🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابُ ذِكْرُ نَبِيِّ اللَّهِ إِدْرِيسَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَقَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: «وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا»
اللہ کے نبی ادریس علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا} کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10321
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَدِيثِ الْإِسْرَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ مَنْ أَنْتَ قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ الْبَابُ فَإِذَا أَنَا بِإِدْرِيسَ فَرَحَّبَ بِي وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا} [سورة مريم: 57]
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اسراء والی حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر ہم کو چوتھے آسمان کی طرف چڑھایا گیا، جب جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، تو ان سے پوچھا گیا: تم کون ہو؟ انھوں نے کہا: میں جبریل ہوں، پھر پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انھوں نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، پس کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ان کو بلایا گیا ہے، سو دروازہ کھول دیا گیا، پس اچانک میں نے ادریس علیہ السلام کو دیکھا، انھوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے حق میں خیر و بھلائی کی دعا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: {وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا} اور ہم نے اس کو بلند و بالا مقام تک بلند کر دیا۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10321]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا مسلم: 162، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12505 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12533»
وضاحت: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اسراء والی حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر ہم کو چوتھے آسمان کی طرف چڑھایا گیا، جب جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، تو ان سے پوچھا گیا: تم کون ہو؟ انھوں نے کہا: میں جبریل ہوں، پھر پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انھوں نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، پس کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ان کو بلایا گیا ہے، سو دروازہ کھول دیا گیا، پس اچانک میں نے ادریس علیہ السلام کو دیکھا، انھوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے حق میں خیر و بھلائی کی دعا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: {وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا} اور ہم نے اس کو بلند و بالا مقام تک بلند کر دیا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں