🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

28. باب كَرَاهَةِ قِلاَدَةِ الْوَتَرِ فِي رَقَبَةِ الْبَعِيرِ:
باب: تانت کا ہار اونٹ کے گلے میں ڈالنے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2115 ترقیم شاملہ: -- 5549
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، أَنَّ أَبَا بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، قَالَ: فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ: حَسِبْتُ أَنَّهُ، قَالَ: " وَالنَّاسُ فِي مَبِيتِهِمْ لَا يَبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيرٍ قِلَادَةٌ مِنْ وَتَرٍ أَوْ قِلَادَةٌ إِلَّا قُطِعَتْ "، قَالَ مَالِكٌ: أُرَى ذَلِكَ مِنَ الْعَيْنِ.
امام مالک نے عبداللہ بن ابی بکر سے، انہوں نے عباد بن تمیم سے روایت کی کہ حضرت ابوبشیر انصاری رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قاصد کو بھیجا۔ عبداللہ بن ابی بکر نے کہا: میرا گمان ہے کہ انہوں نے کہا: لوگ اپنی اپنی سونے کی جگہ میں پہنچ چکے تھے۔ (اور حکم دیا): ”کسی اونٹ کی گردن میں تانت (کمان کے دونوں سرے جوڑنے والی مضبوط باریک چمڑے کی ڈوری) کا ہار یا کوئی بھی ہار نہ چھوڑا جائے مگر اسے کاٹ دیا جائے۔“ امام مالک نے فرمایا: ”میرا خیال ہے کہ یہ (ہار) نظر بد سے بچانے کے لیے (گلے میں ڈالے جاتے) تھے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5549]
حضرت ابو بشیر انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے کسی سفر میں شریک تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایلچی روانہ کیا، عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میرے خیال میں انہوں نے کہا، جبکہ لوگ اپنی آرام گاہ میں تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی اونٹ کی گردن میں تانت کا ہار یا کوئی ہار باقی نہ رہے، مگر اسے کاٹ دیا جائے۔“ امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں، میرا خیال ہے، لوگ اس کو بدنظری کا علاج سمجھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5549]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2115
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں