الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَوَاضُعِهِ ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تواضع کا بیان
حدیث نمبر: 11195
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ عَائِشَةَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا قَالَتْ نَعَمْ كَانَ يَخْصِفُ نَعْلَهُ وَيَخِيطُ ثَوْبَهُ وَيَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ كَمَا يَعْمَلُ أَحَدُكُمْ فِي بَيْتِهِ
۔(دوسری سند) عروہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ آیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں کوئی کام کیا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے جوتے کو مرمت کر لیتے، کپڑے کو سلائی کر لیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر میں اسی طرح کام کرتے تھے، جیسے تم میںسے کوئی اپنے گھر میں کام کاج کرتا ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11195]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25855»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25855
حدیث نمبر: 11196
عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ سُئِلَتْ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ قَالَتْ كَانَ بَشَرًا مِنَ الْبَشَرِ يَفْلِي ثَوْبَهُ وَيَحْلُبُ شَاتَهُ وَيَخْدُمُ نَفْسَهُ
قاسم سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا گیا کہ گھر میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کیا مصروفیت ہوتی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ بھی بشر ہی تھے، اس لیے (عام دوسرے انسانوں کی طرح) اپنے کپڑوں کو ٹٹول ٹٹول کر ان میں جوئیں دیکھتے، بکری کا دودھ دوہ لیتے اور اپنے کام کر لیتے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11196]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه ابن حبان: 5675، وابويعلي: 4847، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26194 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26724»
وضاحت: فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سادگی اور عاجزی ہے، جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کے لیے طرزِ حیات بھی قرار دیا ہے۔ اگر کوئی انسان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان سنتوں کا اہتمام کرنے لگے تو اس کی زندگی کئی مشاکل اور تکلّفات سے پاک ہو سکتی ہے۔ ایسے امور کو سر انجام دینے والا آدمی تکبر سے پاک ہو جائے گا اور اس کی عاجزی و فروتنی میں اضافہ ہو گا۔ جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا اسْتَکْبَرَ مَنْ أکَلَ مَعَہُ خَادِمُہُ وَرَکِبَ الْحِمَارَ بِالأسْوَاقِ، وَاعْتَقَلَ الشَّاۃَ فَحَلَبَھَا۔)) (الصحیحۃ: ۲۲۱۸) … وہ شخص متکبر نہیں ہے،جس کے ساتھ اُس کے خادم نے کھانا کھایااور وہ بازاروں میں گدھے پر سوارہوا اوربکری کی ٹانگوں کو باندھ کر اس کو دوہا۔
اگر کسی آدمی کو زندگی کی روٹین میں ان امور کا موقع نہیں ملتا تو کبھی کبھار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سمجھ کر ان کو سرانجام دینا چاہئے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَجْلِسُ عَلَی الْأَرْضِ، وَیَأْکُلُ عَلَی الْأَرْضِ، وَیَعْتَقِلُ الشَّاۃَ، وَیُجِیْبُ دَعْوَۃَ الْمَمْلُوْکِ عَلٰی خُبْزِ الشَّعِیْرِ۔ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمین پر
بیٹھ جایا کرتے تھے، زمین پر بیٹھ کر کھاتے تھے، بکری کا دودھ دوہ لیتے تھے اور جو کی روٹی کی دعوت دینے والے غلام کی دعوت قبول کر لیتے تھے۔ (معجم کبرانی طبرانی: ۳/ ۱۶۴/ ۱، صحیحہ: ۲۱۲۵)
اس حدیث میں سب سے اہم بات معاشرے کے انتہائی کمتر فرد کی دعوت قبول کرنا ہے، آجکل اس سنت ِ حسنہ سے مکمل بے رخی برتی جا رہی ہے اور بڑوں اور وڈیروں کی آنکھوں کے اشارے پر لوگ جوق در جوق جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ نبوی سنتوں سے عدمِ محبت اور ظاہر پرستی، چاپلوسی اور خوشامد کا نتیجہ ہے۔ دوسرا ایک اہم سبق یہ ملتا ہے کہ دعوت قبول کرنے والوں کو دعوت میں پیش کی گئی چیزوں کی عیب جوئی نہیں کرنی چاہئے، بلکہ داعی کی طرف سے جو کچھ ملے، ذوق و شوق کا اظہار کرتے ہوئے نوش کر لینا چاہئے، کیونکہ عظیم المرتبت اورعالی منزلت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غلام کی دعوت پہ لبیک کہتے تھے جبکہ اس دعوت میں پیش کی جانے والی چیز صرف جو کی روٹی ہوتی تھی۔
اگر کسی آدمی کو زندگی کی روٹین میں ان امور کا موقع نہیں ملتا تو کبھی کبھار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سمجھ کر ان کو سرانجام دینا چاہئے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَجْلِسُ عَلَی الْأَرْضِ، وَیَأْکُلُ عَلَی الْأَرْضِ، وَیَعْتَقِلُ الشَّاۃَ، وَیُجِیْبُ دَعْوَۃَ الْمَمْلُوْکِ عَلٰی خُبْزِ الشَّعِیْرِ۔ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمین پر
بیٹھ جایا کرتے تھے، زمین پر بیٹھ کر کھاتے تھے، بکری کا دودھ دوہ لیتے تھے اور جو کی روٹی کی دعوت دینے والے غلام کی دعوت قبول کر لیتے تھے۔ (معجم کبرانی طبرانی: ۳/ ۱۶۴/ ۱، صحیحہ: ۲۱۲۵)
اس حدیث میں سب سے اہم بات معاشرے کے انتہائی کمتر فرد کی دعوت قبول کرنا ہے، آجکل اس سنت ِ حسنہ سے مکمل بے رخی برتی جا رہی ہے اور بڑوں اور وڈیروں کی آنکھوں کے اشارے پر لوگ جوق در جوق جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ نبوی سنتوں سے عدمِ محبت اور ظاہر پرستی، چاپلوسی اور خوشامد کا نتیجہ ہے۔ دوسرا ایک اہم سبق یہ ملتا ہے کہ دعوت قبول کرنے والوں کو دعوت میں پیش کی گئی چیزوں کی عیب جوئی نہیں کرنی چاہئے، بلکہ داعی کی طرف سے جو کچھ ملے، ذوق و شوق کا اظہار کرتے ہوئے نوش کر لینا چاہئے، کیونکہ عظیم المرتبت اورعالی منزلت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غلام کی دعوت پہ لبیک کہتے تھے جبکہ اس دعوت میں پیش کی جانے والی چیز صرف جو کی روٹی ہوتی تھی۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 11197
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ يَهُودِيًّا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى خُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ فَأَجَابَهُ وَقَدْ قَالَ أَبَانُ أَيْضًا أَنَّ خَيَّاطًا
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو کی روٹی اور بو دار سالن کی دعوت دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی دعوت قبول فرمائی۔ راوی حدیث ابان نے ایک دفعہ یوں ذکر کیا کہ دعوت دینے والا شخص درزی تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11197]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13860 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13896»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 11198
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ قَدِمَ مُعَاذٌ الْيَمَنَ أَوْ قَالَ الشَّامَ فَرَأَى النَّصَارَى تَسْجُدُ لِبَطَارِقَتِهَا وَأَسَاقِفَتِهَا فَرَوَّى فِي نَفْسِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ يُعَظَّمَ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ النَّصَارَى تَسْجُدُ لِبَطَارِقَتِهَا وَأَسَاقِفَتِهَا فَرَوَّيْتُ فِي نَفْسِي أَنَّكَ أَحَقُّ أَنْ تُعَظَّمَ فَقَالَ لَوْ كُنْتُ آمُرُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا وَلَا تُؤَدِّي الْمَرْأَةُ حَقَّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهَا كُلَّهُ حَتَّى تُؤَدِّيَ حَقَّ زَوْجِهَا عَلَيْهَا كُلَّهُ حَتَّى لَوْ سَأَلَهَا نَفْسَهَا وَهِيَ عَلَى ظَهْرِ قَتَبٍ لَأَعْطَتْهُ إِيَّاهُ
سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ یمن یا شام میں آئے اور عیسائیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے لیڈروں اور پادریوں کو سجدہ کرتے ہیں، انھوں نے اپنے دل میں سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس تعظیم کے زیادہ مستحق ہیں، پھر جب وہ واپس آئے تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے عیسائیوں کو دیکھا ہے کہ وہ اپنے لیڈروں اور پادریوں کو سجدہ کرتے ہیں اور مجھے اپنے دل میں خیال آیا کہ کہ آپ اس تعظیم کے زیادہ مستحق ہیں؟ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں نے کسی کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کے لئے سجدہ کرنے کا حکم دینا ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے، بیوی اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا نہیں کر سکتی، جب تک کہ وہ اپنے خاوند کے کما حقہ حقوق ادا نہ کرے، اگر خاوند عورت کو وظیفہ زوجیت کے لئے طلب کرے اور وہ پالان کے اوپر بیٹھی ہو تو اس عورت کو خاوند کا مطالبہ پورا کرنا پڑے گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11198]
تخریج الحدیث: «حديث جيّد، أخرجه ابن ماجه: 1853، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19403 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19623»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ بیوی کو ہر صورت میں خاوند کی اطاعت کا خیال رکھنا چاہیے، دورِ حاضر کی ناشکری خواتین کے لیے لمحۂ فکریہ ہے، جن کی نگاہ صرف اور صرف خاوند کے منفی پہلو پر پڑتی ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث جيّد
حدیث نمبر: 11199
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ إِنَّهُ أَتَى الشَّامَ فَرَأَى النَّصَارَى فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَقُلْتُ لِأَيِّ شَيْءٍ تَصْنَعُونَ هَذَا قَالُوا هَذَا كَانَ تَحِيَّةَ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلَنَا فَقُلْتُ نَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَصْنَعَ هَذَا بِنَبِيِّنَا فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُمْ كَذَبُوا عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ كَمَا حَرَّفُوا كِتَابَهُمْ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَبْدَلَنَا خَيْرًا مِنْ ذَلِكَ السَّلَامَ تَحِيَّةَ أَهْلِ الْجَنَّةِ
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہ ارض شام میں گئے (اس سے آگے گزشتہ حدیث کی طرح ہے) یہ کہتے ہیں میں نے ان سے پوچھا تم اپنے ان پیشواؤں کو سجدے کیوں کرتے ہو؟ انہوں نے بتلایا کہ ہم سے پہلے انبیاء (کی شریعتوں) میں سلام کا یہی طریقہ تھا۔ تو میں نے کہا (اگر بات یہی ہے) تو ہم اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ہم اپنے نبی کے ساتھ یہ کام کریں۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے جس طرح اپنی مذہبی کتابوں میں تحریف کی، اسی طرح اپنے انبیاء پر جھوٹ باندھے، بے شک اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان کے سلام سے بہتر سلام، اہل جنت والا سلام ہمیں دیا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11199]
تخریج الحدیث: «حديث جيّد دون قوله: انھم كذبوا علي انبيائھم الي آخر الحديث۔ وھذا اسناد ضعيف لاضطرابه، اخرجه البزار: 1461، والحاكم: 4/ 172، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19404 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19624»
الحكم على الحديث:
حديث جيّد دون قوله: انھم كذبوا علي انبيائھم الي آخر الحديث۔ وھذا اسناد ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 11200
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ قُومُوا بِنَا نَسْتَغِيثُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْمُنَافِقِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُقَامُ إِلَيَّ إِنَّمَا يُقَامُ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف تشریف لائے تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمارے ساتھ اٹھو تاکہ اس منافق کے بارے میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد حاصل کریں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مدد طلب کرنے کے لیے میرا ارادہ نہیں کیا جاتا، اللہ تعالیٰ کا قصد کیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11200]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن لھيعة، ولابھام الراوي عن عبادة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22706 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23082»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے کہ یہ منافق، صحابۂ کرام کو اذیت پہنچاتا ہو، اس حدیث میں کھڑا ہونے کا مقصد مدد طلب کرنا ہے، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناپسند کیا کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کھڑا ہوا جائے۔ اس باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تواضع کا بیان ہے۔ اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انتہائی متواضع اور منکسرالمزاج شخصیت کے حامل تھے، آپ اپنی تعریف سن کر خوش نہیں ہوتے تھے، بلکہ اپنی تعریف میں مبالغہ سن کر تعریف کرنے والے کو منع فرماتے اور کہتے کہ میں تو محمد بن عبداللہ ہوں، اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن لھيعة