🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. باب النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الْحَيَوَانِ فِي وَجْهِهِ وَوَسْمِهِ فِيهِ:
باب: جانور کے منہ پر مارنے اور داغ لگانے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2116 ترقیم شاملہ: -- 5550
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّرْبِ فِي الْوَجْهِ، وَعَنِ الْوَسْمِ فِي الْوَجْهِ ".
علی بن مسہر نے ابن جریج سے، انہوں نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ (جانور کو) منہ پر مارا جائے یا منہ پر نشانی ثبت کی جائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5550]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر مارنے اور چہرے کو داغنے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5550]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2116
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2116 ترقیم شاملہ: -- 5551
وحدثني هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ كِلَاهُمَا، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
حجاج بن محمد اور محمد بن بکر دونوں نے ابن جریج سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا: سابقہ حدیث کے مانند۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5551]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے دو اور اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5551]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2116
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2117 ترقیم شاملہ: -- 5552
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَيْهِ حِمَارٌ قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ الَّذِي وَسَمَهُ ".
معقل نے ابوہریرہ سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے ایک گدھا گزرا جس کے منہ پر داغا گیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اسے (منہ پر) داغا ہے اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5552]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک گدھا گزرا، اس کے چہرے کو داغا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اسے داغا ہے، اس پر اللہ لعنت بھیجے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5552]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2117
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2118 ترقیم شاملہ: -- 5553
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ نَاعِمًا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: وَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا مَوْسُومَ الْوَجْهِ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ، قَالَ: " فَوَاللَّهِ لَا أَسِمُهُ إِلَّا فِي أَقْصَى شَيْءٍ مِنَ الْوَجْهِ "، فَأَمَرَ بِحِمَارٍ لَهُ فَكُوِيَ فِي جَاعِرَتَيْهِ فَهُوَ أَوَّلُ مَنْ كَوَى الْجَاعِرَتَيْنِ.
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ناعم ابوعبداللہ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ فرما رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گدھا دیکھا جس کے چہرے کو نشانی لگانے کے لیے داغا گیا تھا آپ نے اس کو بہت برا خیال کیا، انہوں نے (حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے کہا: اللہ کی قسم! میں جو حصہ چہرے سے سب سے زیادہ دور ہو اس کے علاوہ کسی جگہ نشانی ثبت نہیں کرتا۔ پھر انہوں نے اپنے گدھے کے بارے میں حکم دیا تو اس کی سرین (کے وہ حصے جہاں دم ہلاتے وقت لگتی ہے) پر نشانی ثبت کی گئی یہ پہلے آدمی ہیں جنہوں نے اس جگہ داغنے کا آغاز کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5553]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گدھا دیکھا جس کا چہرہ داغا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو برا فعل قرار دیا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: پس اللہ کی قسم! میں اسے داغ نہیں دوں گا مگر چہرے سے انتہائی دور جگہ پر، چنانچہ انہوں نے اپنے گدھے کے بارے میں حکم دیا تو اس کی سرین کو داغا گیا اور وہ سب سے پہلے فرد ہیں جنہوں نے سرین کو داغا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5553]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2118
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں