الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ مَا جَاءَ فِي كَلامِهِ ﷺ وَصَمْتِهِ وَمَزَاحِهِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاموشی، گفتگو اور مزاح کا بیان
حدیث نمبر: 11238
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ كَلَامُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصْلًا يَفْقَهُهُ كُلُّ أَحَدٍ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُهُ سَرْدًا
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گفتگو اس قدر واضح ہوتی تھی کہ اسے ہر کوئی بخوبی سمجھ سکتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیز تیز نہ بولتے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11238]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3567،ومسلم: 2493، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25077 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25591»
وضاحت: فوائد: … بعض لوگ گفتگو کرتے وقت اتنا رک رک کر بولتے ہیں کہ سامعین اکتاہٹ اور بوریت میں مبتلا ہو جاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تیز تیز نہ بولنے سے مراد اس طرح رک رک کر بولنا نہیں ہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گفتگو میں اعتدال ہوتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ لفظوں کو جلد بازی سے ادا کرتے تھے کہ ان میں التباس پیدا ہو جائے اور نہ اتنا ٹھہر ٹھہر کو بولتے تھے کہ سامعین کو اگلے کلمے کا انتظار رہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3567
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11238 in Urdu