الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. باب قوله صلى الله عليه وسلم لا هجرة بعد الفتح يعني فتح مكة
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے کا بیان
حدیث نمبر: 10638
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمْتُ بِأَخِي مَعْبَدٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْفَتْحِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُكَ بِأَخِي لِتُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ فَقَالَ ذَهَبَ أَهْلُ الْهِجْرَةِ بِمَا فِيهَا وَفِي لَفْظٍ مَضَتِ الْهِجْرَةُ لِأَهْلِهَا فَقُلْتُ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُبَايِعُهُ قَالَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْإِيمَانِ وَالْجِهَادِ قَالَ فَلَقِيتُ مَعْبَدًا بَعْدُ وَكَانَ هُوَ أَكْبَرَهُمَا فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ صَدَقَ مُجَاشِعٌ
۔ (دوسری سند) سیدنا مجاشع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں فتح مکہ کے بعد اپنے بھائی معبد کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے بھائی کو لے کر آپ کے پاس آیا ہوں، تاکہ آپ اس سے ہجرت پر بیعت لیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہجرت والے تو ہجرت کا ثواب لے کر آگے نکل گئے ہیں، ایک روایت میں ہے: ہجرت اپنے اہل کے ساتھ سبقت لے جا چکی ہے۔ میں نے کہا: تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس چیز پر اس کی بیعت لیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام، ایمان اور جہاد پر۔ یحییٰ بن اسحاق راوی کہتا ہے: میں بعد میں سیدنا معبد رضی اللہ عنہ کوملا، جبکہ وہ سیدنا مجاشع رضی اللہ عنہ کا بڑا بھائی تھا اور اس سے یہی سوال کیا، انھوں نے کہا: مجاشع نے سچ کہا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10638]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15945»
وضاحت: فوائد: … امام نووی نے کہا: اس حدیث کا معنییہ ہے کہ مہاجرین کے لیے امتیازی صفت کا سبب بننے والی وہ ہجرت ہے، جو فتح مکہ سے پہلے تھی۔
وہ ہجرت، تعریف اور فضیلت والی ہجرت تھی۔
وہ ہجرت، تعریف اور فضیلت والی ہجرت تھی۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10638 in Urdu