الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ مَا جَاءَ فِي عِبَادَاتِهِ ﷺ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عبادات کا بیان
حدیث نمبر: 11358
عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنَ الْأَيَّامِ يَعْنِي بِالْعِبَادَةِ قَالَتْ كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً وَأَيُّكُمْ كَانَ يُطِيقُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُطِيقُ
علقمہ سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عبادت کے لیے ایام مخصوص فرمایا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عبادات کے لیے ایام مخصوص یا متعین نہیں کیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اعمال دائمی ہوتے تھے۔ عمل کرنے کے لیے جس قدر استطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکھتے تھے تم میں سے کون اتنی استطاعت رکھتا ہے؟ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11358]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1987،ومسلم: 783، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25562 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26077»
وضاحت: فوائد: … زیادہ تر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عبادات دائمی اور مسلسل ہوتی تھیں، ما سوائے چند مواقع کے، جیسے شعبان میں روزے رکھنا، شب قدر میں قیام کرنا۔
الحكم على الحديث: صحیح