الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. بَابُ فِي ذِكْرِ مَنْ رَآهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ الْإِسْرَاءِ وَالْمِعْرَاجِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ وَالنَّبِيِّينَ وَآخَرِينَ مِنَ الكُفَّارِ وَالْمُدْيَبِينَ وَصِفَةِ بَعْضِهِمْ
ان فرشتوں، نبیوں، کافروں، گنہگاروں اور بعض کی صفات کا بیان، جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسراء و معراج والی رات کو دیکھا
حدیث نمبر: 10572
عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنِي حَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى) ) وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ قَالَ وَذَكَرَ أَنَّهُ أُسْرِيَ بِهِ وَأَنَّهُ رَأَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ آدَمَ طُوَّالًا كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ وَذَكَرَ أَنَّهُ رَأَى عِيسَى مَرْبُوعًا إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ جَعْدًا وَذَكَرَ أَنَّهُ رَأَى الدَّجَّالَ وَمَالِكًا خَازِنَ النَّارِ) )
۔ ابو عالیہ کہتے ہیں: تمہارے نبی کے چچا زاد (سیدنا عبد اللہ بن عباس) نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کسی بندے کے لیےیہ جائز نہیں کہ وہ یہ کہے کہ وہ یونس بن متی سے بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ان کے باپ کی طرف منسوب کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز کا ذکر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسراء کرایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے موسی علیہ السلام کو دیکھا، وہ گندمی رنگ کے دراز قد آدمی تھے، ایسے لگ رہا تھے، جیسے وہ شنوء ہ قبیلے کے فرد تھے، پھر عیسی علیہ السلام کا ذکر کیا کہ وہ معتدل قد کے تھے، ان کا رنگ سرخی سفیدی مائل تھا، ان کا جسم بھرا ہوا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دجال اور جہنم کے داروغے مالک کو دیکھا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10572]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3395، 3396، ومسلم: 165، 2377، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3179 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3179»
وضاحت: فوائد: … مشابہت والییہ روایات پہلے گزر چکی ہے، اطراف الحدیث سے مدد لے کر تلاش کر لیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10573
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ رَجُلًا آدَمَ طُوَّالًا جَعْدًا كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ وَرَأَيْتُ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ مَرْبُوعَ الْخَلْقِ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ سَبْطَ الرَّأْسِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے اسراء کرایا گیا، میں نے موسی بن عمران علیہ السلام کو دیکھا، وہ گندمی رنگ کے دراز قد آدمی تھے، ان کے بال ہلکے گھنگریالے تھے، ایسے لگ رہا تھے، جیسے وہ شنوء ہ قبیلے کے فرد تھے، اورمیں نے عیسی بن مریم علیہ السلام کو دیکھا، وہ معتدل قد کے تھے، ان کا رنگ سرخی سفیدی مائل تھا، ان کے بال سیدھے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10573]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3239، ومسلم: 165، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2197 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2197»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10574
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (رَأَيْتُ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ وَمُوسَى وَإِبْرَاهِيمَ فَأَمَّا عِيسَى فَأَحْمَرُ جَعْدٌ عَرِيضُ الصَّدْرِ وَأَمَّا مُوسَى فَإِنَّهُ جَسِيمٌ) ) قَالُوا لَهُ فَإِبْرَاهِيمُ قَالَ ( (انْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ) ) يَعْنِي نَفْسَهُ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں عیسی علیہ السلام، موسی علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، عیسی علیہ السلام کا رنگ سرخ اور بال گھنگریالے تھے اور وہ چوڑے سینے والے تھے، موسی علیہ السلام دراز قد تھے۔ لوگوں نے کہا: اور ابراہیم علیہ السلام؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ساتھی کو دیکھ لو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد آپ کا اپنا نفس تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10574]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3438، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2697 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2697»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10575
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي وَصَعَدْتُ قَدَمَيْ (وَفِي نُسْخَةٍ وَضَعْتُ قَدَمَيْ) حَيْثُ تُوضَعُ أَقْدَامُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَعُرِضَ عَلَيَّ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ قَالَ فَإِذَا أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ وَعُرِضَ عَلَيَّ مُوسَى فَإِذَا رَجُلٌ ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ وَعُرِضَ عَلَيَّ إِبْرَاهِيمُ قَالَ فَإِذَا هُوَ أَقْرَبُ النَّاسِ شَبَهًا بِصَاحِبِكُمْ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے اسراء کرایا گیا، میں نے بیت المقدس میں اپنا قدم وہاں رکھا، جہاں انبیاء کے قدم رکھے جاتے تھے، پس مجھ پر عیسی علیہ السلام کو پیش کیا گیا، وہ عروہ بن مسعود کے زیادہ مشابہ لگتے تھے، پھر مجھ پر موسی علیہ السلام کو پیش کیا گیا، وہ معتدل وجود کے آدمی تھے اور وہ شنوء ۃ قبیلے کے لوگوں کی طرح لگتے تھے، بعد ازاں ابراہیم علیہ السلام کو مجھ پر پیش کیا گیا، وہ لوگوں میں تمہارے اپنے ساتھی (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10575]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه مسلم: 172، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10830 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10842»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10576
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَمَّا أُسْرِيَ بِي مَرَرْتُ عَلَى مُوسَى وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ) )
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے اسراء کرائی گئی، اس رات کو میں موسی علیہ السلام کے پاس سے گزرا اور میں نے ان کو دیکھا کہ وہ کھڑے ہو کر اپنی قبر میں نماز ادا کر رہے تھے، یہ قبر سرخ ٹیلے کے پاس تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10576]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2375، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12504 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12532»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِمبارکہ میں موسی علیہ السلام کی عالم برزخ کی ایک کیفیت کا بیان ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10577
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ( (عُرِضَ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ فَإِذَا مُوسَى رَجُلٌ ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ فَرَأَيْتُ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا صَاحِبُكُمْ يَعْنِي نَفْسَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا دِحْيَةُ) )
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر انبیاء پیش کیے گئے، موسی علیہ السلام معتدل وجود کے آدمی تھے، وہ شنوء ۃ قبیلے کے لوگوں کی طرح لگتے تھے، میں نے عیسی علیہ السلام کو دیکھا، وہ عروہ بن مسعود کے زیادہ مشابہ لگتے تھے، میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، وہ تمہارے اپنے ساتھی سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ذات مراد لے رہے تھے، اور میں نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا، وہ دحیہ کے مشابہ لگتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10577]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 167، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14589)، أخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14643»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10578
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي لَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَنَظَرْتُ فَوْقَ (قَالَ عُثْمَانُ فَوْقِي) فَإِذَا أَنَا بِرَعْدٍ وَبَرْقٍ وَصَوَاعِقَ قَالَ فَأَتَيْتُ عَلَى قَوْمٍ بُطُونُهُمْ كَالْبُيُوتِ فِيهَا الْحَيَّاتُ تُرَى مِنْ خَارِجِ بُطُونِهِمْ قُلْتُ مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَؤُلَاءِ أَكَلَةُ الرِّبَا فَلَمَّا نَزَلْتُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا نَظَرْتُ أَسْفَلَ فَإِذَا أَنَا بِرَهْجٍ وَدُخَانٍ وَأَصْوَاتٍ فَقُلْتُ مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذِهِ الشَّيَاطِينُ يَحُومُونَ عَلَى أَعْيُنِ بَنِي آدَمَ أَنْ لَا يَتَفَكَّرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَوْ لَا ذَلِكَ لَرَأَوُا الْعَجَائِبَ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسراء والی رات کو جب ہم ساتویں آسمان تک پہنچے تو میں نے اپنے اوپر والی سمت میں دیکھا، وہاں مجھے گرج، کڑک، چمک، کڑک دار بجلی نظر آئی، پھر میں کچھ لوگوں کے پاس آیا، ان کے پیٹ گھروں کی مانند بڑے بڑے تھے، ان میں ایسے سانپ تھے، جو پیٹوں کے باہر سے نظر آ رہے تھے، میں نے کہا: اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: یہ سود خور ہیں، پھر جب میں آسمان دنیا کی طرف اترا تو دیکھا کہ میری نچلی طرف غبار، دھواں اور آوازیں تھیں، میں نے کہا: اے جبریل! یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہ شیطان ہیں، جو بنو آدم کی آنکھوں کے سامنے منڈلا رہے ہیں، تاکہ وہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہیوں میں غور و فکر نہ کر سکیں، اگر یہ نہ ہوتے تو وہ عجیب عجیب چیزیں دیکھتے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10578]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه ابن ماجه: 2273، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8640 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8625»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 10579
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى قَوْمٍ تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ نَارٍ قَالَ قُلْتُ مَنْ هَؤُلَاءِ قَالُوا خُطَبَاءُ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا كَانُوا يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلَا يَعْقِلُونَ) )
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مرو ی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسراء والی رات کو میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا کہ جن کے ہونٹوں کو آگ کی قینچیوں سے کاٹا جا رہا تھا، میں نے کہا: یہ کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: یہ دنیا والوں کے خطیب ہیں، جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہیں اور اپنے نفسوں کو بھول جاتے ہیں، جبکہ وہ اللہ کی کتاب کی تلاوت بھی کرتے ہیں، کیا پس یہ لوگ عقل نہیں رکھتے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10579]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابويعلي: 4069، والبيھقي في الشعب: 4965، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12211 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12235»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10580
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَمَّا عَرَجَ بِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ مَرَرْتُ بِقَوْمٍ لَهُمْ أَظْفَارٌ مِنْ نُحَاسٍ يَخْمُشُونَ وُجُوهَهُمْ وَصُدُورَهُمْ فَقُلْتُ مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ وَيَقَعُونَ فِي أَعْرَاضِهِمْ) )
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب میرے ربّ نے مجھے معراج کرائی تو میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا کہ ان کے تانبے کے ناخن تھے اور وہ ان کے ذریعے اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے، میں نے کہا: اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ اس نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کاگوشت کھاتے تھے اور ان کی عزتوں کو متأثر کرتے تھے (یعنی چغلی اور غیبت کرتے ہیں)۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10580]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 4878، 4879، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13340 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13373»
وضاحت: فوائد: … آخری دو احادیث میں متعلقہ لوگوں کی سخت مذمت بیان کی گئی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح