🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. باب كَرَاهَةِ التَّسْمِيَةِ بِالأَسْمَاءِ الْقَبِيحَةِ وَبِنَافِعٍ وَنَحْوِهِ:
باب: برے ناموں کے رکھنے کی کراہت کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2136 ترقیم شاملہ: -- 5599
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ الرُّكَيْنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، وقَالَ يَحْيَي : أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قال: سَمِعْتُ الرُّكَيْنَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، قال: " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُسَمِّيَ رَقِيقَنَا بِأَرْبَعَةِ أَسْمَاءٍ، أَفْلَحَ، وَرَبَاح، وَيَسَارٍ، وَنَافِعٍ ".
معتمر بن سلیمان نے کہا: میں نے رُکین سے سنا، وہ اپنے والد سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے غلاموں کے یہ چار نام رکھنے سے منع فرمایا: افلح (زیادہ کامیاب)، رباح (منافع والا)، یسار (آسانی والا) اور نافع (نفع پہنچانے والا)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5599]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے غلاموں کے یہ چار نام رکھنے سے منع فرمایا: افلح، رباح، یسار اور نافع۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5599]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2136
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2136 ترقیم شاملہ: -- 5600
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُسَمِّ غُلَامَكَ رَبَاحًا وَلَا يَسَارًا وَلَا أَفْلَحَ وَلَا نَافِعًا ".
جریر نے رُکین بن ربیع سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے لڑکے (غلام، خادم) کا نام رباح، یسار، افلح، اور نافع نہ رکھو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5600]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے غلام کا نام «رَبَاحٌ» رباح یا «يَسَارٌ» یسار یا «أَفْلَحُ» افلح یا «نَافِعٌ» نافع نہ رکھنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5600]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2136
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2137 ترقیم شاملہ: -- 5601
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحَبُّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ أَرْبَعٌ، سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ، وَلَا تُسَمِّيَنَّ غُلَامَكَ يَسَارًا، وَلَا رَبَاحًا، وَلَا نَجِيحًا، وَلَا أَفْلَح فَإِنَّكَ تَقُولُ أَثَمَّ هُوَ فَلَا يَكُونُ، فَيَقُولُ لَا إِنَّمَا هُنَّ أَرْبَعٌ، فَلَا تَزِيدُنَّ عَلَيَّ ".
زہیر نے کہا: ہمیں منصور نے ہلال بن یساف سے، انہوں نے ربیع بن عمیلہ سے، انہوں نے حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ چار کلمات ہیں: «سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ»، تم ان میں سے جس کلمے سے بھی ابتدا کرو، اس میں تمہارے لیے کوئی حرج نہیں۔ اور تم اپنے لڑکے کا نام یسار، رباح، نجیح (کامیاب ہونے والا) اور افلح نہ رکھنا، کیونکہ تم پوچھو گے: فلاں (مثلا: افلح) یہاں ہے، وہ نہیں ہوگا تو (جواب دینے والا) کہے گا: (یہاں کوئی) افلح (زیادہ فلاح پانے والا) نہیں ہے۔ (سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے کہا:) یہ چار ہی (نام) ہیں، میری ذمہ داری پر اور کوئی نام نہ بڑھانا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5601]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار بول اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہیں: «سُبْحَانَ اللّٰهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ان میں سے کسی سے بھی ابتدا کر لو تمہارے لیے کوئی نقصان کی بات نہیں ہے اور تم اپنے غلام یا بچے کا نام «یسار» یا «رباح» یا «نجیح» (کامیاب) اور «افلح» نہ رکھنا، کیونکہ تم پوچھو گے، کیا فلاں ادھر ہے؟ اور وہ نہیں ہوگا تو جواب دینے والا کہے گا، نہیں، یہ چار ہی ہیں، مجھ سے بیان کرتے وقت ان پر اضافہ نہ کرنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5601]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2137
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2137 ترقیم شاملہ: -- 5602
وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنِي جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كُلُّهُمْ، عَنْ مَنْصُورٍ بِإِسْنَادِ زُهَيْرٍ، فَأَمَّا حَدِيثُ جَرِيرٍ وَرَوْح فَكَمِثْلِ حَدِيثِ زُهَيْرٍ بِقِصَّتِهِ وَأَمَّا حَدِيثُ شُعْبَةَ، فَلَيْسَ فِيهِ إِلَّا ذِكْرُ تَسْمِيَةِ الْغُلَامِ وَلَمْ يَذْكُرِ الْكَلَامَ الْأَرْبَعَ.
جریر، روح بن قاسم اور شعبہ سب نے منصور سے زہیر کی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، جریر اور روح کی حدیث قصے سمیت زہیر کی حدیث جیسی ہے۔ اور جو شعبہ کی حدیث ہے۔ اس میں صرف غلام کا نام رکھنے کا ذکر ہے، انہوں نے (چار بہترین کلمات) کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5602]
مصنف کو یہی حدیث چار اور اساتذہ نے بھی تین سندوں سے سنائی ہے، جریر رحمہ اللہ اور روح رحمہ اللہ کی حدیث، زہیر رحمہ اللہ کی طرح واقعہ سمیت ہے اور شعبہ رحمہ اللہ کی حدیث میں صرف غلام کے نام رکھنے کا تذکرہ ہے، چار بولوں کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5602]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2137
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2138 ترقیم شاملہ: -- 5603
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْهَى عَنْ أَنْ يُسَمَّى بِيَعْلَى وَبِبَرَكَةَ وَبِأَفْلَحَ وَبِيَسَارٍ وَبِنَافِعٍ وَبِنَحْوِ ذَلِكَ ثُمَّ رَأَيْتُهُ سَكَتَ بَعْدُ عَنْهَا، فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا ثُمَّ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْ ذَلِكَ ثُمَّ أَرَادَ عُمَرُ أَنْ يَنْهَى عَنْ ذَلِكَ ثُمَّ تَرَكَهُ ".
ابن جریج نے کہا: مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ فرمایا کہ آپ یعلیٰ (بلند)، برکت، افلح، یسار اور نافع جیسے نام رکھنے سے منع فرما دیں، پھر میں نے دیکھا کہ آپ خاموش ہو گئے، پھر آپ کی رحلت ہوئی تو آپ نے ان ناموں سے نہیں روکا تھا، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے روکنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے بھی (یہ ارادہ) ترک کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5603]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ناموں کو رکھنے سے منع کرنے کا ارادہ فرمایا: «يَعْلَىٰ» یعلیٰ، «بَرَكَة» برکت، «أَفْلَح» افلح، «يَسَار» یسار اور «نَافِع» نافع اور ان کے ہم معنی نام، پھر میں نے دیکھا کہ بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے خاموش ہو گئے اور کچھ نہ فرمایا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منع نہ فرمایا، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان ناموں سے روکنے کا ارادہ کیا، پھر اس کو نظر انداز کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5603]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2138
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں