکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تیری تعریف کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے کہا: بیشک میں وہ کچھ جانتا ہوں، جو تم نہیں جانتے۔ فرشتوں نے کہا: اے ہمارے ربّ! ہم بنو آدم کی بہ نسبت تیری زیادہ اطاعت کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا: تم دو فرشتے پیش کرو، تاکہ ان کو زمین پر اتار کر دیکھا جا سکے کہ وہ کیسے عمل کرتے ہیں، انھوں نے کہا: اے ہمارے ربّ! یہ ہاروت اور ماروت ہیں، پس ان دو فرشتوں کو زمین کی طرف اتارا گیا اور انسانیت میں سے ایک انتہائی خوبصورت عورت کی شبیہ ان کے سامنے پیش کی گئی، انھوں نے اس سے اس کے نفس کا مطالبہ کیا، لیکن اس نے کہا: نہیں،اللہ کی قسم! یہ کام اس وقت تک نہیں ہو سکتا، جب تک تم شرکیہ بات نہیں کرو گے، انھوں نے کہا: اللہ کی قسم ہے، ہم کبھی بھی شرک تو نہیں کریں گے، پس وہ چلی گئی اور ایک بچہ لے کر پھر آگئی، انھوں نے پھر اس سے بدکاری کا مطالبہ کیا، اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! جب تک تم اس بچے کو قتل نہیں کرو گے، انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم اس کو قتل تو نہیں کریں گے، پس وہ چلی گئی اور شراب کا ایک پیالہ لے کر دوبارہ آ گئی، ان فرشتوں نے پھر اس سے اس کے نفس کا سوال کیا، لیکن اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! جب تک تم یہ شراب نہیں پیو گے، پس انھوں نے وہ شراب پی لی، جب اس سے ان کو نشہ آیا تو انھوں نے اس خاتون سے زنا بھی کر لیا اور بچے کو بھی قتل کر دیا، پھر جب ان کو افاقہ ہوا، تو اس عورت نے کہا: اللہ کی قسم ہے، جس جس چیز کا تم نے انکار کیا تھا، نشے کی حالت میں تم نے ان کا ارتکاب کر لیا، پھر اس جرم کی سزا میں ان کو دنیا اور آخرت کے عذاب میں اختیار دیا گیا، پس انھوں نے دنیا کا عذاب پسند کر لیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ خَلْقِ الْعَالَمِ/حدیث: 10270]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف ومتنه باطل، موسي بن جبير الانصاري المدني لايعرف حاله، زھير بن محمد الخراساني، قال ابو حاتم: محله الصدق وفي حفظه سوئ، والصحيح ان ھذا الحديث لا تصح نسبته الي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، وانما ھو من قصص كعب الاحبار، أخرجه ابن حبان: 6186، والبزار: 2938، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6178 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6178»
وضاحت: فوائد: … بہرحال اللہ تعالیٰ کی حکمتوں کا ادراک نہیں کیا جا سکتا ہے، کسی مخلوق کے بس میں نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے افعال کے اسرار و رموز کو سمجھ سکے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {لَا یُسْـئَـلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَہُمْ یُسْــَــلُوْنَ۔} … اس سے نہیں پوچھا جاتا اس کے متعلق جو وہ کرے اور ان سے پوچھاجاتا ہے۔ (سورۂ انبیائ: ۲۳)

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10271
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ فُضُلًا عَنْ كُتَّابِ النَّاسِ فَإِذَا وَجَدُوا قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَنَادَوْا هَلُمُّوا إِلَى بُغْيَتِكُمْ فَيَجِيئُونَ فَيَحُفُّونَ بِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ اللَّهُ أَيَّ شَيْءٍ تَرَكْتُمْ عِبَادِي يَصْنَعُونَ فَيَقُولُونَ تَرَكْنَاهُمْ يَحْمَدُونَكَ وَيُمَجِّدُونَكَ وَيَذْكُرُونَكَ فَيَقُولُ هَلْ رَأَوْنِي فَيَقُولُونَ لَا فَيَقُولُ فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْنِي فَيَقُولُونَ لَوْ رَأَوْكَ لَكَانُوا أَشَدَّ تَحْمِيدًا وَتَمْجِيدًا وَذِكْرًا فَيَقُولُ فَأَيَّ شَيْءٍ يَطْلُبُونَ فَيَقُولُونَ يَطْلُبُونَ الْجَنَّةَ فَيَقُولُ وَهَلْ رَأَوْهَا فَيَقُولُونَ لَا فَيَقُولُ فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا فَيَقُولُونَ لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ عَلَيْهَا حِرْصًا وَأَشَدَّ لَهَا طَلَبًا قَالَ فَيَقُولُ وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ يَتَعَوَّذُونَ فَيَقُولُونَ مِنَ النَّارِ فَيَقُولُ وَهَلْ رَأَوْهَا فَيَقُولُونَ لَا قَالَ فَيَقُولُ فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا فَيَقُولُونَ لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ مِنْهَا هَرَبًا وَأَشَدَّ مِنْهَا خَوْفًا قَالَ فَيَقُولُ إِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ قَالَ فَيَقُولُونَ فَإِنَّ فِيهِمْ فُلَانًا الْخَطَّاءَ لَمْ يُرِدْهُمْ إِنَّمَا جَاءَ لِحَاجَةٍ فَيَقُولُ هُمُ الْقَوْمُ لَا يَشْقَى جَلِيسُهُمْ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک لوگوں کے اعمال لکھنے والے فرشتوں کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کے زمین میں چلنے پھرنے والے فرشتے ہوتے ہیں، جب وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہوئے پاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں: آؤ اپنے مقصود کی طرف، پس وہ آ جاتے ہیں اور ان لوگوں کو آسمانِ دنیا تک گھیر لیتے ہیں، پھر جب وہ اللہ تعالیٰ کے پاس جاتے ہیں تو وہ ان سے پوچھتا ہے: تم میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑکر آئے؟ وہ کہتے ہیں: ہم ان کو اس حال میں چھوڑ کر آئے کہ وہ تیری تعریف کر رہے تھے، تیری بزرگی بیان کر رہے تھے اور تیرا ذکر کر رہے تھے، وہ کہتا ہے: کیا انھوں نے مجھے دیکھا ہے؟ وہ کہتے ہیں: جی نہیں، وہ کہتا ہے: اگر وہ مجھے دیکھ لیں تو کیسا ہو گا؟ وہ کہتے ہیں: اگر وہ تجھے دیکھ لیں تو کثرت سے تیری تعریف اور بزرگی بیان کریں گے اور زیادہ ذکر کریں گے، وہ کہتا ہے: اچھا یہ بتاؤ کہ وہ کس چیز کا سوال کرتے تھے؟ وہ کہتے ہیں: جی وہ جنت کا سوال کرتے تھے، وہ کہتا ہے: کیا انھوں نے جنت کو دیکھا ہے؟ وہ کہتے ہیں: جی نہیں دیکھا، وہ کہتا ہے: اگر وہ دیکھ لیں تو؟ وہ کہتے ہیں: اگر وہ دیکھ لیں تو ان کی حرص بڑھ جائے گی اور وہ اس کازیادہ مطالبہ کریں گے، وہ کہتا ہے: وہ کس چیز سے پناہ مانگتے تھے؟ وہ کہتے ہیں: جی آگ سے، وہ کہتا ہے: کیا انھوں نے آگ کو دیکھا ہے؟ وہ کہتے ہیں: جی نہیں، وہ کہتا ہے: اگر وہ اس کودیکھ لیں تو؟ وہ کہتے ہیں: اگر وہ آگ کودیکھ لیں تو وہ اس سے دور بھاگنے میں اور اس سے ڈرنے میںزیادہ ہو جائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ کہتا ہے: بیشک میں تم کوگواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کو بخش دیا ہے، وہ کہتے ہیں: ان میں فلاں آدمی تو خطاکار تھا، اس کاارادہ ان کے ساتھ بیٹھنا نہیں تھا، وہ تو اپنے کسی کام کی غرض سے آیا تھا، وہ کہتا ہے: یہ (ایک جگہ پر بیٹھنے والے) وہ لوگ ہیں، ان کے ساتھ بیٹھنے والا بدبخت نہیں ہو سکتا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ خَلْقِ الْعَالَمِ/حدیث: 10271]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الترمذي: 3600، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7424 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7418»
وضاحت: فوائد: … یہ رحمت کے فرشتے زمین میں گشت کر کے ذکر والی مجالس کو تلاش کرتے ہیں،یہ فرشتے ان کے علاوہ ہیں، جو نیکیاں اور برائیاں لکھتے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں