الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. بَابُ قَوْلِهِ يَوْمَ حُنَيْنٍ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ وَمَا قَالَتْهُ أُمُّ سُلَيْمٍ وَالِدَهُ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ وَجَرْحِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَاهْتِمَامِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِأَمْرِهِ
غزوۂ حنین کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمانا کہ جس نے کسی کافر کو قتل کیا، اس سے حاصل ہونے والا مال اسی کو ملے گا، سیدنا انس بن مالک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے جو کچھ کہا اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے زخمی ہونے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس کے بارے میں اہتمام کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 10906
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ مَنْ تَفَرَّدَ بِدَمِ رَجُلٍ فَقَتَلَهُ فَلَهُ سَلَبُهُ قَالَ فَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ بِسَلَبِ أَحَدٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ حنین کے موقع پر فرمایا: جو آدمی جس کو قتل کرنے میں اکیلا ہو گا، تو اس سے چھینا ہوا مال اسی کے لیے ہو گا۔ اس دن سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اکیس افراد کا سلب لے کر آئے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10906]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا مسلم: 1809، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13041 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13072»
وضاحت: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ حنین کے موقع پر فرمایا: جو آدمی جس کو قتل کرنے میں اکیلا ہو گا، تو اس سے چھینا ہوا مال اسی کے لیے ہو گا۔ اس دن سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اکیس افراد کا سلب لے کر آئے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مطولا مسلم: 1809
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10906 in Urdu