صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب اسْتِحْبَابِ تَغْيِيرِ الاِسْمِ الْقَبِيحِ إِلَى حَسَنٍ وَتَغْيِيرِ اسْمِ بَرَّةَ إِلَى زَيْنَبَ وَجُوَيْرِيَةَ وَنَحْوِهِمَا:
باب: برے نام کا بدل ڈالنا مستحب ہے اور برّہ کو زینب سے بدلنے کے استحباب کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2139 ترقیم شاملہ: -- 5604
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بشار ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيَّرَ اسْمَ عَاصِيَةَ، وَقَالَ: أَنْتِ جَمِيلَةُ ". قَالَ أَحْمَدُ مَكَانَ، أَخْبَرَنِي عَنْ.
احمد بن حنبل، زہیر بن حرب، محمد بن مثنیٰ، عبیداللہ بن سعید اور محمد بن بشار نے (ان سب نے) کہا: ہمیں یحییٰ بن سعید نے عبیداللہ سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصیہ (نافرمانی کرنے والی) کا نام تبدیل کر دیا اور فرمایا: ”تم جمیلہ (خوبصورت) ہو۔“ احمد نے (مجھے خبر دی) کی جگہ (سے روایت ہے۔) کہا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5604]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «عَاصِيَة» (نافرمان) نام بدل کر فرمایا: ”تم «جَمِيلَة» ہو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5604]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2139
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2139 ترقیم شاملہ: -- 5605
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : " أَنَّ ابْنَةً لِعُمَرَ كَانَتْ يُقَالُ لَهَا عَاصِيَةُ، فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيلَةَ ".
حماد بن سلمہ نے عبیداللہ سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ایک صاحبزادی کو عاصیہ کہا جاتا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام جمیلہ رکھ دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5605]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ایک بیٹی کا نام عاصیہ تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام ”جمیلہ“ رکھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5605]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2139
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2140 ترقیم شاملہ: -- 5606
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو، قالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قال: " كَانَتْ جُوَيْرِيَةُ اسْمُهَا بَرَّةُ، فَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَهَا جُوَيْرِيَةَ، وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُقَالَ خَرَجَ مِنْ عِنْدَ بَرَّةَ "، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ كُرَيْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ.
عمرو ناقد اور ابن ابی عمر نے حدیث بیان کی۔ الفاظ عمرو کے ہیں۔ دونوں نے کہا: ہمیں سفیان نے آل طلحہ کے آزاد کردہ غلام محمد بن عبدالرحمان سے حدیث بیان کی، انہوں نے کریب سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: (پہلے ام المؤمنین حضرت) جویریہ رضی اللہ عنہا کا نام (برہ) تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر جویریہ رکھ دیا۔ آپ کو پسند نہ تھا کہ اس طرح کہا جائے کہ آپ برہ (نیکیوں والی) کے ہاں سے نکل گئے۔ ابن ابی عمر کی حدیث میں ہے: کریب سے روایت ہے، کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5606]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کا نام «بَرَّة» تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر جویریہ رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ یہ کہا جائے: ”آپ کے پاس سے «بَرَّة» چلی گئی“، ابن ابی عمرہ کی روایت میں «عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ» کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5606]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2140
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2141 ترقیم شاملہ: -- 5607
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا رَافِعٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حدثنا أبى ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّ زَيْنَبَ كَانَ اسْمُهَا بَرَّةَ، فَقِيلَ تُزَكِّي نَفْسَهَا، فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ ". وَلَفْظُ الْحَدِيثِ لِهَؤُلَاءِ دُونَ ابْنِ بَشَّارٍ، وقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ .
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار نے کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی، محمد بن جعفر اور عبیداللہ کے والد معاذ نے شعبہ سے، انہوں نے عطاء بن ابی میمونہ سے، انہوں نے ابورافع سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت زینب (بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا) کا نام برہ تھا تو کہا گیا کہ وہ (نام بتاتے وقت خود) اپنی پارسائی بیان کرتی ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام زینب رکھ دیا۔ حدیث کے الفاظ ابن بشار کے علاوہ باقی سب کے (بیان کردہ) ہیں۔ ابن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے شعبہ سے حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5607]
امام صاحب اپنے چار اساتذہ کی دو سندوں سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5607]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2141
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2142 ترقیم شاملہ: -- 5608
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قالا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: كَانَ اسْمِي بَرَّةَ، فَسَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ، قَالَتْ: " وَدَخَلَتْ عَلَيْهِ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ، وَاسْمُهَا بَرَّةُ، فَسَمَّاهَا زَيْنَبَ ".
ولید بن کثیر نے کہا: مجھے محمد بن عمرو بن عطاء نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا، کہا: میرا نام برہ تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام زینب رکھ دیا۔ انہوں نے کہا: جب زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا آپ کے حبالہ عقد میں داخل ہوئیں تو ان کا نام بھی برہ تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بھی زینب رکھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5608]
حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرا نام «بَرَّة» تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام زینب رکھا اور وہ بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا آئیں، ان کا نام «بَرَّة» تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام زینب رکھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5608]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2142
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2142 ترقیم شاملہ: -- 5609
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، قال: سَمَّيْتُ ابْنَتِي بَرَّةَ، فَقَالَتْ لِي زَيْنَبُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ هَذَا الِاسْمِ وَسُمِّيتُ بَرَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمُ اللَّهُ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْبِرِّ مِنْكُمْ "، فَقَالُوا: بِمَ نُسَمِّيهَا، قَالَ: " سَمُّوهَا زَيْنَبَ ".
یزید بن ابی حبیب نے محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت کی، کہا: میں نے اپنی بیٹی کا نام برہ رکھا تو حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نام رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ اور (بتایا کہ) میرا نام بھی پہلے برہ رکھا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اپنی پارسائی بیان کرو اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے کہ تم میں سے نیکو کار کون ہے۔“ (گھر کے) لوگوں نے کہا: پھر ہم اس کا کیا نام رکھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا نام زینب رکھ دو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5609]
محمد بن عمرو بن عطاء بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنی بیٹی کا نام «بَرَّة» ”برّہ“ رکھا تو مجھ سے حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام کے رکھنے سے روکا ہے، میرا نام «بَرَّة» ”برّہ“ رکھا گیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خود اپنا تزکیہ نہ کرو، اللہ تعالیٰ تم میں سے وفاداروں اور نیکوکاروں کو خوب جانتا ہے“ تو میرے ورثاء نے پوچھا کہ ہم اس کا کیا نام رکھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا نام زینب رکھو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5609]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2142
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة