🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

19. بَابُ قَوْلِهِ يَوْمَ حُنَيْنٍ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ وَمَا قَالَتْهُ أُمُّ سُلَيْمٍ وَالِدَهُ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ وَجَرْحِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَاهْتِمَامِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِأَمْرِهِ
غزوۂ حنین کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمانا کہ جس نے کسی کافر کو قتل کیا، اس سے حاصل ہونے والا مال اسی کو ملے گا، سیدنا انس بن مالک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے جو کچھ کہا اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے زخمی ہونے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس کے بارے میں اہتمام کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10906
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ مَنْ تَفَرَّدَ بِدَمِ رَجُلٍ فَقَتَلَهُ فَلَهُ سَلَبُهُ قَالَ فَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ بِسَلَبِ أَحَدٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ حنین کے موقع پر فرمایا: جو آدمی جس کو قتل کرنے میں اکیلا ہو گا، تو اس سے چھینا ہوا مال اسی کے لیے ہو گا۔ اس دن سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اکیس افراد کا سلب لے کر آئے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10906]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا مسلم: 1809، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13041 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13072»
وضاحت: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ حنین کے موقع پر فرمایا: جو آدمی جس کو قتل کرنے میں اکیلا ہو گا، تو اس سے چھینا ہوا مال اسی کے لیے ہو گا۔ اس دن سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اکیس افراد کا سلب لے کر آئے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مطولا مسلم: 1809
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10907
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ حُنَيْنٍ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ قَالَ فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ عِشْرِينَ
۔(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ حنین کے موقع پر فرمایا: جس نے کسی کافر کو قتل کیا، اسی کے لیے اس کا سلب ہو گا۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیس کافر قتل کیے تھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10907]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12155»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12155
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10908
وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي ضَرَبْتُ رَجُلًا عَلَى حَبْلِ الْعَاتِقِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ لَهُ وَأُجْهِضْتُ عَنْهُ وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا فَأُعْجِلْتُ عَنْهُ فَانْظُرْ مَنْ أَخَذَهَا قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ أَنَا أَخَذْتُهَا فَأَرْضِهِ مِنْهَا وَأَعْطِنِيهَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ أَوْ سَكَتَ قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ لَا يُفِيئُهَا اللَّهُ عَلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِهِ وَيُعْطِيكَهَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ عُمَرُ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ صَدَقَ عُمَرُ وَلَقِيَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ وَمَعَهَا خَنْجَرٌ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ مَا هَذَا مَعَكِ قَالَتْ أَرَدْتُ إِنْ دَنَا مِنِّي بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ أَنْ أَبْعَجَ بِهِ بَطْنَهُ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَلَا تَسْمَعُ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا مِنَ الطُّلَقَاءِ انْهَزَمُوا بِكَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَى وَأَحْسَنَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوۂ حنین کے دن سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے ایک کافر کی گردن پر وار کر کے اس کی گردن کاٹی ہے، وہ مقتول ایک زرہ پہنے ہوئے تھا، میں وہ نہیں اتار سکا، آپ ذرا دیکھیں کہ کس آدمی نے وہ زرہ اتار لی ہے، (وہ تو میرا حق تھا)۔ایک آدمی نے کہا: وہ زرہ میرے پاس ہے، لیکن اے اللہ کے رسول! اس زرہ کے متعلق آپ اسے راضی کریں اور یہ میرے پاس ہی رہنے دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت ِ مبارکہ تھی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی چیز مانگی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ دے دیتےیا خاموش رہتے۔ اس آدمی کییہ بات سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ نہیں ہو گا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے ایک شیر سے یہ زرہ لے کر تمہیں دے دیں۔ یہ بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس دئیے اور فرمایا: عمر نے ٹھیک کہا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:اس روز سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں خنجر تھا، ان کے شوہر سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تمہارے پاس یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ میں نے اسے اپنے پاس رکھا ہوا ہے کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اس کے ساتھ اس کا پیٹ چیر ڈالوں گی۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ ام سلیم کی بات سن رہے ہیں؟ اتنے میں سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا بولیں: اللہ کے رسول! آپ پیچھے رہ جانے والے ان طلقاء کو قتل کر دیں، جو آپ کے ساتھ شکست کھا گئے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام سلیم! اللہ تعالیٰ نے ہماری مدد کی اور کیا خوب مدد کی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10908]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1809، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13975 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14020»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1809
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں