🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

51. بَابُ قَوْلِهِ صلى الله عليه وسلم لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ يَعْنِي فَتَحَ مَكَّةَ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10636
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10636]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: ص 1488، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3335 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3335»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10637
عَنْ يَحْيَى بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِابْنِ أَخٍ لَهُ يُبَايِعُهُ عَلَى الْهِجْرَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا بَلْ يُبَايِعُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَإِنَّهُ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَيَكُونُ مِنَ التَّابِعِينَ بِإِحْسَانٍ
۔ سیدنا مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اپنا بھتیجا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے ہجرت پر بیعت لیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اب اسلام پر بیعت ہو گی، فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے، اب یہ آدمی احسان کے ساتھ پیروی کرنے والوں میں سے ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10637]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4307، 4308، ومسلم: 1863، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15847 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15941»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10638
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمْتُ بِأَخِي مَعْبَدٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْفَتْحِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُكَ بِأَخِي لِتُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ فَقَالَ ذَهَبَ أَهْلُ الْهِجْرَةِ بِمَا فِيهَا وَفِي لَفْظٍ مَضَتِ الْهِجْرَةُ لِأَهْلِهَا فَقُلْتُ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُبَايِعُهُ قَالَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْإِيمَانِ وَالْجِهَادِ قَالَ فَلَقِيتُ مَعْبَدًا بَعْدُ وَكَانَ هُوَ أَكْبَرَهُمَا فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ صَدَقَ مُجَاشِعٌ
۔ (دوسری سند) سیدنا مجاشع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں فتح مکہ کے بعد اپنے بھائی معبد کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے بھائی کو لے کر آپ کے پاس آیا ہوں، تاکہ آپ اس سے ہجرت پر بیعت لیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہجرت والے تو ہجرت کا ثواب لے کر آگے نکل گئے ہیں، ایک روایت میں ہے: ہجرت اپنے اہل کے ساتھ سبقت لے جا چکی ہے۔ میں نے کہا: تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس چیز پر اس کی بیعت لیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام، ایمان اور جہاد پر۔ یحییٰ بن اسحاق راوی کہتا ہے: میں بعد میں سیدنا معبد رضی اللہ عنہ کوملا، جبکہ وہ سیدنا مجاشع رضی اللہ عنہ کا بڑا بھائی تھا اور اس سے یہی سوال کیا، انھوں نے کہا: مجاشع نے سچ کہا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10638]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15945»
وضاحت: فوائد: … امام نووی نے کہا: اس حدیث کا معنییہ ہے کہ مہاجرین کے لیے امتیازی صفت کا سبب بننے والی وہ ہجرت ہے، جو فتح مکہ سے پہلے تھی۔
وہ ہجرت، تعریف اور فضیلت والی ہجرت تھی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10639
عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي أُمَيَّةُ يَوْمَ الْفَتْحِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْ أَبِي عَلَى الْهِجْرَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَلْ أُبَايِعُهُ عَلَى الْجِهَادِ فَقَدِ انْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ
۔ سیدنایعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں فتح مکہ والے دن اپنے باپ امیہ کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ میرے باپ سے ہجرت کی بیعت لیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب میں جہاد پر بیعت لوں گا، ہجرت تو منقطع ہو چکی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10639]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه النسائي: 7/ 145، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17958 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18122»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10640
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ قِيلَ لَهُ هَلَكَ مَنْ لَمْ يُهَاجِرْ قَالَ فَقُلْتُ لَا أَصِلُ إِلَى أَهْلِي حَتَّى آتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَكِبْتُ رَاحِلَتِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَعَمُوا أَنَّهُ هَلَكَ مَنْ لَمْ يُهَاجِرْ قَالَ كَلَّا أَبَا وَهْبٍ فَارْجِعْ إِلَى أَبَاطِحِ مَكَّةَ
۔ سیدنا صفوان بن امیہ بن خلف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے ا س سے کہا: ہجرت نہ کرنے والے ہلاک ہو گئے ہیں، میں (صفوان) نے کہا: جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نہ جا لوں، اس وقت اپنے اہل والوں کے پاس نہیں جاؤں گا، پس میں اپنی سواری پر سوار ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ہجرت نہ کرنے والے ہلاک ہو گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر گز ایسا نہیں ہے، اے ابو وہب، پس تو لوٹ جا مکہ کی وادیوں کی طرف۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10640]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27637 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28189»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10641
عَنِ ابْنِ طَاوُوسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يَقُولُونَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ هَاجَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ فَإِذَا اسْتَنْفَرْتُمْ فَانْفِرُوا) )
۔ سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگ کہتے ہیں کہ صرف وہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے، جنھوں نے ہجرت کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے، لیکن جہاد اور نیت باقی ہیں اور جب تم سے نکلنے کا مطالبہ کیاجائے تو تم نکل پڑو۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10641]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواھده، أخرجه النسائي مختصرا: 7/ 145، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27640 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28192»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10642
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ لَيْسَ لَنَا أَجْرٌ بِمَكَّةَ قَالَ ( (لَتَأْتِيَنَّكُمْ أُجُورُكُمْ وَلَوْ كُنْتُمْ فِي جُحْرِ ثَعْلَبٍ) ) قَالَ فَأَصْغَى إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرَأْسِهِ فَقَالَ ( (إِنَّ فِي أَصْحَابِي مُنَافِقِينَ) )
۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں یہ خیال کر رہے ہیں کہ ہمارے لیے مکہ میں اجر نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اجر ضرور ضرور تمہارے پاس پہنچ جائیں گے، اگرچہ تم لومڑی کے بل میں ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک میری طرف جھکایا اور فرمایا: میرے ساتھیوں میں منافق بھی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10642]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن جبير بن مطعم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16764 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16886»
وضاحت: فوائد: … مسلمان کو اس کے نیک عمل کا صلہ دیا جائے گا، اگر اس میں دار الکفر سے ہجرت کرنے کی طاقت نہ ہوئی تو وہ اپنے اعمالِ صالحہ کے کامل اجر کا مستحق ہو گا اور جو استطاعت کے باوجود ہجرت نہیں کرے گا، یہ اس کی نافرمانی ہو گی، ممکن ہے کہ وہ اس ایک نافرمانی کی وجہ سے کئی گناہوں میں مبتلا ہو جائے، بہرحال اس کو اس کے نیک اعمال کا اجر و ثواب دیا جائے گا۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10643
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْهِجْرَةِ فَقَالَ ( (وَيْحَكَ إِنَّ شَأْنَهَا شَدِيدٌ فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ) ) قَالَ نَعَمْ قَالَ ( (هَلْ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا) ) قَالَ نَعَمْ قَالَ ( (هَلْ تَمْنَحُ مِنْهَا) ) قَالَ نَعَمْ قَالَ ( (هَلْ تَحْلِبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا) ) قَالَ نَعَمْ قَالَ ( (فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتْرُكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا) )
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور ہجرت کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ہلاک ہو جائے، اس کا معاملہ تو بڑا سخت ہے، اچھا کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو ان کی زکوۃ دیتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اس میں سے عطیے بھی دیتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو گھاٹ والے دن ان کا دودھ دوہ کر لوگوں کو دیتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر بیشک سمندروں کے اس پار عمل کرتا رہے، اللہ تعالیٰ تیرے عمل سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10643]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1452، 3923، 6165، ومسلم: 1865، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11105 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11121»
وضاحت: فوائد: … اس موقع پر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ یہ آدمی ہجرت کے حقوق ادا نہیں کر سکے گا، تو اس کو اس معاملے میں نہ پڑنے کی اجازت دے دی،یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکمت و دانائی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کی صلاحیت کو مد نظر رکھتے تھے، تمام علمائے کرام اور مبلغین اسلام کو مصلحت و حکمت کا خیال رکھنا چاہیے۔ لیکن عوام الناس سے گزارش ہو گی کہ وہ صرف رخصت والی نصوص کو سامنے رکھ کر سستی اور کاہلی کا مظاہرہ نہ کریں، عزیمت والی نصوص کا بھی خیال رکھیں، پھر اگر واقعی کوئی معذور ہو تو رخصت پر عمل کر لے۔ اس مقام پر عطیے سے مراد وہ جانور ہے، جو کسی کو واپسی کی شرط پر کسی ضرورت کے لیے دیا جائے کہ وہ ضرورت پوری ہونے کے بعد لوٹا دے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10644
عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ} قَالَ قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى خَتَمَهَا وَقَالَ ( (النَّاسُ حَيِّزٌ وَأَنَا وَأَصْحَابِي حَيِّزٌ) ) وَقَالَ ( (لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ) ) فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ كَذَبْتَ وَعِنْدَهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَهُمَا قَاعِدَانِ مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ لَوْ شَاءَ هَذَانِ لَحَدَّثَاكَ وَلَكِنْ هَذَا يَخَافُ أَنْ تَنْزِعَهُ عَنْ عَرَافَةِ قَوْمِهِ وَهَذَا يَخْشَى أَنْ تَنْزِعَهُ عَنِ الصَّدَقَةِ فَسَكَتَا فَرَفَعَ مَرْوَانُ عَلَيْهِ الدُّرَّةَ لِيَضْرِبَهُ فَلَمَّا رَأَيَا ذَلِكَ قَالَا صَدَقَ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سورۂ نصر {اِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ وَرَأَیْتَ النَّاسَ} نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی مکمل تلاوت کی اور پھر فرمایا: لوگ ایک فریق ہیں اور میں اور میرے صحابہ ایک فریق ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے، البتہ جہاد اور نیت باقی ہے۔ مروان نے سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے کہا: تم جھوٹ بول رہے ہو، جبکہ اس کے پاس سیدنا رافع بن خدیج اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے اور وہ اس کے پاس تخت پر بیٹے ہوئے تھے، سیدناابو سعید رضی اللہ عنہ نے جواباً کہا: اگر یہ دو چاہیں تو یہ بھی تجھے یہ حدیث بیان کر سکتے ہیں، لیکن یہ اپنی قوم کی ریاست چھن جانے سے ڈرتا ہے اور اس کو زکوۃ و صدقات کی وصول کا عہد ہ چھن جانے کا ڈر ہے، پس وہ دونوں خاموش رہے، لیکن جب مروان نے سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کو کوڑا مارنے کے لیے اٹھایا اور انھوں نے اس کاروائی کو دیکھا تو کہا: ابوسعید خدری سچ کہہ رہے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10644]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله الناس حيز وانا واصحابي حيز وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه، ابو البختري الطائي لم يسمع من ابي سعيد، أخرجه الحاكم: 2/ 257، والطبراني في الكبير: 4444، وابن ابي شيبة: 14/ 498، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21629 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21967»
وضاحت: فوائد: … مکہ مکرمہ فتح ہونے کے بعد اس شہر سے ہجرت کرنے کا حکم ختم ہو گیا ہے، اسی طرح جو علاقہ پہلے سے ہی دار الاسلام ہے، اس سے بھی ہجرت کرنے کا حکم نہیں ہے۔ البتہ دار الکفر سے ہجرت کرنے کا حکم باقی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں