🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. بَابُ ذَكْرِ أَوْلادِهِ وَ وَصِيَّتِهِ لَهُمْ عِنْدَ وَفَاتِهِ
نوح علیہ السلام کی اولاد اور وفات کے وقت ان کی اپنی اولاد کو کی گئی وصیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10325
حَدَّثَنَا رَوْحٌ مِنْ كِتَابِهِ ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَ الْحَسَنُ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَامُ أَبُو الْعَرَبِ وَيَافِثُ أَبُو الرُّومِ وَحَامُ أَبُو الْحَبَشِ وَقَالَ رَوْحٌ بِبَغْدَادَ مِنْ حِفْظِهِ وَلَدُ نُوحٍ ثَلَاثَةٌ سَامُ وَحَامُ وَيَافِثُ
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عربوں کے باپ سام، رومیوں کے باپ یافث اور حبشیوں کے باپ حام ہیں۔ روح راوی نے بغداد میںاپنے حفظ سے بیان کرتے ہوئے کہا: نوح رضی اللہ عنہ کے تین بیٹے تھے: سام، حام اور یافث۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10325]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه الترمذي: 3231، 3931، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20114 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20375»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10326
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ طَيَالِسَةٍ مَكْفُوفَةٌ بِدِيبَاجٍ أَوْ مَزْرُورَةٌ بِدِيبَاجٍ فَقَالَ إِنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا يُرِيدُ أَنْ يَرْفَعَ كُلَّ رَاعٍ ابْنِ رَاعٍ وَيَضَعَ كُلَّ فَارِسِ ابْنِ فَارِسٍ فَقَامَ الن بدل النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا فَأَخَذَ بِمَجَامِعِ جُبَّتِهِ فَاجْتَذَبَهُ وَقَالَ لَا أَرَى عَلَيْكَ ثِيَابَ مَنْ لَا يَعْقِلُ ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ فَقَالَ إِنَّ نُوحًا عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ دَعَا ابْنَيْهِ فَقَالَ إِنِّي قَاصِرٌ عَلَيْكُمَا الْوَصِيَّةَ آمُرُكُمَا بِاثْنَيْنِ وَأَنْهَاكُمَا عَنْ اثْنَتَيْنِ أَنْهَاكُمَا عَنِ الشِّرْكِ وَالْكِبْرِ وَآمُرُكُمَا بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَإِنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا فِيهِمَا لَوْ وُضِعَتْ فِي كِفَّةِ الْخَيْرَاتِ وَوُضِعَتْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِي الْكِفَّةِ الْأُخْرَى كَانَتْ أَرْجَحَ وَلَوْ أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا حَلْقَةً فَوُضِعَتْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَلَيْهِمَا لَفَصَمَتْهُمَا أَوْ لَقَصَمَتْهُمَا وَآمُرُكُمَا بِسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ فَإِنَّهَا صَلَاةُ كُلِّ شَيْءٍ وَبِهَا يُرْزَقُ كُلُّ شَيْءٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک بدّو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، اس نے سبز شال کا جبہ پہنا ہوا تھا، اس کو ریشم کے ساتھ بند کیا گیا تھا، اس نے کہا: تمہارا یہ ساتھی چاہتا ہے کہ چرواہوں کو بلند کر دیا جائے اور گھڑسواروں کو پست کر دیا جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے کی حالت میں کھڑے ہوئے، اس کو سینے والے مقام سے پکڑ کر جھنجھوڑا اور فرمایا: میں تجھ پر بیوقوفوں کا لباس نہ دیکھنے پاؤں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آ کر بیٹھ گئے اور فرمایا: بیشک جب نوح علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب ہوا تو انھوں نے اپنے بیٹوں کو بلایا اور کہا: میں تم کو وصیت کرنے لگا ہوں، میں تم کو دو چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور دو سے ہی منع کرتا ہوں، میں تم کو شرک اور تکبر سے منع کرتا ہوں اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا حکم دیتا ہوں، اگر آسمانوں، زمینوں اور ان کے درمیان والی چیزوں کو نیکیوں والے پلڑے میں اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کو دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو دوسرا پلڑا بھاری ہو جائے گا، اور اگر آسمان اور زمین ایک کڑا ہوتے اور پھر ان پر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کو رکھ دیا جاتا تو یہ کلمہ ان کو توڑ دیتا اور میں تم کو سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہِ کہنے کا حکم دیتا ہوں، کیونکہ یہ ہر چیز کی نماز ہے اور اسی کی وجہ سے ہر چیز کو رزق دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10326]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البزار: 3069، والبخاري في الادب المفرد: 548، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7101 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7101»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے والوں کی اکثریت فقیر اور کمزور لوگوں کی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت کرنے والوں کی اکثریت کا تعلق معاشرے کے اشراف طبقہ سے تھا، اس بدّو نے اسی چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بات کی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں