🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

26. بَابٌ وَمِنْ مُعْجِزَاتِهِ ﷺ زِيَادَةُ الطَّعَامِ بِبَرَكَتِهِ
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے کھانے میں اضافہ ہو جانا بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11311
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَتَى أَبُو طَلْحَةَ بِمُدَّيْنِ مِنْ شَعِيرٍ فَأَمَرَ بِهِ فَصُنِعَ طَعَامًا ثُمَّ قَالَ لِي يَا أَنَسُ انْطَلِقْ ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَادْعُهُ وَقَدْ تَعْلَمُ مَا عِنْدَنَا قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ عِنْدَهُ فَقُلْتُ إِنَّ أَبَا طَلْحَةَ يَدْعُوكَ إِلَى طَعَامِهِ فَقَامَ وَقَالَ لِلنَّاسِ ”قُومُوا“ فَقَامُوا فَجِئْتُ أَمْشِي بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى أَبِي طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ فَضَحْتَنَا قُلْتُ إِنِّي لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَرُدَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ أَمْرَهُ فَلَمَّا انْتَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَابِ قَالَ لَهُمْ ”اقْعُدُوا“ وَدَخَلَ عَاشِرَ عَشَرَةٍ فَلَمَّا دَخَلَ وَأُتِيَ بِالطَّعَامِ تَنَاوَلَ فَأَكَلَ وَأَكَلَ مَعَهُ الْقَوْمُ حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ قَالَ لَهُمْ ”قُومُوا وَلْيَدْخُلْ عَشَرَةٌ مَكَانَكُمْ“ حَتَّى دَخَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَأَكَلُوا قَالَ قُلْتُ كَمْ كَانُوا قَالَ كَانُوا نَيْفًا وَثَمَانِينَ قَالَ وَفَضَلَ لِأَهْلِ الْبَيْتِ مَا أَشْبَعَهُمْ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ دو مد جولے کر آئے، انہوں نے اس سے کھانا تیار کرنے کا حکم دیا، پھر مجھ سے کہا: انس! تم جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلا لاؤ اور تم جانتے ہی ہو کہ کھانا تھوڑا سا ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچا تو صحابۂ کرام بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے۔ میں نے عرض کیا کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ آپ کو کھانے کے لیے بلاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں کو بھی کھڑے ہونے کا حکم دیا۔ وہ بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے آگے چلتا ہوا سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور ان کو صورت حا ل سے باخبر کیا (کہ وہ تو سارے لوگ آ رہے ہیں)۔ انھوں نے کہا: تونے تو آج ہمیں رسوا کر دیا ہے۔ میں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کو رد نہیں کر سکتا تھا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دروازے پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو وہیں بیٹھ جانے کا حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود نو صحابہ کے ہمراہ اندر چلے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اندر آئے اور کھانا پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ والوں نے خوب سیر ہو کر کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم اٹھ جاؤ اور تمہاری جگہ مزید دس آدمی آجائیں۔ یہاں تک کہ سب لوگوں نے آکر کھانا تناول کیا۔ عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ اس دن صحابۂ کرام کی تعداد کیا تھی؟ انہوں نے بتایا کہ اسی سے زائد افراد تھے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر بھی اتنا کھانا بچ گیا جس نے گھر والوںکو سیر کر دیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11311]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2040، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13427 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13461»

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 2040
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11312
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عَمِلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَنْدَقِ قَالَ فَكَانَتْ عِنْدِي شُوَيْهَةُ عَنْزٍ جَذَعٌ سَمِينَةٌ قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَوْ صَنَعْنَاهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَمَرْتُ امْرَأَتِي فَطَحَنَتْ لَنَا شَيْئًا مِنْ شَعِيرٍ وَصَنَعَتْ لَنَا مِنْهُ خُبْزًا وَذَبَحَتْ تَلْكَ الشَّاةَ فَشَوَيْنَاهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا أَمْسَيْنَا وَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْإِنْصِرَافَ عَنِ الْخَنْدَقِ قَالَ وَكُنَّا نَعْمَلُ فِيهِ نَهَارًا فَإِذَا أَمْسَيْنَا رَجَعْنَا إِلَى أَهْلِنَا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ صَنَعْتُ لَكَ شُوَيْهَةً كَانَتْ عِنْدَنَا وَصَنَعْنَا مَعَهَا شَيْئًا مِنْ خُبْزِ هَذَا الشَّعِيرِ فَأُحِبُّ أَنْ تَنْصَرِفَ مَعِي إِلَى مَنْزِلِي وَإِنَّمَا أُرِيدُ أَنْ يَنْصَرِفَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَحْدَهُ قَالَ فَلَمَّا قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ قَالَ ”نَعَمْ“ ثُمَّ أَمَرَ صَارِخًا فَصَرَخَ أَنْ انْصَرِفُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَيْتِ جَابِرٍ قَالَ قُلْتُ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَقْبَلَ النَّاسُ مَعَهُ قَالَ فَجَلَسَ وَأَخْرَجْنَاهَا إِلَيْهِ قَالَ فَبَرَكَ وَسَمَّى ثُمَّ أَكَلَ وَتَوَارَدَهَا النَّاسُ كُلَّمَا فَرَغَ قَوْمٌ قَامُوا وَجَاءَ نَاسٌ حَتَّى صَدَرَ أَهْلُ الْخَنْدَقِ عَنْهَا
سیدناجابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ خندق میں کام کیا، میر ے ہاں موٹی تازی ایک کھیری عمر کی چھوٹی سی بکری تھی۔ میں نے سوچا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کھانے کے لیے اس بکری کو پکا لیں۔ میں نے اپنی اہلیہ کو حکم دیاتو اس نے کچھ جو پیس کر آٹا تیارکیااور ہمارے لیے روٹیاں پکائیں۔ اس بکری کو ذبح کیا اور ہم نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بھونا، جب شام ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خندق سے واپسی کا ارادہ فرمایا، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم دن کو کام کیا کرتے اور شام کے وقت اہل و عیال میں واپس آجاتے تھے، میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہمارے ہاں ایک چھوٹی سی بکری تھی، میں نے آپ کے لیے وہ تیار کی ہے اور جو کی کچھ روٹیاں بھی ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ میرے گھر تشریف لے چلیں۔ سیدنا جابر کہتے ہیں: میں چاہتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکیلے ہی میرے ساتھ تشریف لے چلیں، لیکن جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گزارش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اعلان کرنے والے کو حکم دیا تو اس نے اعلان کردیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ جابر کے گھر چلو۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اعلان سن کر میں نے إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا۔ بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ دوسرے لوگ آگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ گئے، ہم نے تیار شدہ کھانا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے برکت کی دعا کی اور اللہ کا نام لے کر کھانا کھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد لوگ باری باری آتے گئے، جب ایک گروہ فارغ ہو کر اٹھ جاتا تو دوسرے لوگ آجاتے یہاںتک کہ تمام اہل خندق کھانا کھا گئے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11312]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه بنحوه البخاري: 3070، 4102،ومسلم: 2039، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15028 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15093»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11313
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ حَدِيقَتَيْنِ وَلِيَهُودِيٍّ عَلَيْهِ تَمْرٌ وَتَمْرُ الْيَهُودِيِّ يَسْتَوْعِبُ مَا فِي الْحَدِيقَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”هَلْ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ الْعَامَ بَعْضًا وَتُؤَخِّرَ بَعْضًا إِلَى قَابِلٍ“ فَأَبَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِذَا حَضَرَ الْجِدَادُ فَآذِنِّي“ قَالَ فَآذَنْتُهُ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَجَعَلْنَا نَجُدُّ وَيُكَالُ لَهُ مِنْ أَسْفَلِ النَّخْلِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِالْبَرَكَةِ حَتَّى أَوْفَيْنَاهُ جَمِيعَ حَقِّهِ مِنْ أَصْغَرِ الْحَدِيقَتَيْنِ فِيمَا يَحْسِبُ عَمَّارٌ ثُمَّ أَتَيْنَا هُمْ بِرُطَبٍ وَمَاءٍ فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا ثُمَّ قَالَ ”هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ“
سیدناجابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد احد کے دن شہید ہوگئے تھے، وہ اپنے ترکہ میں دو باغ چھوڑ گئے تھے، ان کے ذمہ ایک یہودی کا کھجوروں کی صورت میں قرضہ تھا، یہودی کا قرض دونوں باغوں کے پھل سے بھی زائد تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس یہودی سے فرمایا: کیا تم اتنی رعایت دے سکتے ہو کہ کچھ قرض اس سال لے لو اور کچھ آئندہ سال۔ اس نے انکار کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: جب کھجور کا پھل تیار ہو تو مجھے اطلاع کرنا۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی آگئے۔ ہم پھل اتارنے لگے اور کھجور کے نیچےیہودی کے لیے کھجوروں کا وزن کیا جانے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برکت کی دعافرماتے رہے۔ ہم نے چھوٹے باغ کے پھل سے یہودی کو سارا قرض ادا کر دیا۔ اس کے بعد ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تازہ کھجور اور پانی پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور صحابہ نے کھجوریں کھائیں اور پانی پیا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی ان نعمتوں میں سے ہے، جن کی بابت تم سے پوچھ گچھ ہوگی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11313]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3580، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15206 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15276»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3580
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11314
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ أَبَاهُ تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ قَالَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقُلْتُ لَهُ إِنَّ أَبِي تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ وَلَيْسَ عِنْدِي إِلَّا مَا يُخْرِجُ نَخْلُهُ فَلَا يَبْلُغْ مَا يَخْرُجُ سُدُسَ مَا عَلَيْهِ قَالَ فَانْطَلِقْ مَعِي لِكَيْلَا تَفَحَّشَ عَلَيَّ الْغُرَمَاءُ فَمَشَى حَوْلَ بَيْدَرٍ مِنْ بَيَادِرِ التَّمْرِ ثُمَّ دَعَا وَجَلَسَ عَلَيْهِ وَقَالَ ”أَيْنَ غُرَمَاؤُهُ“ فَأَوْفَاهُمُ الَّذِي لَهُمْ وَبَقِيَ مِثْلُ الَّذِي أَعْطَاهُمْ
۔(دوسری سند) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ان کے والد مقروض شہید ہوئے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا کر عرض کی کہ میرے والد فوت ہوگئے ہیں اور ان کے ذمے قرض ہے،جبکہ میرے پاس کھجوروں کے پھل کے سوا ادائیگی کے لیے اور کچھ نہیں ہے اور کھجوروں کا پھل قرض کا چھٹا حصہ بھی نہیں ہوگا۔ تو آپ میرے ساتھ چلیں تاکہ قرض خواہ میرے ساتھ سخت کلامی نہ کریں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھجور کے ڈھیروں میں سے ایک ڈھیر کے گرد چکر کاٹنے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی اور بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: اس کے قرض خواہ کہاں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق ان کو پورے کر دیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس قدر ان کو دیا اتنا ہی پھل باقی بچا رہا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11314]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14997»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14997
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11315
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطْعِمُهُ فَأَطْمَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسْقَ شَعِيرٍ فَمَا زَالَ الرَّجُلُ يَأْكُلُ مِنْهُ هُوَ وَامْرَأَتُهُ وَوَصِيفٌ لَهُمْ حَتَّى كَالُوهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَوْ لَمْ تَكِيلُوهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ وَلَقَامَ لَكُمْ“
سیدناجابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کھانا طلب کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ایک وسق (یعنی ساٹھ صاع) جو عطا فرمائے۔ کافی عرصہ تک وہ آدمی، اس کی بیوی اور ان کا ایک لڑکا اس سے کھاتے رہے۔ یہاں تک کہ ایک دفعہ انہوں نے اس کو ماپ لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اس کی پیمائش نہ کرتے تو تم اس سے کھاتے رہتے اور وہ تمہارے پاس موجود رہتا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11315]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2281، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14621 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14676»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2281
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11316
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أُمَّ مَالِكٍ الْبَهْزِيَّةَ كَانَتْ تُهْدِي فِي عُكَّةٍ لَهَا سَمْنًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَا بَنُوهَا يَسْأَلُونَهَا الْإِدَامَ وَلَيْسَ عِنْدَهَا شَيْءٌ فَعَمَدَتْ إِلَى عُكَّتِهَا الَّتِي كَانَتْ تُهْدِي فِيهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَتْ فِيهَا سَمْنًا فَمَا زَالَ يَدُومُ لَهَا أُدْمُ بَنِيهَا حَتَّى عَصَرَتْهُ وَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”أَعَصَرْتِيهِ“ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ ”لَوْ تَرَكْتِيهِ مَا زَالَ ذَلِكَ لَكِ مُقِيمًا“
سیدناجابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام مالک بہزیہ رضی اللہ عنہا چمڑے کے ایک برتن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گھی بطور ہدیہ بھیجا کرتی تھیں۔ایک دفعہ ان کے بیٹوں نے ان سے سالن طلب کیا، ان کے پاس ایسی کوئی چیز نہ تھی، جسے وہ بطور سالن دیتیں، وہ جس برتن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گھی بھیجا کرتی تھیں، اس میں انہوں نے تھوڑا سا گھی پایا، ایک عرصہ تک وہی گھی ان کے بیٹوں کے لیے سالن کا کام دیتا رہا۔ یہاں تک کہ ایک دفعہ انہوں نے اسے نچوڑ دیا۔ پھر اس نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا (کہ برتن کا گھی تو ختم ہوگیا)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے اسے نچوڑا تھا؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اسے ویسے ہی استعمال کرتی رہتی تو وہ تیرے لیے کبھی ختم نہ ہوتا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11316]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2280، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14664 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14719»
وضاحت: فوائد: … اس باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعدد معجزات بیان ہوئے ہیں کہ آپ کی برکت سے کھانے کی معمولی مقدار میں اس قدر برکت ہوئی کہ وہ کھانا جو بظاہر تھوڑا ہوتا تھا، لیکن بہت بڑی تعداد کی ضرورت پوری کر جاتا۔ حدیث نمبر (۱۱۳۰۳)کے مطابق تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس برکت سے خود اتنا تعجب ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اپنی رسالت کی گواہی دی اور اس شہادت کی بنا پر جنت میں جانے کی خوشخبری بھی سنا دی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2280
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں