الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ وَجْهِهِ وَشَعْرِهِ ﷺ
آپ کے چہرۂ انور اورگیسوئوں کا بیان
حدیث نمبر: 11131
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ قِيلَ لِلْبَرَاءِ أَكَانَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدِيدًا هَكَذَا مِثْلَ السَّيْفِ قَالَ لَا بَلْ كَانَ مِثْلَ الْقَمَرِ
ابو اسحاق کا بیان ہے کہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رخ انور تلوار کی مانند لمبا اور چمک دار تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ چاند کی طرح تابناک اور گول تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11131]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3552، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18478 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18670»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11132
عَنْ سِمَاكٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ شَمِطَ مُقَدَّمُ رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ فَإِذَا ادَّهَنَ وَمَشَطَ لَمْ يَتَبَيَّنْ وَإِذَا شَعِثَ رَأْسُهُ تَبَيَّنَ وَكَانَ كَثِيرَ الشَّعْرِ وَاللِّحْيَةِ فَقَالَ رَجُلٌ وَجْهُهُ مِثْلُ السَّيْفِ قَالَ لَا بَلْ كَانَ مِثْلَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ مُسْتَدِيرًا قَالَ وَرَأَيْتُ خَاتَمَهُ عِنْدَ كَتِفِهِ مِثْلَ بَيْضَةِ الْحَمَامَةِ يُشْبِهُ جَسَدَهُ
سماک سے روایت ہے کہ انہوں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی اور سر کے اگلے حصہ کے بال سفید ہونے لگے تھے، جب آپ تیل لگا کر کنگھی کر لیتے تو ان کی رنگت نمایاں نہ ہوتی تھی، لیکن جب نہ تیل لگایا ہوتا اور نہ کنگھی کی ہوتی تو وہ سفیدبال نمایاں ہو جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سراور داڑھی کے بال گھنے تھے۔ ایک آدمی نے کہا کہ آپ کا چہرہ تلوار کی مانند لمبا اور چمک دار تھا؟ لیکن سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، تلوار کی طرح نہیں تھا، بلکہ سورج اور چاند کی طرح روشن اور گول تھا۔ سیدناجابر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مہر نبوت کو آپ کے کندھے کے قریب دیکھا، وہ کبوتری کے انڈے کے برابر باقی جسم کے مشابہ تھی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11132]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2344، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20998 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21309»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11133
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ شَعْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کانوں کے نصف تک لمبے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11133]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2338، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12118 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12142»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11134
قَالَ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَعْرٌ يُصِيبُ وَفِي رِوَايَةٍ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال آپ کے کاندھوں تک لمبے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11134]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 5903، 5904، ومسلم: 2338، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12175 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12199»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11135
عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ شَعْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ شَعْرُهُ رَجِلًا لَيْسَ بِالْجَعْدِ وَلَا بِالسَّبْطِ كَانَ بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ
قتادہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بالوں کی بابت دریافت کیاتو انھوں نے کہا: آپ کے بال نہ سخت گھنگھریالے تھے اور نہ بالکل سیدھے، بلکہ قدرے خمیدہ تھے، آپ کے بال کندھوں اور کانوں کے درمیان ہوتے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11135]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 5905، ومسلم: 2338، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12382 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12409»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11136
عَنْ حُمَيْدٍ أَنَّ أَنَسًا سُئِلَ عَنْ شَعَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا رَأَيْتُ شَعْرًا أَشْبَهَ بِشَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ شَعَرِ قَتَادَةَ فَفَرِحَ يَوْمَئِذٍ قَتَادَةُ
حمید سے روایت ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بالوں کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انھوں نے کہا:میں نے قتادہ کے بالوں سے بڑھ کر کسی کے بالوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بالوں کے مشابہ نہیں دیکھا۔اس دن قتادہ بہت زیادہ خوش تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11136]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه ابويعلي: 3870، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13238 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13271»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11137
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُجَاوِزُ شَعْرُهُ أُذُنَيْهِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال طوالت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کانوں سے نہیں بڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11137]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2338، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12445 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12472»
وضاحت: فوائد: … حافظ ابن حجر نے کہا: یہ حدیث، اس حدیث کے الٹ ہے، جس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال کندھوں تک ہوتے تھے، اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ زیادہ تر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال کانوں کی لو تک رہتے تھے، اگر ان کوسیدھا کیا جاتا تو وہ کندھے تک پہنچ جاتے، یا پھر ان دو احادیث کو دو حالتوں پر محمول کیا جائے گا۔ (فتح الباری: ۶/ ۵۷۲)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11138
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَهُ شَعْرٌ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ لَيْسَ بِالْقَصِيرِ وَلَا بِالطَّوِيلِ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ کسی ایسے آدمی کو جس کے بال کندھوں تک طویل ہوں اور وہ سرخ لباس زیب تن کیے ہوئے ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر حسین نہیں پایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گیسو کندھوں تک ہوتے، کندھوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ تھا، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سینہ کشادہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قد نہ بہت پست تھا، نہ بہت زیادہ طویل۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11138]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3551، 5848، ومسلم: 2337، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18558 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18757»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11139
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دُونَ الْجُمَّةِ وَفَوْقَ الْوَفْرَةِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال کندھوں سے اوپر اور کانوں سے نیچے تک ہوتے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11139]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 4187، والترمذي: 1755، وابن ماجه: 3635، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24871 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25383»
وضاحت: فوائد: … عربی میں سر کے لمبے بالوں کے لیے تین لفظ استعمال کیے جاتے ہیں:
جُمّہ: وہ بال جو کندھوں تک ہوں یا کندھوں کو چھو رہے ہوں۔
وَفْرَہ: وہ بال جو کانوں کے برابر تک ہوں۔
لِمَّہ: جو کانوں اور کندھوں کے درمیان ہوں۔
پیارے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک بالوں کے بارے میں تینوں الفاظ عام استعمال کیے گئے ہیں، ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کٹنگ کرواتے وقت کانوں کے نچلے حصے کے برابر بال کاٹ لیتے ہوں، جب وہ بڑھتے بڑھتے کندھوں کو لگنے لگتے تو پھر کاٹ دیتے ہوں۔
جُمّہ: وہ بال جو کندھوں تک ہوں یا کندھوں کو چھو رہے ہوں۔
وَفْرَہ: وہ بال جو کانوں کے برابر تک ہوں۔
لِمَّہ: جو کانوں اور کندھوں کے درمیان ہوں۔
پیارے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک بالوں کے بارے میں تینوں الفاظ عام استعمال کیے گئے ہیں، ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کٹنگ کرواتے وقت کانوں کے نچلے حصے کے برابر بال کاٹ لیتے ہوں، جب وہ بڑھتے بڑھتے کندھوں کو لگنے لگتے تو پھر کاٹ دیتے ہوں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11140
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كُنْتُ إِذَا فَرَقْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ صَدَعْتُ فَرْقَهُ عَنْ يَافُوخِهِ وَأَرْسَلْتُ نَاصِيَتَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بالوں کی مانگ نکالا کرتی تھی تو آپ کے سر کی چوٹی سے بالوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتی تھی اور پیشانی کے بال آپ کی آنکھوں کے درمیانیعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی پر چھوڑ دیتی تھی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11140]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابوداود: 4189،و ابن ماجه: 3633، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26355 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26887»
الحكم على الحديث: ضعیف