🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

14. بَابُ مَا جَاءَ فِي كَلامِهِ ﷺ وَصَمْتِهِ وَمَزَاحِهِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاموشی، گفتگو اور مزاح کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11238
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ كَلَامُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصْلًا يَفْقَهُهُ كُلُّ أَحَدٍ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُهُ سَرْدًا
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گفتگو اس قدر واضح ہوتی تھی کہ اسے ہر کوئی بخوبی سمجھ سکتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیز تیز نہ بولتے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11238]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3567،ومسلم: 2493، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25077 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25591»
وضاحت: فوائد: … بعض لوگ گفتگو کرتے وقت اتنا رک رک کر بولتے ہیں کہ سامعین اکتاہٹ اور بوریت میں مبتلا ہو جاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تیز تیز نہ بولنے سے مراد اس طرح رک رک کر بولنا نہیں ہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گفتگو میں اعتدال ہوتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ لفظوں کو جلد بازی سے ادا کرتے تھے کہ ان میں التباس پیدا ہو جائے اور نہ اتنا ٹھہر ٹھہر کو بولتے تھے کہ سامعین کو اگلے کلمے کا انتظار رہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3567
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11239
عَنْ سِمَاكٍ قَالَ قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ فَكَانَ طَوِيلَ الصَّمْتِ قَلِيلَ الضَّحِكِ وَكَانَ أَصْحَابُهُ يَذْكُرُونَ عِنْدَهُ الشِّعْرَ وَأَشْيَاءَ مِنْ أُمُورِهِمْ فَيَضْحَكُونَ وَرُبَّمَا يَتَبَسَّمُ
سماک کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: کیا آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محفل میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوتا رہا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ زیادہ تر خاموش رہنے والے اور کم ہنسنے والے تھے، صحابۂ کرام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں اشعار اور اپنے امور سے متعلقہ باتوں کا ذکر کر کے ہنستے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بسااوقات تبسم فرماتے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11239]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 670، 2322، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20810 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21095»
وضاحت: فوائد: … بلا شک و شبہ عام دنیوی قانون یہی ہے کہ وہی سربراہ اپنی عوام کے ہاں معزز قرار پاتا ہے، جو کم از کم سنجیدہ اور باوقار ہو، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قیادت و سربراہیت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفات کا اندازہ ہو جانا چاہیے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ ہمیشہ موڈ میں رہتے تھے اور نہ مکمل گھل مل کر ہر خوشی اور لطف اندوزی کے معاملے میں شریک ہوتے تھے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 670
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11240
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ فَإِنَّكَ تُدَاعِبُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک میں صرف حق ہی کہتا ہوں۔ بعض صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک آپ بھی ہمارے ساتھ ہنسی مذاق کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں صرف حق ہی کہتا ہوں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11240]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه البيھقي: 10/ 248، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8481 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8462»
وضاحت: فوائد: … اگر بسا اوقات اور مخصوص مواقع پر میانہ روی کے ساتھ ہنسی مذاق کر لیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا،لیکن اگر اس میں افراط اختیار کیا اور حد سے بڑھا جائے تو ایسا کرنے والوں کا رعب اور جمال ختم ہو جاتا ہے،دل پر مردہ پن غالب آ جاتا ہے، بیوقوفوں کو جرأت ملتی ہے اور نتیجہ شرّ کے علاوہ کچھ نہیں ملتا، کہنے والے نے کیا خوب کہا:
أُھَازِلُ حَیْثُ الْھَزْلُ یَحْسُنُ بِالْفَتٰی وَاِنِّیْ اِذْ اَجِدُ الرِّجَالَ لَذُوْ جِدٍّ
میں اس وقت مذاق کر لیتا ہوں، جب نوجوان کو مذاق اچھا لگتا ہے۔ لیکن جب میں مردوں کو پاتا ہوں تو سنجیدگی والا ہوتا ہوں۔
بسا اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنسی مذاق کر رہے ہیں، لیکن اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سچ کے دائرے سے نہیں نکلتے تھے، جیسا کہ اگلی حدیث سے واضح ہوتاہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11241
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَحْمَلَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّا حَامِلُوكَ عَلَى وَلَدِ نَاقَةٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَصْنَعُ بِوَلَدِ نَاقَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهَلْ تَلِدُ الْإِبِلَ إِلَّا النُّوقُ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سواری طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم تجھے اونٹنی کے بچے پر سوار کریں گے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اونٹنی کے بچے کو کیا کروں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اوہو، اونٹوں کو اونٹنیاں ہی جنم دیتی ہیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11241]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 4998، والترمذي: 1991، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13817 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13853»
وضاحت: فوائد: … مزید دیکھیں حدیث نمبر (۹۹۱۰) والا باب۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11242
عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ صَيْفِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ صُهَيْبًا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ تَمْرٌ وَخُبْزٌ فَقَالَ ادْنُ فَكُلْ فَأَخَذَ يَأْكُلُ مِنَ التَّمْرِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بِعَيْنِكَ رَمَدًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا آكُلُ مِنَ النَّاحِيَةِ الْأُخْرَى قَالَ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
عبد الحمید بن صیفی اپنے باپ وہ اپنے دادے سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے خشک کھجوراور روٹی پڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب ہو جا اور کھا۔ پس اس نے کھانا شروع کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کہا: بیشک تیری آنکھ بیمار ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں دوسرے کنارے سے کھا لیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بات سن کر مسکرا پڑے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11242]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين، أخرجه ابن ماجه: 3443، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23180 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23567»
وضاحت: فوائد: … ابن ماجہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ((تَاْکُلُ تَمْرًا وَبِکَ رَمَدٌ۔)) … تو کھجور کھاتا ہے، جبکہ تیری آنکھ خراب ہے۔ خشک کھجور کو ذرا زور سے چبانا پڑتا ہے، جبکہ اس سے آنکھ کو تکلیف ہوتی ہے۔
دوسرے کنارے سے مراد دوسری طرف سے چبانا ہے، دراصل اس صحابی نے بے تکلفی سے بات کی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا پڑے۔

الحكم على الحديث:
اسناده محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11243
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ شَاةً طُبِخَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَعْطِنِي الذِّرَاعَ“ فَنَاوَلَهَا إِيَّاهُ فَقَالَ ”أَعْطِنِي الذِّرَاعَ“ فَنَاوَلَهَا إِيَّاهُ ثُمَّ قَالَ ”أَعْطِنِي الذِّرَاعَ“ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا لِلشَّاةِ ذِرَاعَانِ قَالَ ”أَمَّا إِنَّكَ لَوْ الْتَمَسْتَهَا لَوَجَدْتَهَا“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بکری کا گوشت پکایا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی ذراع (اگلی ٹانگ)کا گوشت لا دو۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لادی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی دوسری اگلی ٹانگ کا گوشت لا دو۔ انہوں نے وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لا کر دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: مجھے اس کی اگلی ٹانگ کا گوشت لا دو۔ اب کی بار سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بکری کی اگلی تو دوہی ٹانگیں ہوتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! اگر تم تلاش کرتے تو تمہیں اور بھی مل جاتی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11243]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد،اخرجه ابن حبان: 6484، والنسائي في الكبري: 6659، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10706 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10717»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: صُنِعَ لِرَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شَاۃٌ مَصْلِیَّۃٌ فَأُتِیَ بِہَا فَقَالَ لِی: ((یَا أَبَا رَافِعٍ! نَاوِلْنِی الذِّرَاعَ۔)) فَنَاوَلْتُہُ فَقَالَ: ((یَا أَبَا رَافِعٍ! نَاوِلْنِی الذِّرَاعَ۔)) فَنَاوَلْتُہُ ثُمَّ قَالَ: ((یَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِی الذِّرَاعَ۔)) فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَہَلْ لِلشَّاۃِ إِلَّا ذِرَاعَانِ، فَقَالَ: ((لَوْ سَکَتَّ لَنَاوَلْتَنِی مِنْہَا مَا دَعَوْتُ بِہِ۔)) قَالَ وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یُعْجِبُہُ الذِّرَاعُ۔ … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بکری کا گوشت بھونا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے لایا گیا، سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابو رافع! مجھے دستی پکڑائو۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکڑا دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو رافع! مجھے ایک اور دستی پکڑائو۔ میں نے وہ بھی پکڑا دی، پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو رافع! مجھے ایک اور دستی پکڑائو۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بکری کی صرف دو ہی دستیاں ہوتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو خاموش رہتا تو جب تک میں دستی طلب کرتا رہتا، تو مجھے پکڑاتا رہتا۔ دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دستی کا گوشت بہت پسند تھا۔(مسند احمد: ۲۴۳۶۰، معجم کبیر طبرانی: ۲۳۸۵۹) یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ تھا کہ ہنڈیا سے دو سے زیادہ دستیاں نکالی جاتیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده جيّد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں