الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ خَلْقِهِ، وَتَنَاسُ أَعْضَائِهِ، وَاسْتَوَاءِ أَجْزَائِهِ وَمَا جَمَعَ اللَّهُ فِيهِ مِنَ الْكَمَالَاتِ
آپ کے جسد اطہر، اعضاء کے تناسب و درستی اور آپ کے دیگر کمالات کا تذکرہ جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا
حدیث نمبر: 11130
عَنْ مُحَرِّشٍ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْجِعْرَانَةِ لَيْلًا فَاعْتَمَرَ ثُمَّ رَجَعَ فَأَصْبَحَ كَبَائِتٍ بِهَا فَنَظَرْتُ إِلَى ظَهْرِهِ كَأَنَّهُ سَبِيكَةُ فِضَّةٍ
سیدنا محرش خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کے وقت جعرانہ سے روانہ ہو کر جا کر عمرہ ادا کیا اور واپس آگئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جعرانہ میں صبح کی اور یوں لگتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات یہیں جعرانہ میں ہی بسر کی ہے،میں نے آپ کی پشت پر دیکھا،یوں لگتا تھا کہ وہ چاندی کی تختی ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11130]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه النسائي: 5/ 200، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15512 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15597»
وضاحت: فوائد: … فوائد: عمرۂ جعرانہ:جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ حنین اور غزوۂ طائف سے فارغ ہو کر جعرانہ مقام پر پہنچے اور وہاں پڑاؤ ڈالا تو اس دوران یہ عمرہ ادا کیا تھا،یہ غزوے فتح مکہ کے بعد ۸ھمیں پیش آئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ حنین کی غنیمتیں جعرانہ کے مقام پر تقسیم کی تھیں،یہ مقام مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان ہے اور مکہ مکرمہ سے زیادہ قریب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس موقع پر راتوں رات عمرہ کر کے واپس آ گئے تھے۔ اس عمرے کا انکار کرنے والوں کو اس کا علم نہیں ہو سکا تھا۔
ان احادیث ِ مبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلیہ مبارک بیان کیا گیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اخلاق کی اعلی مثال ہونے کے ساتھ ساتھ خلقی اور پیدائشی اوصاف میں بھی اپنی مثال آپ تھے۔
ان احادیث ِ مبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلیہ مبارک بیان کیا گیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اخلاق کی اعلی مثال ہونے کے ساتھ ساتھ خلقی اور پیدائشی اوصاف میں بھی اپنی مثال آپ تھے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن