🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. باب مُرُورِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِوَادِي الْحِجْرِ مِنْ أَرْضِ ثَمُودَ عَامَ تَبُوكَ
غزوۂ تبوک والے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حجر وادی سے گزرنا، جس کا تعلق ثمود کی زمین سے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10333
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ عَامَ تَبُوكَ نَزَلَ بِهِمُ الْحِجْرَ عِنْدَ بُيُوتِ ثَمُودَ فَاسْتَقَى النَّاسُ مِنَ الْآبَارِ الَّتِي كَانَ يَشْرَبُ مِنْهَا ثَمُودُ فَعَجَنُوا مِنْهَا وَنَصَبُوا الْقُدُورَ بِاللَّحْمِ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَهْرَاقُوا الْقُدُورَ وَعَلَقُوا الْعَجِينَ الْإِبِلَ ثُمَّ ارْتَحَلَ بِهِمْ حَتَّى نَزَلَ بِهِمْ عَلَى الْبِئْرِ الَّتِي كَانَتْ تَشْرَبُ مِنْهَا النَّاقَةُ وَنَهَاهُمْ أَنْ يَدْخُلُوا عَلَى الْقَوْمِ الَّذِينَ عُذِّبُوا قَالَ إِنِّي أَخْشَى أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تبوک والے سال حجرمقام پر صحابہ سمیت اترے، یہ مقام ثمود کے گھروں کے پاس تھا، لوگوں نے ان کنووں سے پانی لیا، جن سے ثمودی لوگ پانی پیتے تھے، پس انھوں نے اس پانی سے آٹا گوندھا اور ہنڈیوں میں گوشت پکانا شروع کر دیا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا، پس انھوں نے ہنڈیاں انڈیل دیں اور آٹا اونٹوں کو کھلا دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں سے کوچ کیا،یہاں تک کہ اس کنویں کے پاس پڑاؤ ڈالا، جس سے اونٹنی پانی پیتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو عذاب دیئے جانے والی قوم کے علاقے میں داخل ہونے سے منع کیا اور فرمایا: میں ڈرتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کو اس عذاب میں مبتلا کر دیا جائے، جس میں ان لوگوں کو مبتلا کیا گیا تھا، پس ان پر داخل نہ ہوا کرو۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10333]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3379، ومسلم: 981، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5984 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5984»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10334
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا مَرَّ بِالْحِجْرِ قَالَ لَا تَدْخُلُوا أَمَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ أَنْ يُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَهُمْ وَتَقَنَّعَ بِرِدَائِهِ وَهُوَ عَلَى الرَّحْلِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب حجر مقام سے گزرے تو فرمایا: ظلم کرنے والے لوگوں کے علاقے میں داخل نہ ہو، مگر اس حالت میں کہ تم رو رہے ہو، تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کو بھی اس عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چادر اوڑھ لی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر سوار تھے۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم رونے کی حالت میں نہ ہو تو ان پر داخل نہ ہوا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی اسی عذاب میں مبتلا ہو جاؤ۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10334]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3380، ومسلم: 2980، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5342 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5342»
وضاحت: فوائد: … جو سابقہ قوم اللہ تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا ہوئی، اس کے مقام کے بارے میں یہ احکام ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10335
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ تَسَارَعَ النَّاسُ إِلَى أَهْلِ الْحِجْرِ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَادَى فِي النَّاسِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ قَالَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُمْسِكٌ بَعِيرَهُ وَهُوَ يَقُولُ مَا تَدْخُلُونَ عَلَى قَوْمٍ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ فَنَادَاهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ نَعْجَبُ مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَفَلَا أُنْذِرُكُمْ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ رَجُلٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كَانَ قَبْلَكُمْ وَمَا كَانَ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ فَاسْتَقِيمُوا وَسَدِّدُوا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَعْبَأُ بِعَذَابِكُمْ شَيْئًا وَسَيَأْتِي قَوْمٌ لَا يَدْفَعُونَ عَنْ أَنْفُسِهِمْ بِشَيْءٍ
۔ سیدنا ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوۂ تبوک کے سفر کے دوران لوگوں نے (ثمود کی منازل) حِجر کی طرف جلدی کی اور وہ ان میں داخل ہونے لگ گئے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں میں یہ اعلان کیا: اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ، وہ کہتے ہیں: جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اونٹ کو روکا ہوا تھا اور فرما رہے تھے: تم ایسی قوم پر کیوں داخل ہوتے ہو، جس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوا ہے؟ ایک بندے نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں ان سے تعجب ہوتا ہے، اس لیے ان کے پاس جاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نے تم کو اس سے زیادہ تعجب والے معاملہ سے نہیں ڈرایا؟ تم میں ہی ایک آدمی ہے، وہ تم کو ان امور کی بھی خبر دیتا ہے، جو تم سے پہلے گزر گئے ہیں اور ان امور کی بھی، جو تم سے بعد میں ہونے والے ہیں، پس تم سیدھے ہو جاؤ اور راہِ صواب پر چلتے رہو، پس بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے عذاب کی پرواہ نہیں کریں گے اور عنقریب ایسے لوگ آئیں گے، جو کسی چیز کو اپنے نفسوں سے دفع نہیں کریں گے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10335]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، محمد بن ابي كبشة لين الحديث اذا انفرد، ولم يُتابع علي ھذا الحديث، واسماعيل بن اوسط مختلف فيه، أخرجه ابن ابي شيبة: 14/ 546،و الطبراني في الكبير: 22/852، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18029 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18192»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں