الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. بَابٌ وَمِنْ مُعْجِزَاتِهِ ﷺ زِيَادَةُ الطَّعَامِ بِبَرَكَتِهِ
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے کھانے میں اضافہ ہو جانا بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ ہے
حدیث نمبر: 11314
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ أَبَاهُ تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ قَالَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقُلْتُ لَهُ إِنَّ أَبِي تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ وَلَيْسَ عِنْدِي إِلَّا مَا يُخْرِجُ نَخْلُهُ فَلَا يَبْلُغْ مَا يَخْرُجُ سُدُسَ مَا عَلَيْهِ قَالَ فَانْطَلِقْ مَعِي لِكَيْلَا تَفَحَّشَ عَلَيَّ الْغُرَمَاءُ فَمَشَى حَوْلَ بَيْدَرٍ مِنْ بَيَادِرِ التَّمْرِ ثُمَّ دَعَا وَجَلَسَ عَلَيْهِ وَقَالَ ”أَيْنَ غُرَمَاؤُهُ“ فَأَوْفَاهُمُ الَّذِي لَهُمْ وَبَقِيَ مِثْلُ الَّذِي أَعْطَاهُمْ
۔(دوسری سند) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ان کے والد مقروض شہید ہوئے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا کر عرض کی کہ میرے والد فوت ہوگئے ہیں اور ان کے ذمے قرض ہے،جبکہ میرے پاس کھجوروں کے پھل کے سوا ادائیگی کے لیے اور کچھ نہیں ہے اور کھجوروں کا پھل قرض کا چھٹا حصہ بھی نہیں ہوگا۔ تو آپ میرے ساتھ چلیں تاکہ قرض خواہ میرے ساتھ سخت کلامی نہ کریں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھجور کے ڈھیروں میں سے ایک ڈھیر کے گرد چکر کاٹنے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی اور بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: اس کے قرض خواہ کہاں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق ان کو پورے کر دیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس قدر ان کو دیا اتنا ہی پھل باقی بچا رہا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11314]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14997»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14997
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11314 in Urdu