الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ مَا جَاءَ فِي مُخْلَفَاتِهِ ﷺ وَمِیْرَاثِهِ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ترکہ اور میراث کا بیان
حدیث نمبر: 11079
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ فَاطِمَةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْتَ وَرِثْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمْ أَهْلُهُ قَالَ فَقَالَ لَا بَلْ أَهْلُهُ قَالَتْ فَأَيْنَ سَهْمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَطْعَمَ نَبِيًّا طَعْمَةً ثُمَّ قَبَضَهُ جَعَلَهُ لِلَّذِي يَقُومُ مِنْ بَعْدِهِ فَرَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَقَالَتْ فَأَنْتَ وَمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمُ
سیدنا ابو طفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وارث آپ ہیںیا ان کے اہل خانہ ہیں؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وارث تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل خانہ ہی ہیں،سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: مال فے میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والا حصہ کہاں ہے؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی نبی کو کچھ عطا فرماتا ہے پھر نبی کی وفات ہوتی ہے تو اس کے بعد اس کا نائب ہی اس چیز کا حق دار ہوتا ہے۔ میں نے سوچا ہے کہ اس حصہ کو مسلمانوں کی طرف لوٹا دوں تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ سن کر کہا آپ ہی بہتر جانتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سنا ہے یا نہیں؟ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11079]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 2973، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14»
وضاحت: فوائد: … درج ذیل روایت اس حدیث کا شاہد ہے:
سیدنا سعد بن تمیم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا ِللْخَلِیْفَۃِ مِنْ بَعْدِکَ؟ قَالَ: ((مَثَلُ الَّذِیْ لِیْ مَا عَدَلَ فِیْ الْحُکْمِ وَاَقْسَطَ فِیْ الْقِسْطِ وَرَحِمَ ذَا الرَّحِمِ۔)) … کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے بعد خلیفہ کا کیا حق ہو گا؟ جب تک وہ فیصلہکرنے میں انصاف کرے اور رشتہ دار پر رحم کرے تو اس کے لیے وہی حق ہو گا، جو میرے لیے ہے۔ (التاریخ الکبیر للبخاری: ۴/ ۴۶)
حافظ ابن کثیر نے مسند احمد سے یہ حدیث نقل کرنے کے بعد کہا: اس کے متن میں غرابت اور نکارت پائی جاتی ہے، ممکن ہے کہ یہ روایت بالمعنی ہو اور بعض راویوں کو سمجھ نہ آئی ہو، جبکہ اس کی سند میں ایسے راوی بھی ہیں، جن میں شیعیت پائی جاتی ہے، اس نقطے کا علم ہونا چاہیے، اس معاملے میں سب سے بہتر یہ الفاظ ہیں: انت وما سمعت من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ یہی الفاظ زیادہ درست اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حکم، سیادت، علم اور دین کے لائق ہیں۔ (البدایۃ: ۵/ ۲۸۹)
سیدنا سعد بن تمیم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا ِللْخَلِیْفَۃِ مِنْ بَعْدِکَ؟ قَالَ: ((مَثَلُ الَّذِیْ لِیْ مَا عَدَلَ فِیْ الْحُکْمِ وَاَقْسَطَ فِیْ الْقِسْطِ وَرَحِمَ ذَا الرَّحِمِ۔)) … کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے بعد خلیفہ کا کیا حق ہو گا؟ جب تک وہ فیصلہکرنے میں انصاف کرے اور رشتہ دار پر رحم کرے تو اس کے لیے وہی حق ہو گا، جو میرے لیے ہے۔ (التاریخ الکبیر للبخاری: ۴/ ۴۶)
حافظ ابن کثیر نے مسند احمد سے یہ حدیث نقل کرنے کے بعد کہا: اس کے متن میں غرابت اور نکارت پائی جاتی ہے، ممکن ہے کہ یہ روایت بالمعنی ہو اور بعض راویوں کو سمجھ نہ آئی ہو، جبکہ اس کی سند میں ایسے راوی بھی ہیں، جن میں شیعیت پائی جاتی ہے، اس نقطے کا علم ہونا چاہیے، اس معاملے میں سب سے بہتر یہ الفاظ ہیں: انت وما سمعت من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ یہی الفاظ زیادہ درست اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حکم، سیادت، علم اور دین کے لائق ہیں۔ (البدایۃ: ۵/ ۲۸۹)
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 11080
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَشَدَّادُ بْنُ مَعْقِلٍ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَا بَيْنَ هَذَيْنِ اللَّوْحَيْنِ وَدَخَلْنَا عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ وَكَانَ الْمُخْتَارُ يَقُولُ الْوَحْيُ
عبدالعزیز بن رُفیع سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور شداد بن معقل ہم دونوں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گئے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف یہ چیز چھوڑ کر گئے ہیں جو ان دو گتوں کے درمیان ہے۔ (یعنی قرآن کریم) اور ہم محمد بن علی کی خدمت میں گئے تو انہوں نے بھی ایسے ہی کہا، عبدالعزیز نے کہا کہ مختار بن ثقفی کہا کرتا تھا کہ اس کی طرف وحی نازل ہوتی ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11080]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5019، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1909 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1909»
وضاحت: فوائد: … امام بخاری نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا ہے: بَابُ مَنْ قَالَ: لَمْ یَتْرُکِ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِلَا بَیْنَ الدَّفَّتَیْنِ (اس آدمی کا بیان کہ جس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ نہیں چھوڑا، مگر وہ چیز جو دو گتوں کے درمیان ہے)
حافظ ابن حجر نے کہا: دراصل یہ باب ان لوگوں پر ردّ ہے، جن کا نظریہیہ ہے کہ حاملین قرآن کی شہادت اور موت کی وجہ سے قرآن مجید کا بہت زیادہ حصہ ضائع ہو گیا، جبکہ یہ ایسا نظریہ ہے، جو رافضیوں نے گھڑا، تاکہ وہ اپنے اس دعوی کو سچا ثابت کر سکیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے وقت یہ بات مسلم تھی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو امامت و خلافت ملے گی اور یہ حقیقت قرآن مجید میں بھی موجود تھی، لیکن صحابہ نے اس کو چھپا لیا،یہ ایک باطل دعوی ہے، کیونکہ صحابہ نے کچھ نہیں چھپایا۔ (فتح الباری)
حافظ ابن حجر نے کہا: دراصل یہ باب ان لوگوں پر ردّ ہے، جن کا نظریہیہ ہے کہ حاملین قرآن کی شہادت اور موت کی وجہ سے قرآن مجید کا بہت زیادہ حصہ ضائع ہو گیا، جبکہ یہ ایسا نظریہ ہے، جو رافضیوں نے گھڑا، تاکہ وہ اپنے اس دعوی کو سچا ثابت کر سکیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے وقت یہ بات مسلم تھی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو امامت و خلافت ملے گی اور یہ حقیقت قرآن مجید میں بھی موجود تھی، لیکن صحابہ نے اس کو چھپا لیا،یہ ایک باطل دعوی ہے، کیونکہ صحابہ نے کچھ نہیں چھپایا۔ (فتح الباری)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5019