الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ مَا جَاءَ فِي خُلُقِهِ الْعَظِيمِ عَلَيْهِ أَفْضَلُ الصَّلَاةِ وأتم التَّسْلِيمِ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عظیم اخلاق کا بیان
حدیث نمبر: 11181
عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبَّابًا وَلَا لَعَّانًا وَلَا فَحَّاشًا كَانَ يَقُولُ لِأَحَدِنَا عِنْدَ الْمُعَاتَبَةِ مَا لَهُ تَرِبَ جَبِينُهُ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گالیاں دینے والے، لعنت کرنے والے اور فحش گو نہیں تھے، جب کسی کو ڈانٹنا ہوتا تو صرف اتنا کہتے کہ اسے کیا ہو گیا ہے، اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11181]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6031، 6046، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12609 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12636»
وضاحت: فوائد: … اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔ اس کلمہ سے مراد بد دعا نہیں ہے، بلکہ اگلے بندے کو متنبہ کرنا ہے۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 6031
حدیث نمبر: 11182
قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: او دو کانوں والے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11182]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، اخرجه ابوداود: 5002، والترمذي: 1992، 3828، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13544 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13578»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے کان چھوٹے یا بڑے ہوں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خاص صفت کی بنا پر ان کو اس صف سے پکارا ہو، اس اعتبار سے یہ ہلکا سا مذاق ہو گا، اور یہ بھی ممکن ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات زیادہ توجہ سے سنتے ہوں، اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق میں تعریفی کلمات کہے ہوں اور اس چیز کا بھی احتمال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو اس بات پر متنبہ کرنا چاہتے ہوں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سننے کے لیے تیار رہا کریں۔
الحكم على الحديث: حديث حسن
حدیث نمبر: 11183
عَنْ جَرِيرٍ قَالَ مَا حَجَبَنِي عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں جب سے مسلمان ہوا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاس آنے سے مجھے کبھی نہیں روکا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب بھی مجھے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا دیئے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11183]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3035، 6089،ومسلم: 2475، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19173 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19387»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3035
حدیث نمبر: 11184
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُسْلِمًا مِنْ لَعْنَةٍ تُذْكَرُ وَلَا انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ شَيْئًا يُؤْتَى إِلَيْهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرُمَاتُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا ضَرَبَ بِيَدِهِ شَيْئًا قَطُّ إِلَّا أَنْ يَضْرِبَ بِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا سُئِلَ شَيْئًا قَطُّ فَمَنَعَهُ إِلَّا أَنْ يُسْأَلَ مَأْثَمًا فَإِنَّهُ كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَلَا خُيِّرَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا وَكَانَ إِذَا كَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ يُدَارِسُهُ كَانَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی کسی مسلمان کا نام لے کر اس پر لعنت نہیں کی، نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ساتھ کی گئی بدسلوکی کا انتقام لیا، الایہ کی اللہ تعالیٰ کی حدود پامال ہوتی ہوں،نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کو اپنے ہاتھ سے مارا، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی راہ کا مسئلہ ہو، آپ سے جب بھی کوئی چیز طلب کی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی بھی اس کا انکار نہیں کیا، الایہ کی وہ بات گناہ والی ہوتی، اگر گناہ والی بات ہوتی تو آپ اس سے سب سے زیادہ دور رہنے والے ہوتے اور جب بھی آپ کو دوباتوں میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان میں سے اس صورت کا انتخاب کرتے، جو ان میں سے آسان تر ہوتی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جبریل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دور کرکے فارغ ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھوڑی ہوئی ہو اسے بھی زیادہ سخی ہوتے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11184]
تخریج الحدیث: «حديث ضعيف بھذه السياقة، حماد بن زيد شك في ھذا الاسناد، والنعمان بن راشد ضعيف سييء الحفظ، أخرجه النسائي: 4/125، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24985 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25499»
الحكم على الحديث: حديث ضعيف بھذه السياقة