الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي لِبَاسِهِ ﷺ وَزِينَةٍ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لباس اور زینت کا بیان
حدیث نمبر: 11354
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”حُبِّبَ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا النِّسَاءُ وَالطِّيبُ وَجُعِلَ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا میں سے میرے نزدیک پسندیدہ چیزیں بیویاں اور خوشبو ہے اور نماز میں میری آنکھوں کی ٹھنڈک رکھ دی گئی ہے۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11354]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه النسائي: 7/ 61، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:12283 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12318»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۸۱۵۷)
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 11355
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْتَحِلُ بِالْإِثْمَدِ كُلَّ لَيْلَةٍ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ وَكَانَ يَكْتَحِلُ فِي كُلِّ عَيْنٍ ثَلَاثَةَ أَمْيَالٍ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر رات کو سونے سے پہلے اثمد سرمہ ڈالا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر آنکھ میں تین سرمچو ڈالتے تھے۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11355]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه الترمذي في الشمائل: 49، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3320 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3320»
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 11356
عَنْ أَبِي رِمْثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْضِبُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ وَكَانَ شَعْرُهُ يَبْلُغُ كَتِفَيْهِ أَوْ مَنْكِبَيْهِ
سیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہندی اور کتم بوئی کے ساتھ بال رنگتے تھے، آپ کے بال کندھوں تک پہنچتے تھے۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11356]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 22/ 726، والبيھقي في دلائل النبوة: 1/ 238، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17497 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17636»
وضاحت: فوائد: … کتم: یمن میں پائی جانے والی ایک بوٹی ہے، یہ سرخی مائل سیاہ رنگ نکالتی ہے، جبکہ مہندی کا رنگ سرخ ہوتا ہے، اگر کتم اور مہندی کو ملایا جائے تو سیاہی اور سرخی کا درمیانہ رنگ نکلتا ہے، جس کو ہم (رضی اللہ عنہما صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رضی اللہ عنہا رحمتہ اللہ علیہ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہا own)کہتے ہیں۔
خلاصہیہ ہے کہ داڑھی اور سر کے بالوں کو وہ رنگ نہیں لگایا جا سکتا جو واضح طور پر کالا نظر آتا ہو، مزید دیکھیں حدیث نمبر (۸۲۰۱) والا باب اور اس سے اگلا باب۔
خلاصہیہ ہے کہ داڑھی اور سر کے بالوں کو وہ رنگ نہیں لگایا جا سکتا جو واضح طور پر کالا نظر آتا ہو، مزید دیکھیں حدیث نمبر (۸۲۰۱) والا باب اور اس سے اگلا باب۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 11357
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَاصِيَتَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْدُلَهَا ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب تک چاہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بالوں کو سیدھا چھوڑے رکھا، پھر مانگ نکالنا شروع کر دی۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11357]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين غير حماد بن خالد فمن رجال مسلم، والصواب في ھذا الحديث الارسال، أخرجه الحاكم: 2/ 606، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13254 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13287»
وضاحت: فوائد: … عادات میں جب تک نہی نہ آئے، جواز قائم رہتا ہے، چونکہ مانگ نکالنے سے نہی وارد نہیں ہوئی، لہذا مانگ نکالنا جائز ہے اور نہ نکالنا بھی جائز ہے، کیونکہ نکالنے کا حکم بھی وارد نہیں ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مانگ نکالنا بھی ثابت ہے اور نہ نکالنا بھی، اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس کی بابت شریعت نے کوئی مخصوص حکم نہیں دیا، حالات کے تحت دونوں میں سے کسی کو بھی اختیار کیا جا سکتا ہے، ایسے مسائل میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اہل کتاب کی موافقت کرنا ان کی تالیف قلبی کے لیے تھا کہ شاید وہ اسلام کی طرف مائل ہو جائیں، مگر جب محسوس ہوا کہ ان کی موافقت مفید نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی موافقت چھوڑ دی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اہل کتاب کی موافقت اس لیے بھی پسند تھی کہ وہ کم از کم، دعوے کی حد تک ہی سہی، سماوی دین پر عمل پیرا ہونے کے دعویدار تھے، اس کے برعکس مشرکین تو پکے بت پرست تھے۔ مانگ درمیان میںنکالنی چاہیے کیونکہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت مبارکہ درمیان سے مانگ نکالنا ہی تھی۔ واللہ اعلم۔
مزید دیکھیں حدیث نمبر (۸۲۲۵) والا باب۔
مزید دیکھیں حدیث نمبر (۸۲۲۵) والا باب۔
الحكم على الحديث:
رجاله ثقات رجال الشيخين غير حماد بن خالد فمن رجال مسلم